پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان 3 ارب ڈالرز ادھار تیل کی فراہمی کا معاہدہ منسوخ ہوگیا

معاہدہ منسوخ ہونے سے حکومت کو زبردست دھچکا، تاہم معاہدہ منسوخ ہونے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں

muhammad ali محمد علی جمعرات مارچ 22:29

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان 3 ارب ڈالرز ادھار تیل کی فراہمی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مارچ2019ء) پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان 3 ارب ڈالرز ادھار تیل کی فراہمی کا معاہدہ منسوخ ہوگیا، معاہدہ منسوخ ہونے سے حکومت کو زبردست دھچکا، تاہم معاہدہ منسوخ ہونے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی معیشت اور پاکستانی حکومت کیلئے بہت بری خبر سامنے آئی ہے۔ انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبون کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان 3 ارب ڈالرز سے زائد کا تیل ادھار پر فراہم کرنے کا معاہدہ منسوخ ہوگیا ہے۔

اس حوالے سے رواں ماہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے وفود کی ملاقات طے تھی۔ ملاقات میں معاہدہ کی حتمی منظوری دی جاتی۔ تاہم متحدہ عرب امارات کی حکومت نے شیڈول ملاقات منسوخ کر دی۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے حکومت اور وزارت خزانہ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اب یہ معاہدہ ایک طرح سے منسوخ ہی ہوگیا ہے۔ بظاہر پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان 3 ارب ڈالرز سے زائد کا تیل ادھار پر فراہم کرنے کے منصوبے پر اب عمل نہیں کیا جا سکے گا۔

تاہم تاحال یہ نہیں بتایا گیا کہ اچانک کس وجہ سے دونوں ممالک کے وفود کی ملاقات منسوخ ہوئی، اور اسی باعث ادھار تیل کی فراہمی کا منصوبہ بھی منسوخ ہوگیا ہے۔ اس حوالے سے ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اچانک سامنے آنے والی یہ خبر ملکی معیشت کیلئے بڑا دھچکا ہے۔ اگر پاکستان اس معاہدے سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو جاتا، تو ایسے میں پاکستان پر بیرونی ادائیگیوں کا بوجھ بہت حد تک کم ہو جاتا۔

تاہم اب چونکہ ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ پاکستان کو متحدہ عرب امارات سے ادھار پر تیل نہیں مل سکے گا، اس لیے پاکستان پر بیرونی ادائیگیوں کا بوجھ بھی مزید بڑھ جائے گا۔ واضح رہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان 6 ارب ڈالرز کے معاشی پیکج کا معاہدہ طے پایا تھا۔ یہ معاہدہ وزیراعظم عمران خان اور اماراتی ولی عہد کی ملاقات کے دوران طے پایا تھا۔ معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو 3 ارب ڈالرز کا قرض، جبکہ 3 ارب ڈالرز کا تیل ادھار پر دینا تھا۔