شکارپور میں شروع ہونے والی پولیو مہم کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت اجلاس

جمعہ مارچ 17:07

شکارپور میں شروع ہونے والی پولیو مہم کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت ..
شکارپور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 مارچ2019ء) شکارپور میں 25مارچ سے 28مارچ تک شروع ہونے والی پولیو مہم کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر آفس میں ڈپٹی کمشنر رحیم بخش میتلو کی صدارت میں اجلاس منعقد ہوا، اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈی پی سی آر انچارج ڈاکٹر سراج احمد نے کہا کے آنے والی مہم میں 50میڈیکل آفیسر، 184 ایریا انچارج اور 61فکس پوائنٹس مقرر کی گئی ہیں، انہوں نے بتایا کے کافی یوسیز میں فیلڈ ویلیڈیشن نہیں ہوئی ہے اور اسی دن پر کوریج کم آتی ہے، جس وجہ سے دو دن کی مزید کیچ اپ مہم چلانی پڑے گی، انہوں نے بتایا کے یوسی کرن کا میڈیکل آفیسر ساجد شاہ اور لیڈی ہیلتھ ورکر پولیو مہم میں دلچسپی نہیں لیتے جس وجہ سے مذکورہ یوسی میں مسلسل نو ٹیم کے بچے ملتے ہیں، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او انچارج عائشہ محمد جس کا تعلق مراکش سے ہے ،کہا کے جیکب آباد اور سکھر کے گٹروں سے پولیو وائرس کے سیمپل ملے ہیں، جس وجہ سے شکارپور میںپولیو کے وائرس ہونے کا اندیشہ ہے، انہوں نے کہا کے اتر سندھ کے مختلف اضلاع کی وزٹ کے دوران مجھے روٹین ویکسینیشن نہ لگنے کی شکایات ملی ہیں، انہوں نے کہا کے اس ایریا میں روزانہ ویکسینیشن پر بلکل توجہ نہیں دیا جا رہا ، اجلاس سے خطاب میں ڈپٹی کمشنر رحیم بخش میتلو نے کہا کے جنوری اور فروری مہم کے نتائج میں سے پتا چلا ہے کے کافی یوسیز میں نوٹیم بچے ملے ہیں، میڈیکل افسران، ایریا انچارج اور ڈی ایچ او کی ذمیواری ہے کے وہ مہم چلانے سے پہلے فیلڈ ویلیڈیشن کی جائے، روٹین ویکسینیشن پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کے اس مہم کے دوران اگر کسی علاقے سے نو ٹیم بچے ملے تو اس ٹیم، ایریا انچارج اور میڈیکل افسر کے خلاف کرمنل چارج لگا کر ایف آئی آر داخل کرائی جائے گی، اس موقعے پر ڈپٹی کمشنر رحیم بخش میتلو نے ڈاکٹر سندیپ کمار کی تین سالہ بچی کو پولیو کے قطرے پلاکر مارچ پولیو مہم کا آغاز کیا۔

متعلقہ عنوان :