Live Updates

آج تک کوئی وزیر اعظم آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر کے پاس نہیں گیا لیکن یہ گئے،خورشید احمد شاہ

قوم ایک ہوجائے تو ڈالر 10 روپے نیچے آجائے گا مگر افرا تفری مچی ہوئی ہے لیڈر شپ قوم کو طاقتور بنانے کے لئے امید دیتی ہے یہ قوم کو امید کے بجائے چیخیں نکالنے کا کہتے ہیں آج پاکستان کا وزیر اعظم پاکستان دشمن سوچ رکھنے والے مودی کی جیت کے لئے دعا گو ہے، کسی بھی ملک کا وزیر اعظم کسی دوسرے ملک میں کسی کے جیتنے کی بات نہیں کرتا، پریس کانفرنس

جمعرات اپریل 23:18

آج تک کوئی وزیر اعظم آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر کے پاس نہیں گیا لیکن یہ ..
سکھر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 11 اپریل2019ء) پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ آج تک کوئی وزیر اعظم آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر کے پاس نہیں گیا لیکن یہ گئے، اگر قوم ایک ہوجائے تو ڈالر 10 سے 2 روپے نیچے آجائے گا مگر افرا تفری مچی ہوئی ہے،لیڈر شپ قوم کو طاقتور بنانے کے لئے امید دیتی ہے یہ قوم کو امید کے بجائے چیخیں نکالنے کا کہتے ہیں، آج پاکستان کا وزیر اعظم پاکستان دشمن سوچ رکھنے والے مودی کی جیت کے لئے دعا گو ہے، کسی بھی ملک کا وزیر اعظم کسی دوسرے ملک میں کسی کے جیتنے کی بات نہیں کرتا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھر پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ جمہوریت چلے، ہم جمہوریت کے مریض ہیں، بہت کچھ کھوچکے ہیں، یہ سلیکٹڈ لوگ ہیں انہیں جمہوریت کا کچھ نہیں پتہ، دھاندلی کے حوالے سے کمیٹی بنائی مگر کیا ہوا کچھ نہیں، پیپلز پارٹی کے جمہوریت کی بیماری میں مبتلا لوگوں نے سب جماعتوں کو جمع کیا، ان کا کہنا تھا کہ ہم سوڈان، ایتھوپیا، شام یا یمن نہیں بننا چاہتے، ہم قوم کو آفت سے بچانا چاہتے ہیں، احتساب سے ہم نے کب روکا، زرداری صاحب کتنے سال جیل رہے، بینظیر ایک کورٹ سے دوسرے کورٹ جاتی تھی، عدالتوں نے ٹیلی فون کال پر بینظیر کو سزائیں سنائی، ایک طرف بھوک و افلاس دوسری جانب تحریک ہو تو یہ ملک کی بدقسمتی ہوگی، ملک میں بڑے مسائل ہیں، ملک جن حالات سے گزر رہا ہے، اس پر بات ہونی چاہیے، قوم کو آگہی دینا سیاستدانوں کا فرض ہے، لوگ خود بھی سمجھ گئے ہیں، دیکھ رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ایسے حکمران آجاتے ہیں جو ملکی مسائل کو سمجھتے نہیں، غریبوں کی مجبوری نہیں دیکھتے جو منہ میں آتا ہے بولتے جاتے ہیں، گالم گلوچ اور کرپشن کے نام پر لوگوں کو الجھائے رکھنا چاہتے ہیں، وزیر اعظم نے اپنے وزرائ کو ٹاسک دیا کہ ڈھونڈو کرپشن کہاں کہاں ہوئی، انہوں نے بیروزگاری و مہنگائی کو کم کرنے کی ہدایت نہیں دی،بگڑی ہوئی صورتحال کو مزید بگاڑنا چاہتے ہیں، یہ لوگ کہتے ہیں کہ ڈوبی ہوئی معیشت ملی، ملک ختم تھا، بلیک لسٹ ہونیوالے تھے، ان کے وزرائ جو اپوزیشن میں ہوتے تھے انہیں صورتحال کا معلوم تھا مگر انہوں نے دودھ و شہد کی نہر بہانے کے دعوے کئے، میں فیکٹ اینڈ فگر دے رہا ہوں، مقابلہ کرنے کو تیار ہوں، سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ 2013 میں جی ڈی پی گروتھ 3.8 تھی.

آج 2018۔

(جاری ہے)

19 میں ان کی گروتھ 3.4 ہی. ان کے دور میں کوئی سیلاب نہیں آیا پھر بھی یہ صورتحال ہی.، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے مطابق 2020 میں جی ڈی پی گروتھ کم ہوگی، 2018 میں جی ڈی پی گروتھ 5.8 تھی. یہ کیسے کہتے ہیں کہ معیشت گری ہوئی ملی، یہ سب ان کی نااہلی کی وجہ سے ہوا کہ انٹرنیشنل کرنسی مل نہیں رہی، انہیں 5.8 پر گروتھ ملی جو کہ 3.4 پر آگئے، کرپشن کرپشن بہت ہوگیا، کھیلتے رہو ہم بھی کھیلتے رہینگے مگر اب خاموش نہیں بیٹھیں گے، ملکی معیشت تباہ ہورہی ہے، ایگریکلچر تباہ ہورہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی گروتھ 7.9، پاکستان کی گروتھ 3.4 ہے، سری لنکا، مالدیپ، بھوٹان جنوبی ایشیا میں ہم سب سے نیچے ہیں، یہ چیزیں ہم سب کے لئے قابل فکر ہے، مودی 15 سے 20 سال سے مسلمانوں کا خطرناک دشمن ہے، اس سے جنگ بھی ہوئی، قوم نے متحد ہوکر اپوزیشن کی حمایت کی، انڈیا کی اپوزیشن نے بھی پاکستان کے اصولوں کی حمایت کی، آج پاکستان کا وزیر اعظم پاکستان دشمن سوچ رکھنے والے مودی کی جیت کے لئے دعا گو ہے، کسی بھی ملک کا وزیر اعظم کسی دوسرے ملک میں کسی کے جیتنے کی بات نہیں کرتا، ہندوستان کے عوام کا فیصلہ انہیں کرنا ہے، یہ کہیں ہمیں مروا نہ دیں، یہ خطرہ بنتا جارہا ہے ہمارے لئے، ان کا کہنا تھا کہ افغان صدر کی حکومت ختم کرنے کی بات کرتا ہے ان کا کیا کام، ایسا کیوں.

بولتے ہو جو تردید کرنا پڑتی ہے، ہماری معیشت ایگروبیس ہے، وہ کسی زمانے میں 9 فیصد پر تھی مگر آج 3.4 پر ہے، ہم کسی کو گالی نہیں دیتے، تحریک انصاف والے ملک پر رحم کریں، پی ٹی آئی والے اپنے لیڈر کو فالو کرتے ہیں، وہ جو کہتا ہے یہ لوگ بھی وہی کہتے ہیں، یہ واوڈا کا گوشت ہے ویسے بھی حلال نہیں ہے، میں متنازع باتوں میں جانا نہیں چاہتا، ان کا کہنا تھا کہ حنیف عباسی کا کیس بند ہوگیا، آئی ایم ایف تو ڈالر کی قیمتیں بڑھانے کی بات کررہا ہے، زرداری، بلاول، شہباز شریف نے کہا کہ اکانومی پر بیٹھ کر بات کرنی چاہیے، مگر انہوں نے ہماری بات نہیں سمجھی، اپوزیشن کے پاس 65 فیصد عوام کا ووٹ ہے جبکہ حکومت کے پاس صرف 35 فیصد ہے، ہم نے ڈالر کو کنٹرول کیا تھا.

آرٹیفیشل سطح پر ڈالر کو کنٹرول نہیں کیا جاسکتا۔
ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر سے متعلق تازہ ترین معلومات