صادق سنجرانی کے قائم مقام صدر بننے کیخلاف درخواست مسترد

اسلام آبادہائی کورٹ نے دلائل سننے کے بعد 18 دسمبرکوفیصلہ محفوظ کیاتھا

پیر اپریل 20:46

صادق سنجرانی کے قائم مقام صدر بننے کیخلاف درخواست مسترد
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 15 اپریل2019ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے قائم مقام صدربننے کیخلاف درخواست مسترد کردی ، اسلام آبادہائی کورٹ نے دلائل سننے کے بعد 18 دسمبرکوفیصلہ محفوظ کیاتھا۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامرفاروق نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی بطورقائم مقام صدراہلیت کا محفوظ فیصلہ سنادیا اور درخواست ناقابل سماعت قرار دے کرخارج کردی۔

درخواست گزار کا کہنا تھا صادق سنجرانی کی اس وقت عمر تقریبا 40 سال ہے، آئین میں صدر بننے کے لیے عمر 45 سال ہے، صادق سنجرانی نے قائمقام صدر کا عہدہ سنبھالا تو آئینی بحران پیدا ہوگا، صدرمملکت کی عدم موجودگی میں صدر مملکت کی ذمہ داریاں کون نبھائے گا۔

(جاری ہے)

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ صادق سنجرانی کو قائمقام صدر کی ذمہ داریاں نبھانے سے روکا جائے، آرٹیکل 41 کے تحت چئیرمین سینٹ کا انتخاب دوبارہ کیا جائے۔

واضح رہے کہ 12 مارچ کو چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں اپوزیشن جماعتوں کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار صادق سنجرانی کامیاب ہوئے تھے اور انہیں 57 ووٹ ملے تھے جبکہ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار راجا ظفر الحق کو 46 ووٹ ملے تھے۔خیال رہے میرصادق سنجرانی 14اپریل 1978 کوبلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں پیدا ہوئے، انھوں نے ابتدائی تعلیم نوکنڈی میں حاصل کی، بعد ازاں انہوں نے بلوچستان یونیورسٹی سے ایم اے کیا.ان کے چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے کے فوری بعد ان کی عمر سے متعلق یہ آئینی بحث چھڑ گئی تھی۔