مفتاح اسماعیل نے وزیرخزانہ اسدعمرکا مناظرے کا چیلنج قبول کرلیا

ملک میں جی ڈی پی کی شرح کم اور افراط زر بڑھ رہا ہے، حکومت نے مختصر وقت میں پاکستان کی معیشت کی رفتارسست کردی، کیا قرضوں، بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافہ سے عوام پریشان نہیں ہیں؟ سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا بیان

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات مارچ 21:23

مفتاح اسماعیل نے وزیرخزانہ اسدعمرکا مناظرے کا چیلنج قبول کرلیا
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14 مارچ2019ء ) مسلم لیگ ن کے سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے وزیرخزانہ اسد عمر کا مناظرے کا چیلنج قبول کرلیا ہے،ملک میں جی ڈی پی کی شرح کم اور افراط زر بڑھ رہا ہے، حکومت نے مختصر وقت میں پاکستان کی معاشی رفتارسست کردی،کیا قرضوں ،بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافہ سے عوام پریشان نہیں ہیں؟ سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسد عمر کان لیگ کے دور کے ساتھ موازنے پر مناظرے کا چیلنج قبول کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں قرضوں میں اضافے کی رفتار اتنی تیز نہیں تھی۔پی ٹی آئی دور میں ملکی قرض میں کتنا اضافہ ہوا؟ کیا برآمدات میں اضافہ گزشتہ دور جتنا ہے؟ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پریشان نہیں ہیں؟ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ملک میں جی ڈی پی کی شرح کم اور افراط زر بڑھ رہا ہے۔

(جاری ہے)

ہم نے افراط زر4فیصد پر دیا تھا انہوں نے 8فیصد کردیا ہے۔

حکومت نے مختصر وقت میں پاکستان کی معیشت سست کردی۔ واضح رہے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ ن لیگ کی حکومت نے بجلی کی قیمت کو انتخابی مہم کیلئے استعمال کیا تھا، اس نے ایک سال میں توانائی شعبہ میں 450 ارب روپے کا خسارہ کیا اور گیس کی کمپنیوں میں 150 ارب روپے کا نقصان کیا۔ اسد عمر نے کہا کہ اب ملک میں معیشت مستحکم دکھائی دے رہی ہے، تاہم مہنگائی مزید بڑھے گی کیونکہ بجلی اور گیس کی قیمت بڑھ رہی ہے، اس پر لوگ چیخیں گے، تاہم جب معیشت بحال ہورہی ہو تو مہنگائی بڑھتی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کیساتھ اختلافات کم ہوچکے ہیں اور قرض کے لیے مذاکرات جاری ہیں، آئی ایم ایف نے مزید اقدامات کرنے کا کہا تھا لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ نے جو اقدامات کیے وہ کافی ہیں۔اسد عمر نے کہا کہ آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ اخراجات کو کم کیا جائے اور بجلی و گیس کے نقصانات کو کنٹرول کیا جائے۔ آئی ایم ایف نے ڈالر کو بھی مارکیٹ ریٹ پر لانے کا مطالبہ کیا ہے تاہم فی الحال ڈالر کی قیمت بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔