”ڈیمز کی تعمیر کے ساتھ پانی کے استعمال میں احتیاط بھی ناگزیر“ کے موضوع پر شوریٰ ہمدرد لاہور میں ماہرین آب کا فکر انگزیز تجزیہ ،پیشن گوئیاں اور تجاویز

ڈیم کی تعمیر میں کم ازکم دس سے بیس سال کا عرصہ درکار ہوتاہے یہی وجہ ہے کہ ڈیمز کی تعمیر و تکمیل حکومتی معیاد کے دوران نہیں ہوتی اوریوں یہ ناگزیر منصوبے سیاست کی نذر ہو جاتے ہیں

منگل فروری 16:02

”ڈیمز کی تعمیر کے ساتھ پانی کے استعمال میں احتیاط بھی ناگزیر“ کے موضوع ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 فروری2019ء،نمائندہ خصوصی،سید علی بخاری) ڈیم کی تعمیر میں کم ازکم دس سے بیس سال کا عرصہ درکار ہوتاہے یہی وجہ ہے کہ ڈیمز کی تعمیر و تکمیل حکومتی معیاد کے دوران نہیں ہوتی اوریوں یہ ناگزیر منصوبے سیاست کی نذر ہو جاتے ہیں لہذا آئندہ انتخابات میں ووٹ کے حصول کی خاطر دیگر مختصر مدت والے منصوبوں کی بجائے ڈیمز کی تعمیر و تکمیل کو اوّلین ترجیحات میں شامل کیا جائے ۔

کالا باغ اوربھاشا ڈیم ایک ہی سطح کی افادیت رکھتے ہیں لیکن کالا باغ ڈیم بھاشا ڈیم کی نسبت قلیل مدت وکم اخراجات میں رہتے ہوئے تیار کیا جا سکتاہے ، ڈیمز کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ حکومت اور آنے والی حکومتیں اس سنگین قومی مسئلہ پر متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

(جاری ہے)

ماہرین کے مطابق ناقص منصوبہ بندی کی بدولت آج ہمارے تین بڑے ڈیمز میں دن بہ دن ذخیرہ آب میں کمی ہو رہی ہے اورآنے والے دنوں میں کسی ایک ڈیم کے برابرذخیرہ آب ختم ہو سکتا ہے ،پاکستان میں جون تا اگست (100دن)میں 80%آبی ذخائر دستیاب ہوتے ہیں جبکہ باقی 265یوم 20%آبی ذخائر رہ جاتے ہیں اگر سیلاب کے دنوں میں ذخیرہ آب کیلئے معقول منصوبہ بندی کی جائے تو بتدریج پانی کی کمی سے چھٹکارہ مل سکتا ہے اسی طرح پانی میں کمی کی ایک بڑی وجہ آبادی میں اضافہ بھی ہے ایک محتاط اعدادوشمار کے مطابق 1947-88 میں4کروڑ سے آبادی بڑھ کر اب 20کروڑ سے زائد ہو چکی ہے جبکہ ذخیرہ آب اُتنا یا اس سے کم ہو گیا ہے۔

پانی کے استعمال میں احتیاط کے لیے ضروری ہے عوام لناس میں شعورو آگہی مہم چلائی جائے اور عدالتی سطح پر ایسے قوانین نافذ کئے جائیں جس سے پانی کا ضیاع نہ ہو اور جہاں جہاں ضروری ہو سکے وہاں پانی کا استعمال Recycling سے کیا جائے اور قوانین کی پاسداری نہ کرنے پرخصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی جائے جو مانیٹرنگ کرتے ہوئے E-Tagطرز پر چالان کرے۔ شوریٰ ہمدرد موجودہ حکومت سے توقع رکھتی ہے کہ وہ اس اہم مسئلہ پر فوری طور پر عملی اقدامات اٹھائیں گے ۔

گذشتہ روزشوریٰ ہمدرد کا اجلاس ”ڈیمز کی تعمیر کے ساتھ پانی کے استعمال میں احتیاط بھی ناگزیر“کے موضوع پر ہمدرد مرکز لاہور میں ۔اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر انڈس واٹرمحترم شیراز جمیل میمن ،چیف انجینئرہائیڈرو ریسورس مینجمنٹ واپڈا لاہور محترم شاہد حمید،سابق کمشنر انڈس واٹر سید جماعت علی شاہ ،محترم قیوم نظامی،محترم عمر ظہیر میر،میجر(ر)صدیق ریحان،، پروفیسر محمد احمد اعوان،میجر (ر)خالد نصر،محترمہ خالدہ جمیل چوہدری ، پروفیسر خالد محمود عطاء ،پروفیسر نصیر اے چوہدری، رانا امیر احمد خان،محترم طفیل اختر،محترمہ پروین سجل ،محترمہ فرح دیبا، محترمہ شائستہ ایس حسن و دیگر نے شرکت کی۔

اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآن مجید و فرقان حمید سے ہوا جسکی سعادت پرنسپل گورنمنٹ کالج سبزہ زار پروفیسر محمد احمد اعوان نے حاصل کی بعد ازاں اجلاس کی باضابطہ کاروائی کی ابتداء کی گئی،

اسپیکر شوریٰ ہمدرد لاہور محترمہ بشریٰ رحمن کی بوجوہ علالت کے پیش نظر اور محترمہ کی ہدایت پر محترم قیوم نظامی نے اجلاس کے اوائل میں اسپیکر کے فرائض انجام دیئے لیکن اپنی اہم مصروفیات کے باعث انہوں نے یہ ذمہ داری اعلیٰ تعلیم یافتہ ،پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے مالک نوجوان ممبر شوریٰ ہمدر دلاہور محترم عمر ظہیر میر کو پیش کی جو انہوں نے بخوبی نبھائی۔

چیف انجینئرہائیڈرو ریسورس مینجمنٹ واپڈا لاہور محترم شاہد حمیدنے ڈیمز کی تعمیر و تکمیل اور منصوبہ بندی سے متعلق اپنے ادارے کی کارکردگی بذریعہ ملٹی میڈیا پروجیکٹر پیش کیں انہوں نے بتایا کہ موسم گرما میں ہمارے پاس 80%پانی دستیاب ہوتا ہے اس ذخیرہٴ آب کا ہمارے پاس انتظام نہ ہونے کی صورت بلکہ یوں کہیے کہ ڈیمز نہ ہونے کے سبب یہ پانی سیلاب کا باعث بنتا ہے اگر اسکا ذخیرہ آب کا اہتمام کر لیا جائے تو اسے موسم سرما میں جب ہمارے پاس 20%پانی رہ جاتا ہے تو اسے استعمال کیا جا سکتا ہے ،بد قسمتی سے ہمارے پاس صرف دس فیصد پانی ذخیرہ کرنے کے وسائل موجود ہیں باقی پانی سمندر کی نذر ہو کر ضائع ہو جاتا ہے ،پانی کے اس درپیش مسائل کی دوسری بڑی وجہ بڑھتی ہوئی آبادی بھی ہے ،حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان اس وقت صرف تین ماہ کے لیے پانی ذخیرہ کرسکتا ہے جس کا گراف دیگر ممالک سے بہت نیچے ہے ،انہوں نے مزید بتایا کہ واپڈا نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ کچھ ابتدائی مالی تعاون آپ کریں باقی واپڈ خود مینج کرلے گا اگر حکومت نے ہماری تجویز قبول کر لی تو غالب اُمید ہے کہ آئندہ سالوں میں ہمارے مہمند ڈیم جیسے پراجیکٹس جلد مکمل ہو جائیں گے ۔

ایڈیشنل کمشنر انڈس واٹرمحترم شیراز جمیل میمن نے کہا کہ دورِ حاضر میں دُنیا کی سات ارب کی آبادی اُسی پانی کو استعمال کر رہی ہے جو پہلے روز سے اُسے میسر ہے صرف مینجمنٹ کی ضرورت ہے ،ہمارے پاس بے پناہ گلیشئرز ہیں جو پگھل رہے ہیں اُسکا ذخیرہ ضروری ہے ،اس وقت لازم ہے کہ عوام میں مذہبی ،معاشی اور طبی لحاظ سے پانی میں احتیاط سے متعلق شعورو آگہی مہم چلائی جائے اگر ہم پینے ،کھانے پکانے اور وضو وغیرہ کے علاوہ دیگر استعمال میں پانی کو ’ری سائیکل ‘کر کے استعمال کریں جیسا کہ دیگر ممالک کر رہے ہیں تو نمایاں فرق محسوس ہو گا اس کے لیے حکومتی سطح پر جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کروانا ضروری ہے ،کسان اورزمینداروں کو زراعت کے حوالے سے جدید طریقہٴ کار استعمال کروایا جائے ،انہوں نے کہا کہ بھارت کو ہمارے خلاف کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہم خود اپنی کوتاہیوں کی بدولت اجتمائی خودکشی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

ضروری ہے کہ حکمران تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر بہتر حکمت عملی کے ساتھ منصوبہ بندی کریں ۔محترم عمر ظہیر میر نے کہا کہ ملک خداداد پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی نعمت سے نوازا ہے اگر ہم ان قدرتی وسائل کو بہتر انداز سے بچا نہ سکے تو یہ ہماری بد قسمتی ہو گی اس وقت پاکستان کے پاس تقریباً چھوٹے بڑے صرف 155ڈیمز ہیں اگر ہم دوسرے ممالک میں صرف چین کی طرف دیکھیں تو ہزاروں کی تعداد میں ڈیمز انہوں نے تعمیر کر لیے ۔


میجر (ر)صدیق ریحان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں کی اکنامی پانی پر منحصر ہے اور اس وقت پاکستان غفلت کی نیند سو رہا ہے جبکہ انڈیا بھر پور کام کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ اَسّی کی دہائی میں چاروں صوبوں کے کالا باغ ڈیم سے متعلق شکوک وشباہت دور کر دیئے گئے تھے تو پھر کیا وجہ ہے کہ آج تک ملک دُشمن عناصر صوبائیت کے نام پر اس کی تکمیل میں آڑ بنے ہوئے ہیں ہمیں اپنی صفوں کو درست کرنا ہوگا انہوں نے بتایا کہ بھاشا ڈیم بیس میں تیار ہونے والا پراجیکٹ ہے جبکہ کالاباغ ڈیم قدرتی طور پر تیار ہے ہم اُسکو استعمال کیوں نہیں کرتے ۔

سابق کمشنر انڈس واٹرسید جماعت علی شاہ نے کہاکہ اس وقت متعلقہ اداروں کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے یہ بڑے منصوبے طویل المعیاد مدت کی وجہ سے ہمیشہ پس پشت ڈال دیئے جاتے ہیں جبکہ ان کو ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جانا چاہیے ۔پروفیسر محمد احمد اعوان نے کہا کہ کائنات میں زندگی پانی کی بدولت ہے ،قرآن میں اللہ تعالیٰ نے کئی جگہوں پر اسراف کرنے سے منع فرمایا بلکہ تنبہہ کی کہ اسراف سے اور اسراف کرنے والوں سے بچو۔آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جسکا مفہوم یہ ہے کہ’پانی کے استعمال میں احتیاط برتو چاہیے تم سمندر کے کنارے ہی کیوں نہ ہو‘بلکہ آقا ﷺ خود دوران وضو ایک مد پانی اور دوران غسل ایک سعا پانی استعمال فرماتے تھے ۔