ایم کیو ایم ابھی تک الطاف حسین کی پلائی ہوئی گھٹی سے باہر نہیں آئی ہے اور آج بھی وہ نفرت، لسانیت اور عوام کو ڈرانے کی سیاست پر عمل پیرا ہے،سعیدغنی

یں ترمیم کو رول بیک صرف پیپلز پارٹی نہیں بلکہ اس کو متفقہ طور پر منظور کرنے والی تمام سیاسی جماعتیں اس کے خلاف ہیں،وزیربلدیات سندھ

پیر اپریل 23:58

ایم کیو ایم ابھی تک الطاف حسین کی پلائی ہوئی گھٹی سے باہر نہیں آئی ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 اپریل2019ء) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم ابھی تک الطاف حسین کی پلائی ہوئی گھٹی سے باہر نہیں آئی ہے اور آج بھی وہ نفرت، لسانیت اور عوام کو ڈرانے کی سیاست پر عمل پیرا ہے۔ یہ کبھی ضیاء تو کبھی مشرف کے فرنٹ مین بنتے رہے ہیں اور اب وہ پی ٹی آئی کے فرنٹ مین بن رہے ہیں۔ 18 ویں ترمیم کو رول بیک صرف پیپلز پارٹی نہیں بلکہ اس کو متفقہ طور پر منظور کرنے والی تمام سیاسی جماعتیں سوائے ایم کیو ایم کے سب اس کے خلاف ہیں اور اس کو آنچ بھی نہیں آنے دیں گی۔

تحریک انصاف عقل کے مارے لوگ ہیں ان کا وزیر اعظم ایک جانب مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے اور عالمی طور پر جسے دنیا دہشت گرد تسلیم کرتی ہے اس مودی کے انتخابات میں جیت سے پاکستان کی بات چیت کو مشروط کررہا ہے۔

(جاری ہے)

ایسا محسوس ہورہا ہے کہ تحریک انصاف کی ایماء پر ایم کیو ایم اس شہر او ر صوبے کے حالات خراب کرنے کی سازش کررہی ہے۔ا ن خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز سندھ اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

سعید غنی نے کہا کہ گذشتہ روز ایم کیو ایم کی جانب سے پریس کانفرنس کے دوران ان کے رہنماء اور وفاقی وزیر کی جانب سے سندھ کی تقسیم کے ہوجانے اور اس کے اعلان کا باقی ہونے کے بیان کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اب بھی ایم کیو ایم میں الطاف حسین کی پلائی ہوئی گھٹی کے اثرات ان میں موجود ہیں اور ان کی ڈوڑیں اب بھی کہی سے چل رہی ہیں۔

سعید غنی نے کہا کہ جب بھی ایم کیو ایم کو سہارے کی ضرورت ہوتی ہے وہ سندھ کی تقسیم کی بات کرتی رہی ہے اور اب ایک بار پھر ان کو پی ٹی آئی کے سہارے کی ضرورت پڑی ہے تو وہ سندھ کی تقسیم کی بات کررہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ اب کراچی کے عوام نے ان کی اس سیاست پر ان کو مسترد کردیا ہے اور اب اردو بولنے والے بھی ان پر تھوک رہے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ ایم کیو ایم کبھی ضیاء آمر تو کبھی مشرف کی فرنٹ مین رہی اور اب وہ عمران نیازی کی فرنٹ مین بن رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے پی ٹی آئی کی 18 ویں ترمیم کے خلاف پروپگنڈے میں شامل ہونے کے لئے سندھ کی تقسیم کی شرط رکھی اور اب یہ دونوں جماعتیںاس پر عمل پیرا ہیں لیکن انہیں نہیں معلوم کہ نہ سندھ کی تقسیم کسی صورت ممکن ہے اور نہ ہی 18 ویں ترمیم کا کسی صورت خاتمہ ممکن ہے کیونکہ یہ وہ ترمیم ہے جو 1973 کے آئین کے بعد پہلی ترمیم ہے جو تمام سیاسی جماعتوں بشمول ایم کیو ایم کے متفقہ طور پر منظور ہوئی ہے اور اس وقت جب یہ منظور ہوئی پی ٹی آئی کا وجود تک نہ تھا۔

انہوںنے کہا کہ 18 ویں ترمیم کو ختم کرنے کا صرف صوبہ سندھ نہیں بلکہ تمام صوبے مخالف ہیں اور جب یہ کوشش کریں گے تو انہیں معلوم ہوگا کہ پنجاب سب سے بڑا اس کا مخالف ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر بلدیات سندھ نے کہا کہ ایم کیو ایم دراصل پی ٹی آئی کی ایماء پر اس شہر اور صوبے میں افرا تفری اور لسانیت کو ہوا دینا چاہتی ہے تاکہ وہ پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک ختم کرسکے اور مجھے خدشہ ہے کہ اس میں پی ٹی آئی کسی خفیہ ہاتھوں کا کھیل کھیل رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک جانب ایم کیو ایم کو اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ ہم حکومت میں نہیں ہے اور اس شہر اور صوبے میں ترقی ہورہی ہے اور یہ خوف انہیں کھا رہا ہے۔ بلدیاتی اختیارات کے سوال کے جواب میں وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ ایم کیو ایم نے 2001 کے الیکشن کا بائیکاٹ اس نظام کے خلاف کیا لیکن 2005 میں اس نے اسی نظام کے تحت الیکشن لڑا اور یہ کس کے اشارے پر لڑا یہ سب جانتے ہیں۔

انہوںنے کہا کہ یہ ہماری غلطی ہے کہ ہم نے 2005 کے بلدیاتی اداروں میں ان کی لوٹ کھسوٹ کا حساب نہیں لیا۔ انہوںنے کہا کہ ہم نے 1979 سے ملتا جلتا قانون سندھ میں نافذ کیا۔ اور 18 ویں ترمیم کے بعد صرف سندھ نہیں بلکہ چاروں صوبوں نے اپنے بلدیاتی قوانین میں تبدیلیاں کی۔ انہوںنے کہاکہ 2001 کے قانون میں بھی واٹر بورڈ، کے ڈی اے، ایل ڈی اے یا ایم ڈی اے سندھ حکومت کے تحت منتخب ہونے والے چیئرمین کے ماتحت ہونا تھی یہ اس وقت بھی مئیر یا سٹی ناظم کے زیر انتظام نہیں تھے اور اب بھی یہ سندھ حکومت جس کو چیئرمین نامزد کرے اس کے زیر انتظام ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ہم نے تو اختیارات کو مزید نچلی سطح تک منتقل کئے ہیں اور جو محکمے جن میں تعلیم، صحت اور دیگر ہم نے ڈی ایم سی کے سطح تک منتقل کئے ہیں۔