افغان طالبان نے امریکا سے مذاکرات کے لیے 14رکنی ٹیم کا اعلان کر دیا

طالبان کی مذاکراتی ٹیم میں مولوی ضیاء الرحمان، مولوی عبدالسلام حنفی، شیخ شہباب الدین و دیگر شامل ہوں گے۔ افغان طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل فروری 14:40

افغان طالبان نے امریکا سے مذاکرات کے لیے 14رکنی ٹیم کا اعلان کر دیا
کابل (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 فروری2019ء) افغان طالبان نے امریکا سے مذاکرات کے لیے 14رکنی ٹیم کا اعلان کر دیا۔انٹرینیشل میڈیا سے جاری ہونے والی خبروں کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق طالبان کی مذاکراتی ٹیم میں مولوی ضیاء الرحمان، مولوی عبدالسلام حنفی، شیخ شہباب الدین و دیگر شامل ہوں گے۔جب کہ شیر محمد عباس کو مذاکراتی ٹیم کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

ترجمان افغان طالبان کے مطابق ملا برادر نے امیر ہیبت اللہ آخونزادہ کی مشاورت سے ٹیم بنائی ہے اور امریکہ سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات درست سمت میں جا رہے ہیں۔جب کہ دوسری جانب ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ امریکا سے مذاکرات پر آمادہ کرنے میں کسی ملک نے کردار نہیں کیا، اس سلسلے میں ہمیشہ ہماری پالیسی کا عمل دخل تھا۔

(جاری ہے)

نجی ٹی وی کے مطابق خصوصی انٹرویو میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اگر طالبان، افغانستان میں اقتدار میں آگئے تو وہ پاکستان سے ’ برادر ملک اور پڑوسی کے تحت ‘ باہمی مفادات پر مبنی جامع تعلقات کے قیام کے لیے رسائی حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں سوویت یونین کے حملے کے دوران پاکستان، افغان پناہ گزینوں کے لیے ایک اہم مرکز رہا یہاں تک کہ افغان شہری اسے اپنا دوسرا گھر سمجھتے تھے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے امریکا سے مذاکرات کے محرکات سے متعلق بتایا کہ کن حالات میں وہ مذاکرات کے لیے تیار ہوئے اور ایک نئے سیاسی نظام کے لیے ان کا کیا نظریہ ہے جبکہ انہوں یہ اصرار بھی کیا کہ طالبان نے امریکا سے مذاکرات میں خود پہل کی۔ مذاکرات کے وقت سے متعلق سوال کے جواب میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امریکا کے حملے سے قبل طالبان نے واشنگٹن سے جنگ کے بجائے مذاکراتکا آغاز کرنے کا کہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے لیے طالبان نے 2013 میں دوحہ میں ایک سیاسی دفتر بھی کھولا تھا لیکن اس وقت واشنگٹن مذاکراتپر آمادہ نہیں تھا۔ترجمان نے بتایا کہ اب امریکا مذاکرات چاہتا ہے اس لیے انہوں نے بات چیت کا فیصلہ کیا۔ طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے سے متعلق سوال پر ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ کسی ملک نے اس سلسلے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا،اس میں ہمیشہ ہماری پیش قدمی اور پالیسی کا عمل دخل تھا۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان کے نئے سیاسی نظام میں طالبان کا کردار اہم ہوگا تاہم انہوں نے ’ صحیح وقت سے قبل‘ تفصیلات بتانے سے انکار کردیا۔انہوں نے کہا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم ایک سیاسی نظام چاہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آئندہ حکومت افغانستان میں تمام قومیتوں کی نمائندگی کریگی۔