کرپٹ لوگو ں کا چہراہ ایسا نہیں ہوتا ہے جیسا میاں نواز شریف کا ہے ،ممنون حسین

متوسط اور غریب طبقہ مہنگائی کے طوفان سے زندہ درگور ہوچکا ہے ۔حکومت خرابیاں دور کرنے کی بجائے الزام تراشی میں مصروف ہے،سابق صدر آج کل فجر کی نماز پڑھ کے دوبارہ سوجاتا ہوں، 9 ساڑھے نو بجے اٹھتا ہوں پھر ٹی وی وغیرہ دیکھتا ہوں ،نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں اظہار خیال

جمعہ اپریل 17:04

کرپٹ لوگو ں کا چہراہ ایسا نہیں ہوتا ہے جیسا میاں نواز شریف کا ہے ،ممنون ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 اپریل2019ء) سابق صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ کرپٹ لوگو ں کا چہراہ ایسا نہیں ہوتا ہے جیسا میاں نواز شریف کا ہے ۔ان پر لگنے والے تمام الزامات بے بنیاد ہیں ۔متوسط اور غریب طبقہ مہنگائی کے طوفان سے زندہ درگور ہوچکا ہے ۔حکومت خرابیاں دور کرنے کی بجائے الزام تراشی میں مصروف ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے نجی ٹی وی کودیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا ۔

ممنون حسین نے کہا کہ صدر کا کام بولنا نہیں ہے۔ رائے قائم کرنا لوگوں کو حق ہے ، صدر بہت زیادہ بولتا نہیں ہے۔ بادشاہ اور ملکہ بھی سیاست میں بہت سرگرم ہو کر حصہ نہیں لیتے اور یہ طریقہ کہیں بھی رائج نہیں، پڑوسی ملک کو ہی دیکھ لیں ،صدر کی ذمہ داریاں محدود ہوتی ہیں اور وہ ہر چیز پر اظہار خیال نہیں کرتا۔

(جاری ہے)

میں نے اپنے دور صدارت میں خصوصا یونیورسٹی اوردیگر طلبہ کے ساتھ اپنا تعلق قائم رکھا، کانووکیشن اور تعلیم سے متعلق تمام تقریبات میں جاتا رہا، پہلے انگریزی میں بات کرتا تھالیکن پھر باہر سے آنے والوں کو دیکھا کہ وہ اپنی زبان میں بات کرتے ہیں جس کے بعد میں نے بھی ملک کے علاوہ بیرون ملک بھی اردو میں بات کرنا شروع کی۔

اپنے دور میں تعلیم اورصحت کے معاملات میں بہت دلچسپی لی اور بہت سے اچھے کام کیے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ کرپشن میاں نواز شریف کے قریب سے بھی نہیں گزری ۔میں نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ جو جتنا بڑا کرپٹ ہوتا ہے اس کا چہرہ اتنا ہی منحوس ہوتاہے، آپ میاں صاحب کا چہرہ دیکھ لیں کتنا شاداب اور چمکتا ہوا ہے، کرپٹ لوگوں کا چہرہ ایسا نہیں ہوتا جو میاں صاحب کا ہے۔

ان پر لگنے والے کرپشن کے الزامات بے بنیاد ہیں۔سابق صدر ممنون حسین نے کہا کہ زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو، پوری خلق خدا نے شکایتوں کے انبار لگا دیے ہیں، متوسط اور غریب طبقہ مہنگائی کے طوفان سے زندہ درگور ہوچکا ہے لیکن حکومت بجائے خرابیاں دور کرنے کے الزام تراشی کرتی رہتی ہے، ان کے پاس سوائے الزام عائد کرنے کے اور کچھ کہنے کو نہیں۔دور صدارت کے بعدکی مصروف کے حوالے سے ممنون حسین نے کہا کہ آج کل فجر کی نماز پڑھ کے دوبارہ سوجاتا ہوں، 9 ساڑھے نو بجے اٹھتا ہوں پھر ٹی وی وغیرہ دیکھتا ہوں ،اورشام کو کچھ اور لکھنے پڑھنے کا کام کرلیتا ہوں لیکن کوئی خاص قابل ذکر مصروفیت نہیں ہے۔