Live Updates

اگر 18 ویں ترمیم کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر دما دم مست قلندر ہو گا،بلاول بھٹو زر داری

کٹھ پتلی نے کہا تھا ایک کروڑ نوکریاں دینگے ، نو جوان بے روز گار ی کا رونا رو رہے ہیں ،یہ شہید بھٹو کا دیا گیا متفقہ آئین تبدیل کر نا چاہتے ہیں ہیں،کیا یہ ملک توڑنا چاہتے ہیں ،پہلے بھی ون یونٹ سے ملک ٹوٹا تھا، ہم نے جانیں دی ہیں، ہم آئین پر آنچ نہیں آنے دیں گے،صوبے مضبوط ہوں گے تو وفاق مضبوط ہو گا،ایمنسٹی اسکیم سے آپ کس کا کالا دھن سفید کرنا چاہتے ہیں، جہانگیر ترین کا، اپنا یا علیمہ باجی کا یہ نیب گردی کے ذریعے عوام کو بیوقوف بنانا چاہتے ہیں،ہم احتساب کے خلاف نہیں،کیسا احتساب ہے کہ نیب سندھ کے وزیراعلیٰ کوتو بلا لیتاہے ، کے پی کے وزیر اعلیٰ کو اربوں کی کرپشن پر ایک نوٹس نہیں دیا جاتا ہم نے آمروں کا مقابلہ کیا ہے ،ر کٹھ پتلی تمہارا بھی مقابلہ کریں گے، جلسے سے خطاب

ہفتہ اپریل 00:09

اگر 18 ویں ترمیم کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر دما دم مست قلندر ہو ..
گھوٹکی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 اپریل2019ء) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا ہے کہ اگر 18 ویں ترمیم کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر دما دم مست قلندر ہو گا، کٹھ پتلی نے کہا تھا ایک کروڑ نوکریاں دینگے ، نو جوان بے روز گار ی کا رونا رو رہے ہیں ،یہ شہید بھٹو کا دیا گیا متفقہ آئین تبدیل کر نا چاہتے ہیں ہیں،کیا یہ ملک توڑنا چاہتے ہیں ،پہلے بھی ون یونٹ سے ملک ٹوٹا تھا، ہم نے جانیں دی ہیں، ہم آئین پر آنچ نہیں آنے دیں گے،صوبے مضبوط ہوں گے تو وفاق مضبوط ہو گا،ایمنسٹی اسکیم سے آپ کس کا کالا دھن سفید کرنا چاہتے ہیں، جہانگیر ترین کا، اپنا یا علیمہ باجی کا یہ نیب گردی کے ذریعے عوام کو بیوقوف بنانا چاہتے ہیں،ہم احتساب کے خلاف نہیں،کیسا احتساب ہے کہ نیب سندھ کے وزیراعلیٰ کوتو بلا لیتاہے ، کے پی کے وزیر اعلیٰ کو اربوں کی کرپشن پر ایک نوٹس نہیں دیا جاتا ہم نے آمروں کا مقابلہ کیا ہے ،ر کٹھ پتلی تمہارا بھی مقابلہ کریں گے۔

(جاری ہے)

گھوٹکی کے علاقے خان گڑھ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ وہ قرض نہیں لیں گے کیونکہ اس سے ملک کی سلامتی گروی میں چلی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ خود کشی کر لوں گا لیکن قرض نہیں لوں گااور آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا۔انہوںنین کہاکہ جو ڈالر 100 روپے کا تھا آج 142 روپے کا ہو گیا ہے، کٹھ پتلی نے کہا تھا کہ ایک کروڑ نوکریاں دیں گے لیکن آج نوجوان بے روزگاری کا رونا رو رہے ہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ یہ شہید بھٹو کا دیا گیا متفقہ آئین تبدیل کرنا چاہتے ہیں، یہ آہستہ آہستہ 18 ویں ترمیم کو ختم کرنا چاہتے ہیں، یہ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کا حق مارنا چاہتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ یہ ون یونٹ نظام لانا چاہتے ہیں، کیا یہ ملک توڑنا چاہتے ہیں، پہلے بھی ون یونٹ سے ملک ٹوٹا تھا، ہم نے جانیں دی ہیں، ہم آئین پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔

انہوںنے کہاکہ ہم جانتے ہیں صوبے مضبوط ہوں گے تو وفاق مضبوط ہو گا مگر یہ بے نامی وزیراعظم آپ کے حقوق ختم کرنا چاہتا ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ یہ میرے گھوٹکی میں آکر کہتے ہیں وفاق دیوالیہ ہو رہا ہے، سنو کٹھ پتلی! وفاق تمہاری معاشی پالیسی سے دیوالیہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کو ختم کرنے کی کوشش ہوئی تو پھر دما دم مست قلندر ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ نااہلوں کا ٹولہ ہے ان سے ملک نہیں سنبھالا جا رہا، کوئٹہ میں اتنا بڑا سانحہ ہوا لیکن ہمارے وزیراعظم ابھی تک وہاں نہیں پہنچے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کی ایمنسٹی اسکیم ٹیکس دینے والوں کے منہ پر تھپڑ ہے، ایمنسٹی اسکیم سے آپ کس کا کالا دھن سفید کرنا چاہتے ہیں، جہانگیر ترین کا، اپنا یا علیمہ باجی کا یا ان لوگوں کا کالادھن جو آپ کو چندہ دیتے ہیں۔

بلاول نے کہاکہ کہا تھا کہ خودکشی کرلوں گا قرض نہیں لوں گا، آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائوں گا کیونکہ اس سے ملک کی سلامتی گروی ہوجاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ اور مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا، آج لوگ کھانے کے ایک نوالے کو ترس رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی جیسی کوئی حکومت نہیں دیکھی جو سال میں تین بجٹ پیش کرتی اور ہر بجٹ کے بعد مہنگائی کا طوفان لے آتی ہے، یہ غربت نہیں غریب کو ختم کررہے ہیں، ان کا ہر وعدہ اور ہرنعرہ جھوٹا نکلا۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ 50 لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کرنے والوں نے غریبوں کے گھرتجاوزات کے نام پر مسمار کردئیے ۔بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ اس وقت بارہ بارہ گھنے کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے ، بلوں میں اضافہ کیا جارہاہے ، کارخانے بند پڑ ے ہیں، ہاری روٹی کے ایک نوالہ کے لئے ترس رہے ہیں ، اس سے بڑا نقصان کیا ہوگا کہ وزیر خزانہ اس شخص کو بنایا گیا ہے جو کہتاہے کہ مجھے زراعت کے بارے میں پتہ ہی نہیں اور یہ بھی کہتاہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے عوام کی چیخیں نکل جائیں گی ، غریب جائیں تو جائیں کہا ں ۔

انہوں نے کہاکہ ادویات مہنگی کر دی گئیں ، یہ ہے تبدیلی سرکار کی پالیسی ، یہ نا اہل لوگوں کا ٹولہ ہے جو ملک کوپستی کی طر لے کر جارہے ہیں، اس سے ملک نہیں سنبھالا جارہا ، یہ نہ صر ف جھوٹے ہیںبلکہ یہ منافق بھی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ عوام ان کی منافقت سے ہوشیار رہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ذوالفقار علی بھٹو کے دیئے ہوئے آئین کو اصل صورت میں بحال کرکے دکھایا ، اس میں ہماری جدوجہد شامل ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جب پیپلز پارٹی نے حکومت بنائی تو ملک کو خراب معاشی حالات اور دیگر مشکلات کاسامنا تھا ، ہم نے معاشی حالات سنبھالے اور عوام کو اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کے وسائل کا مالک بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ میرے گھوٹکی میں آکر کہتاہے کہ اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے وفاق دیوالیہ ہوگیاہے ، سنو کٹھ پتلی وفاق اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے نہیں بلکہ تمہاری معاشی پالیسیوں کی وجہ سے دیوالیہ ہورہاہے ۔

انہوں نے کہا کہ 2018کے الیکشن میں تاریخ کی بدترین دھاندلی کی گئی ، ووٹ کی چوری نہیں بلکہ ووٹ پر ڈھاکہ ڈالا گیا ، پنجاب میں میرا راستہ روکا گیا ، مجھے جلسے کرنے کی اجازت نہیں دی گئی یہاں تک کہ پشاور میں میری نقل وحرکت پر پابندی تھی ، بلوچستان میں مجھے جانے نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ بدترین دھاندلی اور اس سلیکٹڈ وزیر اعظم کو کرسی پر بٹھانے کے باوجود ہم نے تسلیم کرلیا تھا ، ہم نہیں چاہتے تھے کے سسٹم ڈی ریل ہو ، ہم چاہتے تھے کہ یہ اپنا وقت پورا کریں اور عوام سے کئے گئے وعدے پورے کریں لیکن سو دن پورا ہونے پر ہم نے دیکھا کہ ان کی معاشی پالیسی تو معاشی دہشگردی ہے ، ان کی خارجہ پالیسی بھیک مانگنے کی پالیسی ہے ، ان کی داخلی پالیسی انتقام ہے ، یہ نیب گردی کے ذریعے عوام کو بیوقوف بنانا چاہتے ہیں۔

ہم احتساب کے خلاف نہیںہیں ، میں تو کہتاہوں کہ میرابھی احتساب کرو، ہم ایسا احتساب چاہتے ہیں کہ سب کا احتساب ہو، احتساب سے انتقام کی بونہ آتی ہو۔ یہ کیسا احتساب ہے کہ نیب سندھ کے وزیراعلیٰ کوتو بلا لیتاہے لیکن کے پی کے وزیر اعلیٰ کو اربوں کی کرپشن پر ایک نوٹس نہیں دیا جاتا یہ آمروں کے قانون سے ہم کو ڈرا نہیں سکتے ، ہم نے ان کا بھی مقابلہ کیا تھا اور کٹھ پتلی تمہارا بھی مقابلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کٹھ پتلی گھوٹکی آیا تھا ، سندھ کا نمک کھا کر کہا کہ مجھے سندھ کی ضرورت نہیں ، تم کون ہوتے ہو یہ کہنے والے ، سندھ کوتمہاری ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام وزیر اعظم کے ارد گرد کے لوگوں کوپہچانیں ، یہ وہ لوگ ہیں جو ذوالفقار علی بھٹو کا دیاگیا آئین چھیننا چاہتے ہیں ، ان کو سندھ کے وسائل چاہئے اور سندھ کی گیس چاہیے ۔
ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر سے متعلق تازہ ترین معلومات