کراچی، مفتی تقی عثمانی کے قافلے پر دوبارفائرنگ ،2 محافظ جاں بحق، ممتاز عالم دین محفوظ رہے

فائرنگ کا پہلا واقعہ نیپا پل کے قریب پیش آیا ،موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم ملزمان نے دارالعلوم کورنگی کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی دوسرا واقعہ شاہراہ فیصل پر نرسری کے قریب پیش آیا ،نامعلوم ملزمان نے دارالعلوم کراچی کی ہی گاڑی کو نشانا بنایا سندھ پولیس کے جوان نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے مفتی تقی عثمانی کو محفوظ رکھا ،آئی جی سندھ ، دونوں واقعات میں ملزمان نے 15 سے زائد گولیاں چلائی ہیں،کراچی پولیس چیف میری مفتی تقی عثمانی سے بات ہوئی وہ خیریت سے ہیں لیکن ان کا گارڈ جاں بحق ہوگیا، یہ واقعہ پورا ٹارگیٹڈ تھا اور وہ مفتی صاحب کو نشانہ بنانا چاہتے تھے،گورنر سندھ عمران اسماعیل وزیر اعلی سندھ نے مساجد کی سیکیورٹی سخت کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے فائرنگ کے واقعات کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کی ہدایات کردی

جمعہ مارچ 17:05

کراچی، مفتی تقی عثمانی کے قافلے پر دوبارفائرنگ ،2 محافظ جاں بحق، ممتاز ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 مارچ2019ء) کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں ممتاز عالم دین مولانا تقی عثمانی ا ور مولانا عامر شہاب کی گاڑیوں پر فائرنگ کے نتیجے میں 2محافظ جاں بحق ہوگئے ہیں ۔وزیر اعلی سندھ نے مساجد کی سیکیورٹی سخت کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے فائرنگ کے واقعات کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کی ہدایات کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں آدھے گھنٹے کے دوران فائرنگ کے 2 واقعات میں 2 افراد جاں بحق جب کہ 2 زخمی ہوگئے، پہلا فائرنگ کا واقعہ نیپا پل کے قریب پیش آیا جہاں موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم ملزمان نے دارالعلوم کورنگی کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جب کہ دارالعلوم کورنگی کے مولانا شہاب زخمی ہوگئے، مولانا شہاب کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں ان کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

(جاری ہے)

فائرنگ کا دوسرا واقعہ شاہراہ فیصل پر نرسری کے قریب پیش آیا جہاں نامعلوم ملزمان نے دارالعلوم کراچی کی ہی گاڑی کو نشانا بنایا جس میں دارالعلوم کورنگی کے نائب مہتمم مفتی تقی عثمانی سوار تھے، فائرنگ کے نتیجے میں ان کا گارڈ جاں بحق ہوگیا تاہم مفتی تقی عثمانی محفوظ رہے۔ایس ایس پی ایسٹ کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت عامر اور صنوبر خان کے نام سے ہوئی ہے جب کہ جن گاڑیوں پر فائرنگ کی گئی وہ گاڑی دارالعلوم کراچی کی ہے، واقعہ میں نائن ایم ایم پسٹل کا استعمال کیا گیا جب کہ جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پسٹل کے 9 خول برآمد ہوئے ہیں۔

دارالعلوم کے ترجمان مفتی طلحہ رحمانی کے مطابق مفتی تقی عثمانی خیریت سے ہیں۔شاہراہ فیصل پر جس گاڑی پر فائرنگ کی گئی اس کا نمبر BKE-748 ہے ور متاثرہ گاڑی مفتی تقی عثمانی کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔نیپا کے قریب گاڑی نمبر ATF-908 کو 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 ملزمان نے فائرنگ کی۔پولیس کے مطابق جائے وقوع سے 9ایم ایم پستول کے خول ملے ہیں جنہیں قبضے میں لے کر تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

مولانا تقی عثمانی کے بھتیجے سعود عثمانی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اللہ کا شکر ہے چچا مفتی تقی عثمانی حملے میں محفوظ رہے، فائرنگ سے مفتی صاحب کا محافظ شہید ہوگیا ہے جبکہ ڈرائیور زخمی ہے۔سعود عثمانی نے بتایا کہ ڈرائیور زخمی حالت میں گاڑی اس جگہ سے نکالنے میں کامیاب رہا، گاڑی میں مفتی تقی عثمانی، ان کی اہلیہ اور پوتے پوتیاں بھی موجود تھے۔

شیشے کے ٹکڑوں سے کچھ بچے معمولی زخمی ہیں۔آئی جی سندھ سید کلیم امام نے واقعے کے حوالے سے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مفتی تقی عثمانی واقعے میں بالکل محفوظ ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس کے جوان نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے مفتی تقی عثمانی کو محفوظ رکھا جبکہ دوسری گاڑی پر فائرنگ میں بھی ایک شخص کے جاں بحق اور ایک کے زخمی کی اطلاع ہے۔

انہوں نے کہا کہ مفتی تقی عثمانی کے ساتھ سیکیورٹی موجود تھی اور وہ ہر جمعہ کو بیت المکرم مسجد میں نماز پڑھانے آتے تھے۔ایڈیشنل آئی جی کراچی امیر شیخ کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات میں ملزمان نے 15 سے زائد گولیاں چلائی ہیں۔گاڑی پر فائرنگ کے دونوں واقعات ایک ہی سلسلے کی کڑی ہے جو کہ دہشت گردی ہے۔ فائرنگ کے واقعے کے بارے میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے انچارج راجا عمر خطاب کا کہنا تھا کہ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے خطرات موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس واقعے میں 2 افراد عامر شہزاد اور گارڈ صنوبر جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ نرسری کے واقعے کا علم نہیں، وہاں شاید ہمارے ایک پولیس کے محافظ کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔فائرنگ کے واقعے کے بعد مفتی تقی عثمانی کے صاحبزادے عمران تقی کا کہنا تھا کہ اللہ تعالی نے مفتی تقی عثمانی کو محفوظ رکھا لیکن گارڈ جاں بحق ہوگیا۔انہوں نے بتایا کہ مفتی تقی عثمانی کے ساتھ پولیس کا ایک گارڈ موجود تھا جبکہ ایک نجی گارڈ تھا، تاہم فائرنگ کے واقعے میں دونوں گارڈ جاں بحق ہوگئے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ والد صاحب کو کبھی کوئی دھمکی نہیں ملی، وہ ایک غیر متنازع شخصیت ہیں۔ادھر گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سیکیورٹی اداروں نے بڑی جانفشانی سے شہر کے امن کو بحال کیا، پی ایس ایل میں بہت خطرات تھے لیکن ہماری ایجنسیوں نے اسے کامیاب بنایا۔انہوں نے کہا کہ میری مفتی تقی عثمانی سے بات ہوئی وہ خیریت سے ہیں لیکن ان کا گارڈ جاں بحق ہوگیا، یہ واقعہ پورا ٹارگیٹڈ تھا اور وہ مفتی صاحب کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔

گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے شبہ سرحد پار عناصر کی طرف جاتا ہے، ہم آج رات تک ملوث عناصر کو پکڑلیں گے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے، آج کا واقعہ انتہائی قابل مذمت ہے لیکن ہم نے اداروں کا ساتھ دے کر ایسے عناصر کو پکڑنا ہے۔دوسری جانب وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے شہر میں فائرنگ کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کو شہر کی سیکیورٹی سخت کرنے کی ہدایت کردی ہے، وزیر اعلی سندھ نے مساجد کی سیکیورٹی بھی سخت کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے فائرنگ کے واقعات کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کی ہدایات کی ہے۔