بیرونِ ملک میں پاکستانی خاتون ماہر فلکیات کا اعزاز

ڈاکٹر طیبہ ظفر انٹارٹکا میں جا کر تحقیق کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون ہوں گی

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ جمعرات مارچ 21:13

بیرونِ ملک میں پاکستانی خاتون ماہر فلکیات کا اعزاز
کیمبرا(اردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔14مارچ2019ء) پاکستانی خاتون ماہر فلکیات کا آسٹریلیا میں بڑا اعزازحاصل کر لیا۔ ڈاکٹر طیبہ انٹارٹکا جاکر تحقیقات کرنے کے لیے منتخب ہونے والے دنیا کے 80قابل ترین سائنسدانوں میں سے ایک ہیں۔ ڈاکٹر طیبہ ظفر انٹار ٹکا میں جا کر فلکیات پر تحقیقات کریں گی۔ انکا تعلق پاکستان کے شہرلاہور سے ، انہوں نے جامع پنجاب سے طبیعات میں ماسٹرز کی ڈگری لی انہوں نے ماسٹرز میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور تقریباََ دو سال تک جامع پنجاب میں پڑھاتی رہیں ، اس کے بعدوہ فلکیات کے شعبہ میں تحقیق کرنا چاہتی تھیں تبھی انہیں فلکیات میں پی ایچ ڈی کے لیے ڈنمارک کی ایک یونیورسٹی میں وظیفہ مل گیا جہاں سے انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی اور پھر فرانس سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی جہاں انہوں نے یورپ کی سب سے بڑی 32میٹر لمبی ٹیلی سکوپ پر تحقیقاتی کام کیا، یاد رہے کہ یہ32میٹر لمبی ٹیلی سکوپ 8,8میٹر کی چار ٹیلی سکوپس کو ملا کر بنائی گئی ہے۔

(جاری ہے)

اب ڈاکٹر طیبہ آسٹریلیا کی یونیورسٹی میں فلکیات کے طلباء کو اپنے علم سے مستفید کر رہی ہیں۔ حال ہی میں دنیا کے چھبیس ممالک سے 80قابل ترین سائنسدانوں کا انتخاب کیا گیا ہے جو انٹارٹکا میں جا کر فلکیات کے حوالے سے تحقیقات کریں گے، 80لوگوں کے اس گروپ میں ڈاکٹر طیبہ بھی شامل ہیں اور وہ انٹار ٹکا میں جا کر تحقیقات کرنے والی پہلی پاکستانی سائنسدان ہوں گی۔

اس کے علاوہ دنیا بھر کے بڑے بڑے تحقیقاتی اداروں میں بھی پاکستانی سائنسدان کام کر رہے ہیں، دنیا کے سب سے بڑے تحقیقاتی ادارےCERNجو کہ یورپ کا تحقیقاتی ادارہ ہے میں بہت سے پاکستانی سائنسدان کام کر رہے ہیں نواز شریف نے اپنے دور میں اس ادارے کا دورہ کیا تھا یہ وہی ادارہ ہے جس نے ’ورڈ وائڈ ویب‘ تخلیق کیا تھا۔ NASAجو کہ امریکہ کا تحقیقاتی ادارہ ہے اس میں بھی بے شمار پاکستانی خدمات انجام دے رہے ہیں اور اب ڈاکٹر طیبہ ظفر نے انٹار ٹکا میں جانے والے تحقیقاتی گروپ میں منتخب ہو کر پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔