سانحہ ماڈل ٹاﺅن:نوازشریف کا آج جیل میں بیان ریکارڈ کیا جائے گا

شہبازشریف جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوگئے

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر مارچ 11:53

سانحہ ماڈل ٹاﺅن:نوازشریف کا آج جیل میں بیان ریکارڈ کیا جائے گا
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔18 مارچ۔2019ء) سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس جے آئی ٹی کی جانب سے نواز شریف کا آج کوٹ لکھپت جیل میں بیان ریکارڈ کیا جائے گا دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف شہبازشریف سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی تحقیقات کرنےوالی نئی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوگئے ، شہباز شریف الزامات پر جے آئی ٹی کو جواب داخل کرائیں گے.

تفصیلات کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر بننے والی جے آئی ٹی کا اجلاس جاری ہے، شہبازشریف سانحہ ماڈل ٹاﺅن سے متعلق نئے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوگئے، جے آئی ٹی کے ممبران چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں شہباز شریف کا بیان ریکارڈ کریں گے.

(جاری ہے)

شہبازشریف اپنے اوپرلگنے والے الزامات سے متعلق جے آئی ٹی میں جواب داخل کریں گے . تفصیلات کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس کی نئی جے آئی ٹی کی تحقیقات جاری ہے، نئی جے آئی ٹی نواز شریف کا آج کوٹ لکھپت جیل میں بیان ریکارڈ کرسکتی ہے.

یاد رہے 14 مارچ کو احتساب عدالت سے سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کیس میں ڈی ایس پی پنجاب پولیس محمد اقبال نے نواز شریف سے جیل میں تفتیش کیلئے اجازت کی درخواست کی تھی. درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف ماڈل مقدمے میں نامزد ملزم ہیں عدالت سے استدعا ہے کہ ماڈل ٹاﺅن واقعے کی تفتیش سے متعلق نواز شریف سے جیل میں ملنے کی اجازت دی جائے. جس کے بعد عدالت نے درخواست گزار ڈی ایس پی پنجاب پولیس محمد اقبال کی استدعا منظور کرتے ہوئے نواز شریف سے جیل میں تفتیش کی اجازت دے دی تھی.

یاد رہے 24 فروری کو سانحہ ماڈل ٹاﺅن مقدمے میں نامزد 7 سیاسی شخصیات کو جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے تفتیش کے لیے طلب کیا تھا، جس کے بعد خواجہ آصف ، رانا ثنااللہ اور پرویز رشید جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوچکے ہیں. جے آئی ٹی 85 سے زائد شاہدین اور 90 پولیس اہلکاروں کے بیان ریکارڈ کرچکی ہیں. خیال رہے پہلے بنی جی آئی ٹی پرعدم اطمینان کے بعد 19 نومبر 2018 کو ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی تحقیقات کے لیے نئی جے آئی ٹی بنانے کے لیے 5رکنی لارجر بنچ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا اور 5 دسمبر کو حکومت کی جانب سے کیس میں نئی جے آئی ٹی تشکیل دینے کی یقین دہانی کرانے پر سپریم کورٹ نے درخواست نمٹا دی تھی.

اس سے قبل سانحہ ماڈل ٹاﺅن استغاثہ کیس میں نامز ملزم نوازشریف، شہبازشریف ، حمزہ شہباز، راناثناءاللہ، دانیال عزیز، پرویز رشید اور خواجہ آصف سمیت دیگر 139 ملزمان کو نوٹس جاری کئے تھے. بعد ازاں 3 جنوری 2019 کو محکمہ داخلہ پنجاب نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر نئی جے آئی ٹی تشکیل دی تھی ،جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ آئی جی موٹر ویز اے ڈی خواجہ ہیں. واضح رہے کہ جون 2014 میں لاہور کے علاقے ماڈل ٹاﺅن میں جامع منہاج القرآن کے دفاتر اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر بیرئیر ہٹانے کے لیے آپریشن کیا گیا، جس میں خواتین سمیت 14 افراد جاں بحق جبکہ 90 افراد زخمی ہو گئے تھے.