پاکستان کی نیوزی لینڈ میں دہشتگرد حملے کی مذمت

پاکستانی ہائی کمیشن نیوزی لینڈ حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں، ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل

Fahad Shabbir فہد شبیر جمعہ مارچ 09:50

پاکستان کی نیوزی لینڈ میں دہشتگرد حملے کی مذمت
اسلام آباد:(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔15 مارچ 2019ء)   پاکستان نے نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ المناک واقعے کے بعد تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ نیوزی لینڈ میں مساجد میں فائرنگ کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہیں، اس المناک واقعے کے بعد پاکستانی ہائی کمیشن نیوزی لینڈ حکام سے مسلسل رابطے میں ہے اور دہشت گردی کے واقعات سے متعلق تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں نامعلوم افراد کی 2 مساجد میں فائرنگ سے 9 افراد جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوگئے، نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے آنے والی بنگلادیشی کرکٹ ٹیم بال بال بچ گئی،

ایک حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا۔

(جاری ہے)

  مسجد النور اور مسجد لنووڈ میں فائرنگ کی گئی، مساجد میں فائرنگ نماز جمعہ کے دوران کی گئی، سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، ایک مسجد میں موجود بنگلہ دیشی ٹیم کو محفوظ مقام منتقل کر دیا گیا۔

پولیس کے مطابق بنگلہ دیشی ٹیم کے کھلاڑیوں نے بھاگ کر جان بچائی۔ کپتان تمیم اقبال کا کہنا ہے مسجد میں موجود ٹیم کے تمام کھلاڑی محفوظ رہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق کرائسٹ چرچ میں مقامی وقت کے مطابق تقریباً ایک بجکر 40 منٹ پر مسلح شخص نے مسجد میں داخل ہوتے ہی اندھا دھند فائرنگ کی اور اس کی لائیو ویڈیو بھی بناتا رہا۔مقامی میڈیا کے مطابق فائرنگ کا واقعہ ہیگلے پارک کے قریب ڈینز ایونیو کی مسجد میں پیش آیا جب کہ اسی علاقے کی ایک اور مسجد میں بھی فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے حملہ آور نے فوجی یونیفارم پہن رکھی تھی، حملہ آور نے گولیوں کے دو میگزین فائر کیے۔ شہر میں تمام مساجد، سکول اور چرچ بند کر دیئے گئے۔ پولیس نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کر دی۔ دہشتگردی میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔دوسری جانب کرائسٹ چرچ اسپتال کے ترجمان نے سی این این کو بتایا کہ اسپتال میں کئی افراد کی لاشوں کو لایا گیا ہے تاہم انہوں نے تعداد بتانے سے گریز کیا جب کہ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے میں 6 افراد جاں بحق ہوئے۔

موہن ابن ابراہیم نامی عینی شاہد کے مطابق وہ فائرنگ کے وقت مسجد میں ہی موجود تھے اور تقریباً 200 کے قریب لوگ نماز کی ادائیگی کے لیے موجود تھے، حملہ آور مسجد کے عقبی دروازے سے داخل ہوا اور کافی دیر تک فائرنگ کرتا رہا۔عینی شاہد نے کہا کہ اس کا دوست علاقے کی دوسری مسجد میں تھا جس نے اُسے فون کر کے بتایا کہ جس مسجد میں وہ ہے وہاں بھی ایک مسلح شخص نے اندھا دھند فائرنگ کی اور 5 لوگ جاں بحق ہوچکے ہیں۔