اینٹوں کے بھٹوں پر چائلڈ لیبر کیخلاف درخواست پر چیف سیکرٹری اور سیکرٹری لیبر کو نوٹس جاری

حکم کے باوجود لیبر انسپکٹرز کیوں تعینات نہیں کیے گئے‘ عدالت کا دوران سماعت سرکاری حکام سے استفسار

منگل فروری 17:12

اینٹوں کے بھٹوں پر چائلڈ لیبر کیخلاف درخواست پر چیف سیکرٹری اور سیکرٹری ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 فروری2019ء) لاہور ہائیکورٹ نے اینٹوں کے بھٹوں پر چائلڈ لیبر کیخلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری لیبر کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا ۔گزشتہ روز لاہو رہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس جواد حسن نے شیراز ذکا ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ پنجاب حکومت چائلڈ لیبر روکنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

(جاری ہے)

اینٹوں کے بھٹوں پر 15سال سے کم عمر بچوں سے مزدوری کروائی جاتی ہے۔سموگ کے موسم میں اینٹوں کے بھٹے بند ہونے پر مزدوروں کو اجرت بھی نہیں دی جاتی۔لیبر قوانین کے تحت بھٹہ مالکان مزدوروں کو اجرت دینے کے پابند ہیں۔درخواست گزارنے استدعا کی اینٹوں کے بھٹوں پر چائلڈ لیبر روکنے کا حکم دیا جائے۔دوران سماعت عدالت نے سرکاری حکام سے استفسار کیا بتایا جائے عدالتی حکم کے باوجود لیبر انسپکٹرز کیوں تعینات نہیں کیے گئے۔عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری لیبر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 15 مارچ تک ملتوی کردی۔