وزیراعظم بجلی گیس کے بل اور کچن تک کا خرچہ جیب سے دیتے ہیں

میرے قائد آپ کی ایسی ہی باتوں کی وجہ سے مجھے آپ سے عقیدت ہے،بحیثیت ترجمان وزیراعلی میں جلد تفصیلات سے آگاہ کر رہا ہوں۔ ارکانِ پنجاب اسمبلی ک تنخواہوں میں اضافے پر وزیر اعظم کے مایوسی کے اظہار کے بعد ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب کا ردعمل

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات مارچ 16:33

وزیراعظم بجلی گیس کے بل اور کچن تک کا خرچہ جیب سے دیتے ہیں
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مارچ2019ء) وزیراعظم کا ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ اس حوالے سے انہوں نے ٹویٹ بھی کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے فیصلے سے شدید مایوسی ہوئی ہے۔جب ہم عوام کو بنیادی ضروریات دینے کے قابل نہیں تو یہ فیصلہ نامناسب ہے۔ہمارے پاس عوام کو بنیادی سہولیات دینے کے لیے وسائل نہیں ہیں۔

یہ فیصلہ ناقابل قبول ہے۔
ارکن پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے بعد وزیر اعظم کے مایوسی کے اظہار پر ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب کا ردعمل سامنے آیا ہے،جس پر انہوں نے کہا ہے کہ میرے قائد آپ کی ایسی ہی باتوں کی وجہ سے مجھے آپ سے عقیدت ہے۔مجھے پتہ ہے آپ اپنے بجلی گیس کے بل اور کچن تک کا خرچہ جیب سے دیتے ہیں۔

(جاری ہے)

میں ذاتی حیثیت میں اس سے رنجیدہ ہوں اور خوش نہیں ہوں۔ بحیثیت ترجمان وزیراعلی میں جلد تفصیلات سے آگاہ کر رہا ہوں۔
خیال رہے گذشتہ روز بھی یراعظم عمران خان نے پنجاب اسمبلی کے ارکان کی تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر نوٹس لیا تھا۔وزیراعظم عمران خان نے اس حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے رابطہ کیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہیں خیبرپختونخوا اسمبلی کے ارکان سے زیادہ نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔واضح رہے ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا بل اسمبلی میں باضابطہ طور پر پیش کیا گیا۔اسپیکر نے بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا۔جس میں ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہ 80 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

بل ایوان میں پیش کرنے کی تحریک حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی۔بل میں ارکان کی تنخواہ اور مراعات بڑھانے کی تجویز دی گئی تھی۔ ارکان اسمبلی کی بنیادی تنخواہ 18ہزار سے بڑھا کر اسی ہزار روپے ماہانہ کرنے کیہ تجویز کی گئی۔ڈیلی الاؤنس ایک ہزار سے بڑھ کر 4 ہزار، ہاؤس رینٹ 29 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کی تجویز دی گئی تھی۔یوٹیلیٹی الاؤنس 6 ہزار سے بڑھا کر 20 ہزار روپے تجویز کیا گیا ہے۔مہمانداری کا الاؤنس 10 ہزار سے بڑھا کر 20 ہزار روپے کرنے کی تجویز کی گئی ہے۔اس وقت ارکان اسمبلی کو 83 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ اور مراعات مل رہی ہیں۔