پولیس کی ہسپتال انتظامیہ کیخلاف کاروائی کی بجائے نشوا کےوالد کو دھمکیاں

ایس پی گلشن اقبال طاہر نورانی نےکہا کہ جو بھی قدم اٹھاؤسوچ سمجھ کراٹھانا، ان کا کچھ نہیں جانا، نقصان آپ کا ہوگا،ایڈیشنل آئی جی نے رپورٹ طلب کرلی اورایس پی کو48 گھنٹے کیلئے عہدے دے ہٹا دیا

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ پیر اپریل 16:47

پولیس کی ہسپتال انتظامیہ کیخلاف کاروائی کی بجائے نشوا کےوالد کو دھمکیاں
کراچی (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔15 اپریل 2019ء) کراچی پولیس نے ہسپتال انتظامیہ کے خلاف کاروائی کی بجائے نشوا کے والد کو دھمکیاں دینا شروع کردیں،یس پی گلشن اقبال طاہر نورانی نے بچی کے والد قیصر کو دھمکی دی کہ جو بھی قدم اٹھاؤسوچ سمجھ کراٹھانا، ان کا کچھ نہیں جانا ، نقصان آپ کا ہوگا،ایڈیشنل آئی جی نے رپورٹ طلب کرلی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز کراچی میں دارالصحت ہسپتال میں ڈاکٹرزکی مجرمانہ غفلت نے 9 ماہ کی بچی کومفلوج کردیا، ڈائیریا میں مبتلا میں بچی کوانجکشن کی ٹو سی سی مقدار ڈرپ کے ذریعے دینا تھی، لیکن غیرتبیت یافتہ عملے نے انجکشن لگا دیا۔

والد قیصر نے تھانہ شارع فیصل میں مقدمے کے اندراج کیلئے درخواست جمع کرائی تو پولیس افسران نے دھمکیاں دینا شروع کردیں۔

(جاری ہے)

ایس پی گلشن اقبال طاہر نورانی نے مفلوج بچی کے والد قیصر کو دھمکی دی ہے کہ جو بھی قدم اٹھاؤ سوچ سمجھ کراٹھانا، ان کا کچھ نہیں جانا ، نقصان تمہارا اور تمہارے خاندان کا ہوگا۔ ایس پی کی ویڈیو سامنے آنے پر ایڈیشنل آئی جی نے واقعے کا نوٹس لے لیا۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی امیر شیخ نے 48گھنٹے میں ایس پی طاہر نورانی سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ایڈیشنل آئی جی نے ایس پی گلشن اقبال کورپورٹ ملنے تک عہدہ چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ بچی کے والد کا کہنا ہے کہ حیران ہوں اتنا کچھ ہوگیا ، یہ لوگ بچی کی حالت دیکھ کر بھی کہتے ہیں کہ ہسپتال انتظامیہ پر ہاتھ ہلکا رکھو۔ میری بچی آئی سی یو میں ہے اور مجھے ہی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے ایم این اے عالمگیر نے ایس پی کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی کیخلاف 100سے زائد شکایا ت ہیں۔ ایس پی کو شرم آنی چاہیے جو دلاسے کی بجائے ہراساں کررہا ہے، ایس پی کے علاقے میں منشیات کے اڈے چل رہے ہیں۔ واضح رہے گزشتہ روز کراچی کے تھانہ شارع فیصل کی حدود میں واقع  دارالصحت ہسپتال میں ڈاکٹرزکی مبینہ غفلت نے9 ماہ کی بچی کومفلوج کردیا۔

بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتہ قبل جڑواں بیٹیوں کو ڈائریا کی شکایت پراسپتال لایا تھا۔ والد قیصر نے اپنی درخواست میں بتایا کہ بچی کو جوانجکشن ڈرپ سے دیا جانا تھا اسٹاف نے وہ براہ راست بچی کی وین میں لگا دیا۔ جبکہ انجکشن کی ٹو سی سی مقدار ڈرپ کے ذریعے دینا تھی۔ لیکن ستم ظریفی یہ کی گئی کہ انجکشن کی10سی سی مقداربراہ راست بچی کولگا دی گئی۔ انجکشن لگنے سے لمحوں میں بچی کی حالت خراب ہونے لگی اورہونٹ نیلے پڑگئے۔ جس کے بعد نشوا ایک ہفتے تک وینٹی لیٹرپررہی۔ وینٹی لیٹرسے ہٹایا تو بچی پیرا لائز ہوچکی تھی۔ والد قیصر نے میری بچی کو معیز نامی اسٹاف ممبر نے غلط انجکشن دیا۔