Live Updates

اسد عمر کا تیل کی قیمتوں میں اضافے کا دفاع

ماضی اور موجودہ تیل کی قیمتوں کے معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ بحث کے لیے تیار ہوں. وزیرخزانہ کی صحافیوں سے گفتگو

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل اپریل 13:04

اسد عمر کا تیل کی قیمتوں میں اضافے کا دفاع
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 02 اپریل۔2019ء) حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 6.45 فیصد تک کے حالیہ اضافے سے متعلق فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے قیمتوں میں دوگنا اضافے کی تجویز دی تھی لیکن یہ مکمل طور پر صارفین پر منتقل نہیں کیا گیا. رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے منعقدہ تقریب میں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ماضی اور موجودہ تیل کی قیمتوں کے معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ بحث کے لیے تیار ہیں.

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ شہریوں اور معیشت کی مشکلات کم از کم 2 سال کے لیے تب تک جاری رہیں گی جب تک حکومت کا اقتصادی اصلاحات کی جڑیں مضبوط نہیں ہوتیں. اس موقع پر صحافیوں نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی بات کا حوالہ دیتے ہوئے اسد عمر کو یاد دلایا کہ جب وہ اپوزیشن میں تھے تو پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 40 سے 50 روپے کرنے کی حمایت کرتے تھے لیکن اب جب پی ٹی آئی اقتدار میں ہے تو یہ قیمت دوگنا ہے.

جس پر اسد عمر نے سابق اسپیکرکو چیلنج کیا کہ وہ بحث کے لیے کیمرے پر آئی، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ بتائیں گے کہ کس طرح مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے تیل کی قیمتوں کے ساتھ کھیلا. وفاقی وزیر خزانہ نے اپنی بات کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ اس وقت وہ بالکل درستے تھے کیونکہ جب بین الاقوامی تیل کی قیمتیں 30 سے 32 ڈالر فی بیرل کی حد میں تھیں اور اب یہی قیمتیں دوگنا ہوگئی ہیں.

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ریگولیٹر کی جانب سے تجویز کی گئی قیمتوں میں صرف آدھے کے اضافے کی منظوری دی‘اسد عمر نے موجودہ اور ماضی میں ٹیکس کی شرح کا مقابلہ کرنے کو اہم قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سابق حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر بہت زیادہ ٹیکس لے رہی تھی جبکہ موجودہ حکومت 10 سے 12 فیصد ٹیکس لے رہی اور اس میں بھی حال ہی میں اضافہ ہوا ہے.

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے 2 سے 3 ماہ قبل تک پیٹرولیم مصنوعات پر کم ٹیکس چارج کیا، دوسرا یہ کرنسی کی قیمت میں بھی کمی دیکھنے میں آئی اور یہ عمل اس وقت سے شروع ہوگیا تھا جب شاہد خاقان عباسی سابق وزیر اعظم تھے. وفاقی وزیر نے فورم کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ایکسچینج ریٹ اچانک ایک ڈالر کے مقابلے میں 22 روپے تک گرکیا تھا اور ہر کوئی یہ تجویز دے رہا تھا کہ روپے کی قدر زیادہ ہے جبکہ اب یہ اپنی اصل قدر کو پہنچا ہے.

ایک سوال کے جواب میں اسد عمر نے تسلیم کیا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مہنگائی میں اضافہ ہوا لیکن یہ 2008 اور 2013 میں ادائیگیوں کے توازن کے مسائل کی وجہ سے ہوا. تاہم انہوں نے ساتھ میں یہ بھی کہا کہ 2018 میں مہنگائی میں اضافہ 2008 اور 2013 میں سابق حکومتوں کے پہلے سال کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے. اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ حکومت کو متحدہ عرب امارات سے 2 ارب ڈالر، سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر اور چین سے 2.1 ارب ڈالر وصول ہوگئے ہیں، جس کے ساتھ ہی اسٹیٹ بینک کو اب یقین ہے کہ ایکسچینج ریٹ توازن برقرار رکھے گا.
ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر سے متعلق تازہ ترین معلومات