مساجد میں فائرنگ کے واقعے کے بعد نیوزی لینڈ وزیراعظم کی اہم پریس کانفرنس

نیوزی لینڈ میں کسی قسم کے مذہبی تشدد کی اجازت نہیں دے سکتے،۔بہت سی معلومات ابھی سامنے نہیں لا سکتے، ذمہ داروں کو قانون کے دائرے میں لائیں گے،حملے میں 40 افراد شہید ہوئے، وزیراعظم جیسیکا آرڈن نے اسے ملک کا سیاہ ترین دن قرار دے دیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ مارچ 11:42

مساجد میں فائرنگ کے واقعے کے بعد نیوزی لینڈ وزیراعظم کی اہم پریس کانفرنس
نیوزی لینڈ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 15 مارچ 2019ء) : نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسیکا آرڈن نے ملک میں ہونے والی خوفناک فائرنگ کے واقعے کے بعد ہنگامی پریس کانفرنس کی ہے۔جس میں انہوں نے دہشت گردوں کو پیغام دیا ہے کہ تم نے ہمیں چنا لیکن ہم تہماری مذمت کرتے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے مساجد پر حملے کو دہشت گرد قرار دے دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی سیکورٹی ہائی الرٹ ہے۔

پولیس پوری طرح سے متحرک ہے۔واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔بہت سی معلومات ابھی سامنے نہیں لا سکتے۔ذمہ داروں کو قانون کے دائرے میں لائیں گے۔اس حملے میں 40 افراد جاں بحق ہوئے،30نمازی ایک مسجد میں جب کہ دس دوسری مسجد میں شہید ہوئے۔تاہم ابھی تک ہلاکتوں سے متعق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔حملے کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

وزیراعظم جیسیکا آرڈن نے اسے ملک کا سیاہ ترین دن قرار دے دیا۔

مساجد پر حملہ باقاعدہ منصبوہ بندی سے کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں کسی قسم کے مذہبی تشدد کی اجازت نہیں دے سکتے۔انہوں نے کہا ایک مشتبہ شخص کو گرفترا کیا گیا گیا،زیر حراست افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے۔مشکوک شخص کسی بھی واچ لسٹ میں شامل نہیں تھا۔واضح رہے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجدپرسفید فام انہتاپسندوں کے حملے سے 30سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں. حملہ آوروں نے خودکار میشن گنوں سے اس وقت اندھادھند فائرنگ کردی جب مساجد میں جمعہ کی نماز اداکی جارہی تھی. مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملزم نے اپنی شناخت آسٹریلوی شہری برینٹن ٹیرینٹ کے نام سے کی ہے،حملہآورفوجی وردی میں ملبوس تھا،جس کی عمر 30 سے 40 سال بتائی جارہی جبکہ ایک عورت سمیت اس کے4ساتھی شہر کے دوسرے علاقوں سے گرفتار ہوئے ہیں.