ادارے اور وسائل میئر کے ماتحت کیے بغیر کراچی کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوسکتے ،وسیم اختر

قانون کے مطابق شہریوں کے زیادہ تر بنیادی مسائل کے حل سے مئیر کا تعلق ہی نہیں رہا ڈی ایم سی یا حکومت سندھ اس کی ذمہ دار ہے،میئر کراچی کا کاٹی میں خطاب

منگل فروری 17:56

ادارے اور وسائل میئر کے ماتحت کیے بغیر کراچی کے بنیادی مسائل حل نہیں ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 فروری2019ء) مئیر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ جب تک کراچی کے شہری ادارے اور وسائل مئیر کراچی کے ماتحت اور ایک چھتری کے نیچے نہیں ہوں گے شہر کے بنیادی مسائل حل نہیں ہو سکتے ۔ کراچی کے مسائل حل نہیں ہوئے تو پاکستان ترقی نہیں کر سکتا ۔ ایس ایل جی اے 2013 کے بعد شہر کا 12 فیصد علاقہ بھی مئیر کے پاس نہیں۔ قانون کے مطابق شہریوں کے زیادہ تر بنیادی مسائل کے حل سے مئیر کا تعلق ہی نہیں رہا ڈی ایم سی یا حکومت سندھ اس کی ذمہ دار ہے۔

کوئی اگر یہ سمجھتا ہے کہ وفاقی یا صوبائی حکومت شہر کے بنیادی مسائل حل کر سکتی ہے یہ ممکن نہیں ۔ کاٹی کے صنعت کار ملک کو جو دے رہے ہیں اس کے مقابلے میں اس علاقے کے مسائل کے حل پر توجہ نہیں دی گئی ۔ تاجر اور صنعت کار سیالکوٹ کے تاجروں کی طرح اپنے مسائل کے حل پر خود توجہ دیں۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر کاٹی کے صدر محمد دانش خان سینئیر نائب صدر فراض الرحمن لوکل گورنمنٹ کمیٹی کے چیئرمین زبیر چھایا ،گلزار فیروز ۔ ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز ایس ایم طحہ معروف تاجر،صنعت کار بھی موجود تھے ۔ مئیر کراچی نے کہا کہ جن مسائل کا تذکرہ ہوا ان سے میں پوری طرح واقف ہوں ۔مگر ایس ایل جی اے 3013 کے تحت مئیر کراچی سے تمام اختیارات واپس لے لئے گئیقانون میں بنیادی مسائل کے حل کی ذمہ داری ڈی ایم سی اور حکومت سندھ کی ہے مئیر کراچی دو کروڑ روپے سے زائد کا منصوبہ نہیں بنا سکتا ۔

کاٹی کے صنعت کار ملک کو جو دے رہے ہیں اس کے مقابلے میں اس علاقے کے مسائل کے حل پر توجہ نہیں دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک شہر کے تمام ادارے ایک چھتری کے نیچے نہیں ہوں گے کراچی کے مسائل حل نہیں ہو سکتے ۔بلدیہ عظمی کراچی کی آمدنی بہت کم ہیں آمدنی کے ادارے حکومت سندھ نے اپنے پاس رکھ لئے ہیں ۔ کے ایم سی کی آمدنی سے ملازمین کی تنخواہیں بھی نہیں دی جا سکتی ہم کوشش کے باوجود ریونیو میں اضافہ نہیں کر سکتے کیونکہ وہ محکمے ہی ہمارے پاس نہیں ۔

مئیر کراچی نے کہا کہ کراچی کے تاجروں اور صنعت کاروں کو کراچی دشمنی پر آواز اٹھانی ہو گی ۔ کراچی کی آبادی بہت کم دیکھا کر کراچی دشمنی کا مظاہرہ کیا گیا ۔ کراچی کی آبادی آج تین کروڑ ہے جب گنتی ہی درست نہیں ہوئی تو مسائل کیسے حل ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ میں تین سال سے کہہ رہا ہوں کراچی کے مسائل پر توجہ دی جائے مگر کراچی کے منتخب مئیر کی کوئی سن ہی نہیں رہا ۔

انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسیاں ہی غلط ہیں دنیا بھر میں کچرے سے بجلی پیدا کی جاتی ہے ہم اس کو اٹھانے کے لئے وسائل خرچ کرتے ہیں ۔ مئیر کراچی کے پاس 12 فیصد علاقہ ہے شہر میں جس قدر تجاوزات اور قبضہ ہے اس کو کون اور کیسے ہٹائے گا درجنوں ادارے اپنی حدود میں زمین کے مالک ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے دو میٹنگ ہوئی ان کو کراچی کے بارے میں فکر مند پایا مگر مسائل کے حل پر عملدرآمد کب ہو گا اس کا معلوم نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے صنعت کار سیالکوٹ کے تاجروں کی طرح اپنے مسائل کے حل پر خود توجہ دیں۔ میں محدود وسائل میں رہتے ہوئے کوشش کر رہا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ مسائل کو حل کر سکوں مگر اس سے کوئی تبدیلی نہیں آئے گی کیونکہ یہ محدود ترقیاتی عمل ہے کراچی کے لئے بڑے ترقیاتی پیکیج کی ضرورت ہے گزشتہ 14 سال سے اس شہر پر توجہ ہی نہیں دی گئی اس سے مسائل میں روز بروز اضافہ ہوا اور اب مسائل ہی مسائل ہیں اب ان کو حل کرنے کے لئے بڑے ترقیاتی پیکیج پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بلدیہ کے پاس تیرا اسپتال ہیں جو تباہ حال ملے تھے ان کو درست کر رہا ہوں جب کہ تباہ حال پارکوں کو ترقی دے رہے ہیں ۔ فائر بریگیڈ سمیت دیگر اداروں کو بہتر کیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں کام کرنے کے لئے تیار ہوں مگر جو پالیسیاں ہیں اس سے عوام کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ حکومت پاکستان کو سب سے زیادہ اہمیت ان صنعتی علاقوں کو دینا چاہیے اگر کراچی کے صنعتی علاقوں پر توجہ ہو جائے اور ان کو ترقی دی جائے تو کسی سے پیسہ مانگنے کی ضرورت نہیں اس ملک کو کراچی ہی چلا لے گا ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا سیاسی نظام ایسا ہے کہ الیکشن جیتنیکے بعد ایک دوسرے کے خلاف باتوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ کراچی کے شہریوں کو مسائل سے چھٹکارا دلانے کے لیے ہم سب کو سنجیدگی اختیار کرنا ہو گی ۔ برساتی نا لے سیوریج لائن کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں جب کہ آدھے سے زیادہ قبضہ ہو چکا ان سب چیزوں کو درست کرنے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بھر پور تعاون اور توجہ کی ضرورت ہے ۔

اس سے قبل تاجر رہنما صدر کاٹی محمد دانش خان نے کہا کہ کاٹی پاکستان میں سب سے بڑا صنعتی علاقہ ہے جہاں ساڑھے چار ہزار یونٹ ہیں ۔ ایک بلین ڈالر ایکسپورٹ ہے 50 کروڑ روپے روزانہ ٹیکس قومی خزانے میں جمع ہوتا ہے 15 لاکھ افراد کو روز گار مہیا کیا جاتا ہے ۔ مگر ہمارے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے بہت سارے اداروں کی وجہ سے مسائل کے حل میں مزید مشکلات پیدا ہوگئی ہیں ۔

معلوم ہی نہیں ہوتا کون سے ادارے کا کیا کام ہے ۔ علاقے کے سڑکیں، نالیبند اور کچرے کے ڈہیروں پر کاروبار ہو رہا ہے ۔ اس پر توجہ ہونا چاہئے ۔ چیئرمین لوکل گورنمنٹ کمیٹی زبیر چھایا نے کہا کہ اس شہر کے ساتھ جو ہوا ہم نے آنکھوں سے دیکھا دنیا بھر میں مئیر کا دفتر بنیادی مسائل کے حل کا ذمہ دار ہوتا ہے مگر کراچی میں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کس ادارے کی کیا ذمہ داری ہے ۔ہم بہت مایوس ہیں اس لئے سڑکوں کی مرمت اور نالوں کی صفائی کے لئے صدر اور گورنر کے پاس جانا پڑتا ہے ۔علاقے کا سیوریج نظام مکمل تباہ ہو گیا لہذا سیوریج نالوں میں چل رہا ہے ۔سرکاری سطح پر ان علاقوں پر توجہ ہونی چاہیے ۔