Live Updates

وفاقی کابینہ کا منی لانڈرنگ کے حالیہ کیسز پر تشویش کا اظہار ، امید ہے یہ مقدمات منطقی انجام تک پہنچیں گے اور قانون اپنا راستہ خود بنائے گا ،

کابینہ نے صوبائی انسداد دہشت گردی فورس (سی ٹی ڈی ) کو منی لانڈرنگ سے متعلق کیسز کا اختیار دینے ، پی ٹی اے کے حوالے سے سفارشات تیاری کے لئے کابینہ کمیٹی کے قیام ، آڈیٹر جنرل آفس کی استعداد کار بڑھانے کے لئے ڈاکٹر عشرت حسین کو ٹاسک سونپنے،بھرتی کے لئے اراکین پارلیمنٹ کا کوٹہ ختم کر کے گریڈ ایک تا پانچ بھرتی کے لئے نیا طریقہ کار اپنانے ،اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ٹیسٹنگ سروسز کا جائزہ لینے ، پاکستان سٹیل مل کے بحالی پلان ،پی ٹی ڈی سی اور متروکہ وقف املاک بورڈ چیئرمین کی تقرری کی منظوری دیدی ہے ، کابینہ نے پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کی منظوری دیدی ،وفاقی کابینہ نے اثاثہ ظاہر کرنے کی سکیم پر فیصلہ موخر کر دیا ،کابینہ کے اراکین اس معاملے پر مزید بحث کرنا چاہتے ہیں،پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی تمام شرائط پوری کر لی ہیں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات چوہدری فواد حسین کی میڈیا کو بریفنگ

منگل اپریل 20:07

وفاقی کابینہ کا منی لانڈرنگ کے حالیہ کیسز پر تشویش کا اظہار ، امید ہے ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 اپریل2019ء) وفاقی کابینہ نے منی لانڈرنگ کے حالیہ کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ مقدمات منطقی انجام تک پہنچیں گے اور قانون اپنا راستہ خود بنائے گا، کابینہ صوبائی انسداد دہشت گردی فورس (سی ٹی ڈی ) کو منی لانڈرنگ سے متعلق کیسز کا اختیار دینے ، پی ٹی اے کے حوالے سے سفارشات تیاری کے لئے کابینہ کمیٹی کے قیام ، آڈیٹر جنرل آفس کی استعداد کار بڑھانے کے لئے ڈاکٹر عشرت حسین کو ٹاسک سونپنے،بھرتی کے لئے اراکین پارلیمنٹ کا کوٹہ ختم کر کے گریڈ ایک تا پانچ بھرتی کے لئے نیا طریقہ کار اپنانے،اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ٹیسٹنگ سروسز کا جائزہ لینے ، پاکستان سٹیل مل کے بحالی پلان ،پی ٹی ڈی سی اور متروکہ وقف املاک بورڈ چیئرمین کی تقرری کی منظوری دیدی ہے ، کابینہ نے پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کی منظوری دیدی ہے جس کے بعد بیرون ممالک سے حوالے کیے گئے ملزمان کو سزائے موت نہیں دی جائے گی ،برطانیہ سے الطاف حسین ،اسحاق ڈار ،حسین نواز اور حسن نواز سمیت دیگر ملزمان پاکستان کو مطلوب ہیں ،وفاقی کابینہ نے اثاثہ ظاہر کرنے کی سکیم پر فیصلہ موخر کر دیا گیا ہے ،کابینہ کے اراکین اس معاملے پر مزید بحث کرنا چاہتے ہیں،پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی تمام شرائط پوری کر لی ہیں ۔

(جاری ہے)

منگل کو وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات چوہدری فواد حسین نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے آغاز میں کوئٹہ دھماکے میں شہداء کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔وزیراعظم نے دہشت گردی کی روک تھام کے لئے تمام تر صلاحیتیں اور وسائل بروئے کار لانے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ملک بھر میں کریک ڈائون سے دہشت گردی میں کافی حد تک کمی ہوئی ہے ،کوئٹہ واقعہ اور دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے صرف اندرونی نہیں بلکہ بیرونی ہاتھ بھی ملوث ہے ،بیرونی نیٹ ورک کو توڑنے میں کچھ وقت لگے گا،قومی ایکشن پلان کے بعددہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی نظر آرہی ہے ، وہ وقت دور نہیں جب ہم دہشت گردی کے لعنت سے مکمل نجات حاصل کر لیں گے ۔

فوجی و سول قیادت بھی یہ کہہ چکی ہے کہ قومی ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد سے دہشت گردی پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ طویل بحث کے بعد اثاثہ ظاہر کرنے کی سکیم پر مزید بحث کی ضرورت محسوس کی گئی ہے وزیراعظم عمران خان نے (آج) بدھ کو اس حوالے سے خصوصی اجلاس بلایا ہے جس میں اثاثے ظاہر کرنے کی سکیم کے نکات پر بات کر کے اس سکیم کو حتمی شکل دی جائے گی ۔

وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے منی لانڈرنگ کے حالیہ کیسز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ،شہباز شریف اور انکی فیملی نے منی لانڈرنگ کی ہے ، آج ملک میں جو اقتصادی بحران ،ڈالر کی قیمت میں اضافہ ، بجلی اور گیس کی قیمت میں اضافہ اور جو بھی مشکلات ہیں اسکی وجہ نواز شریف اور زرداری فیملی کی کرپشن ہے ،امید ہے کہ قانون اپناراستہ بنا لے گا اور منی لانڈرنگ کے تمام مقدمات منطقی انجام کوپہنچیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ جب میڈیا نے سلیمان شہباز اور حمزہ شہباز سے حالیہ منی لانڈرنگ کے کیسز کے حوالے سے سوال کیا تو وہ بے بس نظر آئے اور جواب تک نہیں دے سکے دوسری جانب اسحاق ڈار ،حسن نواز اورحسین نواز عدالتوں کا سامنا نہیں کررہے اور ملک سے بھاگے ہوئے ہیں ۔ یہ بھی نہیں بتایا جاسکا کہ 26ملین ڈالر پاکستان میں شہباز شریف کی فیملی کوکیوں آئے ،ان کا کتنا پیسہ باہر ہے ،99فیصد ظاہر اثاثے باہر سے آنے والے پیسوں پر مشتمل ہیں شریف خاندان کی خواتین کا بھی یہ ہی حال ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی قیادت ،نواز شریف فیملی کا یہ ہی حال ہے ،ایک رات میں ہل میٹل ایک ارب دو کروڑ نواز شریف کو اور اگلے دن مریم نواز کو 82کروڑ دیتی ہے،ادھر آصف علی زردرای نے پورا بینک ہی خرید لیا ،ابھی تک صرف ایک سلسلہ سامنے آیا ہے باقی مزید کیسز بھی سامنے آنے ہیں ابھی تو ان لوگوں کی نیندیں بھی اڑنی باقی ہیں ،سابقہ دونوں حکومتوں کے وزراء بھی منی لانڈرنگ کے دھندے میں ملوث تھے ، خواجہ آصف اوراحسن اقبال سمیت اس دور کے کابینہ اراکین کو اقامہ کی اسی لئے ضروت تھی کہ انہوں نے منی لانڈرنگ کرنا تھی، یہ تمام تحقیقات سابقہ دور کی ہیں ابھی ہماری تحقیقات کے نتا ئج آنے باقی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ سٹیل مل بحالی کا پلان پیش کیاجارہا ہے ،خوشی کی بات ہے کہ جمہوریت بہترین انتقام سے پہلے کی دور میں سٹیل مل ایک منافع بخش ادارہ تھا ، زرداری نے اسوقت تک چین نہیں لیا جب سٹیل مل بند نہیں ہوئی ۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کی وجہ سے پاکستان سٹیل مل بحالی طرف گامزن ہے ،پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر دنیا کے 6 بڑے سرمایہ کاروں نے دلچسپی کا اظہار کیا ہے ،اسوقت پاکستان سٹیل مل کی پیداواری لاگت 1.1ملین ہے جسے تین ملین تک بڑھایا جائے گا ،ہماری طلب 9ملین پیداوار کی ہے اس کے لئے کچھ وقت درکار ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے آڈیٹر جنرل پاکستان آفس کی استعداد کار بڑھانے کے معاملے کا جائزہ لیا اور ڈاکٹر عشرت کو ٹاسک دیا گیا کہ دو ماہ میں رپوٹ تیار کریں کہ کیسے آڈیٹر جنرل آفس کی استعداد کار کو بڑھایا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے پی ٹی اے کا موقف سنا ہے اورماہرانہ رائے کا بھی جائزہ لینے کے بعد وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد صدیقی ،وزیر خزانہ اسد عمر ،وزیر تجارت رزارق دائو ،وزیر ریونیوعما د اظہر پر مشتمل ایک کابینہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو پی ٹی اے کے حوالے سے سفارشا ت تیار کریگی ۔

وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے کہا کہ وفاقی حکومت میں بھرتی طریقہ کار میں تبدیلی کر دی گئی ہے پہلے ایک تا پانچ گریڈ میں صرف سفارش تھی ،ایم این اے ،ایم پی اے کو کوٹہ دیا جاتا تھا لیکن اب کوٹہ سسٹم ختم کر دیا گیا ہے ،گریڈ ایک تا پانچ بھرتی قرعہ اندازی کے ذریعے ہوگی ۔وفاقی کابینہ نے عامر علی کی بطور چیئرمین سی ڈی اے مدت میں تین ماہ کی توسیع ،فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کے چیئرمین ڈاکٹر اکرام علی کی مدت میں ایک سال توسیع ،ڈاکٹر عامر احمد کو چیئرمین متروکہ وقف املاک، بورڈ کے لئے تین نئے ممبران کی تقرری ،ڈپٹی ڈی جی فنانس سید مسعود رضوی پاکستان سٹنڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کا چیئرمین بنانے کی منظوری دی ۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی وزراء کے قلمدان تبدیل نہیں ہورہے جب تبدیلی کرنا ہوئی تو وزیراعظم آفس بتائے گا ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلاول کو پتہ نہیں ہوگا کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں دہشت گردی کے واقعات بہت زیادہ تھے ،کوئٹہ واقعہ پر کسی جانب سے سیاست نہیں ہونی چاہیے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی عدالتوں ،جیلیوںاور پراسکیویشن میں فرق ہے اس فرق کو دور کرنا ہے ،پی ٹی آئی نے حکومت تبدیل کی ہے اب نظام تبدیلی کی جنگ جاری ہے ،وزیراعظم کی کوشش ہے کہ امیروں اور غریبوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہو ۔

انہوں نے کہا کہ (آج) بدھ کو وزیراعظم عمران خان نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم کا افتتاح کریں گے ،پہلے مرحلے میں ایک لاکھ 35ہزار اپارٹمنٹس تعمیر کیے جائیں گے۔
وزیراعظم حاضر ہے سے متعلق تازہ ترین معلومات