کوئٹہ میں ہزارہ برادری کا دھرنہ ختم کرنے کا اعلان

کوئٹہ دھماکے میں جاں بحق ہونے والے ہزارہ برادری کے افرادکے لواحقین نے شہریار آفریدی سے مذاکرات کے بعد دھرنہ ختم کر دیا

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ منگل اپریل 00:38

کوئٹہ میں ہزارہ برادری کا دھرنہ ختم کرنے کا اعلان
کوئٹہ(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔15اپریل2019ء) کوئٹہ ہزار گنجی سبزی منڈی میں ہونے والے دھماکے میں جاں بحق ہونے والے ہزارہ برادری کے افراد کے لواحقین نے مشیر داخلہ شہریار آفریدی سے مذاکرات کے بعد دھرنہ ختم کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز ہزارگنجی سبزی منڈی میں ہونے والے خود کش حملے کے بعد ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے مغربی بائی پاس پر کوئٹہ چمن شاہراہ کو بلاک کر کے ٹائر جلائے اور پتھر رکھ کر سڑک کوٹریفک کیلئے بندکرد یا تھا، مظاہرین کے احتجاج کے باعث مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، مظاہرین کااحتجاج کرتے ہوئے کنہاتھا کہ صوبائی حکومت ہمیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے جب بھی دہشتگردی کا واقعہ پیش آتا ہے حکومت مذمت کر کے اپنی جان چھڑا لیتی ہے جب تک قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جاتا ہم اپنا احتجاج ختم نہیں کرینگے دہشتگرد ی کے واقعے کے باعث آج ہزارہ قوم کے ہر گھر میں ماتم ہے۔

(جاری ہے)

گزشتہ 4 روز سے ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے دھرنہ دے رکھا تھے اب سوموار کے روز وزیراعظم کے مشیرِ داخلہ شہریار آفریدی نے احتجاج کرنے والے ہزارہ کمیونٹی کے افراد سے ملاقات کی اور انہین یقین دلایا کہ حملہ آوروں کو ضرور گرفتار کر کے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ مشیر داخلہ کی جانب سے یقین دلائے جانے پر ہزارہ کمیونٹی کے افراد نے دھرنہ ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی تھی جبکہ اس حملے میں ہزارہ کمیونٹی کے 20افراد جاں بحک ہو گئے تھے جبکہ بیسیوں افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری بھی منگل کے روز ہزار گنجی میں جا کر جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے اظہارِ تعذیت کریں گے۔