قانون میں ترمیم کئے بغیر سیف سٹی اتھارٹی کیسے ای چالان کرسکتی ہے لاہور ہائیکورٹ

چیف آپریٹنگ آفیسر سیف سٹی اور سی ٹی او 13 مارچ کو وضاحت پیش کریں ‘ تحریری حکم

منگل فروری 17:12

قانون میں ترمیم کئے بغیر سیف سٹی اتھارٹی کیسے ای چالان کرسکتی ہے لاہور ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 فروری2019ء) لاہور ہائیکورٹ نے سیف سٹی اتھارٹی کی جانب سے قانون میں ترمیم کئے بغیر ای چالان کرنے کے کیس کا تحریری حکم جاری کردیا ۔لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس مزمل اختر شبیر نے تحریری حکم جاری کیا ۔ عدالت نے اپنے تحریر ی حکم میں استفسار کیا کہ قانون میں ترمیم کئے بغیر سیف سٹی اتھارٹی کیسے ای چالان کرسکتی ہے ۔

چیف آپریٹنگ آفیسر سیف سٹی اور سی ٹی او 13 مارچ کو وضاحت پیش کریں ۔

(جاری ہے)

درخواست گزار حمزہ بٹ ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 سیکشن 116 اے کے تحت ای چالان کا کوئی تصور نہیں ۔ای چالان اور سیف سٹی اتھارٹی کی ایسوسی ایشن کے لیے موٹر وہیکل ایکٹ میں ترمیم کی ضرورت ہے ۔کریمینل لیگل سسٹم کے تحت سزا صرف مجرم کو ہی دی جا سکتی ہے۔ٹریفک پولیس کی جانب سے ای چالان قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کی بجائے گاڑی کے مالک کو بھجوایا جاتا ہے۔عدالت سیف سٹی اور ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کو بھجوائے گئے ای چالان کالعدم قرار دے ۔