حکومت نے الزام لگایا میں نے 85ارب کی منی لانڈرنگ کی ،نیب کہتا ہے یہ 18کروڑکا معاملہ ہے ‘ حمزہ شہباز

یہ پیسہ 2005سے 2008تک آیا ،اس وقت میں پبلک آفس ہولڈر بھی نہیں تھا،اس وقت کے قانون اور ٹیکس قوانین کے مطابق کیا اگرمنی لانڈرنگ ثابت نہ ہوئی تو نیازی خان آپکو قوم سے معافی مانگنی پڑیگی ،جہانگیر ترین کاکرپشن کو شرمناک کہنا قیامت کی نشانی ہے معیشت ایڑھیا ںرگڑ رہی ہے ،ملک کا کوئی والی وارث نہیں ‘ آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میںنیب میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو

منگل اپریل 20:32

حکومت نے الزام لگایا میں نے 85ارب کی منی لانڈرنگ کی ،نیب کہتا ہے یہ 18کروڑکا ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 اپریل2019ء) پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ حکومت نے الزام لگایا کہ حمزہ شہباز نے 85ارب کی منی لانڈرنگ کی ہے جبکہ نیب کہتا ہے کہ یہ 18کروڑکا معاملہ ہے ،یہ پیسہ 2005سے 2008تک آیا جب مجھے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی اور اس وقت میں پبلک آفس ہولڈر بھی نہیں تھا،میں جو بھی کیا اس وقت کے قانون اور ٹیکس قوانین کے مطابق کیا ، اگر 18کروڑ کی منی لانڈرنگ ثابت نہ ہوئی تو نیازی خان آپ کو کنٹینر پر چڑھ کر قوم سے معافی مانگنی پڑے گی ،جہانگیر ترین کاکرپشن کو شرمناک کہنا قیامت کی نشانی ہے ، اگر حمزہ شہباز کی پیشیوں سے 22کروڑ عوام کاپیٹ بھرتا ہے تو روز بلا لیں ، معیشت سسکیاں لے رہی ہے اور ایڑھیا ںرگڑ رہی ہے اور آج ملک کا کوئی والی وارث نہیں ۔

(جاری ہے)

نیب لاہور کے دفتر میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ کوئٹہ اور پشاور میں دہشتگردی کے واقعات کی مذمت کرتا ہوں اور متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں ۔انہوںنے کہا کہ آج میں کچھ حقائق سے قوم کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں ۔ 12دنوں سے نیب نہیں بلکہ حکومت کی طرف سے سوال تھے کہ 85ارب روپے کی منی لانڈرنگ ہو گی ۔

غبن ، کک بیکس اورکرپشن ہوئی ہے اور اس پر وزراء کی دھواں دار پریس کانفرنس بھی ہوئی ۔ فواد چوہدری اور شہزاد اکبر بتائیں انہیں کون بتاتا ہے ، انہیں کیانیب یا ایف بی آر والے بتاتے ہیں ۔ مجھے اور میرے خاندان والوں کو نوٹس آیا کہ آپ کے نام ای سی ایل میں ڈال دئیے گئے ہیں ۔ وزارت داخلہ جس کا کوئی لینا دینا نہیں لیکن اس کے نوٹس میں 33ارب کی منی لانڈرنگ کا ذکر ہے اور وزراء کی پریس کانفرنس اور وزارت داخلہ کے نوٹس کے مطابق اس رقم میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔

میری بہنوں کے گھر پر دھاوا بولا گیا کیا عزت دار معاشروں میں ایسے نوٹس دئیے جاتے ہیں ۔ میں قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ آج میں نیب کے رو برو پیش ہوا ، ایک طرف فواد چوہدری اور شہزاد اکبر کے 85ارب ، وزارت داخلہ کے ای سی ایل کے نوٹس کے مطابق 33ارب تھے اور آج نیب نے کہا ہے کہ یہ 85ارب نہیں بلکہ 18کروڑ روپے کا معاملہ ہے ۔ یہ پیسہ 2005سی2008ء تک آیا ہے اور اس وقت حمزہ شہباز پبلک آفس ہولڈ ر نہیں تھا۔

یہ مشرف کا دور تھا جس نے قوم سے تقریر میں کہا تھاکہ ہم نے حمزہ کو یہاں رکھا ہوا ہے ، یہ اغواء برائے تاوان اور گروی تھا ۔ مجھے اس وقت لاہور سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی پھر میں نے کیسے کرپشن اور منی لانڈرنگ کی ۔ میں نے جواب دیا ہے کہ میں نے جو بھی کیا اس وقت کے قانون کے مطابق اور ٹیکس قوانین کے مطابق کیا ۔ ااس وقت نیب نے مجھ سے 12کروڑ روپے ہتھیائے تھے لیکن جب ڈکٹیٹر کا دور ختم ہوا تو نیب کو ہتھیائے گئے 12کروڑ روپے واپس کرنا پڑے اور عدالت نے کہا کہ نیب نے یہ غلط کام کیا ۔

انہوں نے کہا کہ آج روز پریس کانفرنس ہوتی ہے اور ہمارے اوپر الزام لگتے ہیں ۔ اب 18کروڑ کی منی لانڈرنگ کا الزام لگا ہے اگر یہ ثابت نہ ہوئی تو نیازی خان آپ کو قوم سے معافی مانگنی پڑے گی ۔ آپ نے کہا کہ 56کمپنیوں میں اربوں روپے کا غبن ہو گیا لیکن جب عدالت کا فیصلہ آیا تو دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی ہو گیا ۔ انہوںنے کہا کہ میں کچھ چبھتے ہوئے سوالات پوچھ رہا ہوں او رقوم ان کے جوابات مانگتی ہے ۔

ایک شخص جس نے سرکاری ہیلی کاپٹر میں سیر سپاٹے کئے ، نیب میں پیشی بھگتی وہ شخص وزیر عظم بن کر چیئرمین نیب سے ملاقات کر رہا ہوں ، میری بیمار ماں کو نوٹس بھجوایا گیا، میری بہن کے گھر کا محاصرہ کر کے نوٹس دیا گیا لیکن علیمہ خان آف شور کمپنیاں بناتی ہیں، آج تک نہیں بتایا گیا کہ ان کے ذرائع آمدن کیا ہیں ، کیا یہ پاکستان کا احتساب ہے ، ایسے کام نہیں چلے گا ۔

شہباز شریف ، شاہد خاقان عباسی ، خواجہ سعد رفیق ، بلاول بھٹو ، خواجہ آصف تو نیب کی پیشیاں بھگت رہے ہیں لیکن قوم پوچھتی ہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے پشاور میٹرو منصوبے کے بارے میں کہا ہے اس کی انکوائری کی جائے اورحکومت کی اپنی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے میں7ارب کی کرپشن کا سکینڈل ہے لیکن کوئی پوچھنا والا نہیں ۔ یہ کہا گیا کہ نیب شکلیں نہیں دیکھتا لیکن ان لوگوں نے سلیمانی ٹوپی پہن رکھی ہے جو انہیں حکومت کے لوگ نظر نہیں آتے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم تماشہ دیکھ رہی ہے ، یہ قیامت کی نشانی ہے کہ جہانگیر ترین کہتاہے کہ کرپشن کرنا شرمناک ہے ، یہ وہ شخص بات کر رہا ہے جس نے اپنے مالیوں کے نام پر جائیدادیں رکھیں،آج وہ شخص انصاف ، قانون اور احتساب کا بھاشن دے رہا ہے ۔ قوم پوچھتی ہے کیا یہ ہے تمہارا نیا پاکستان ۔ حکومت نے 8مہینوں میں 3300ارب روپے کا قرض لے لیا ہے ،مجھے نیب کی پیشیوں کا خوف ہے لیکن مجھے آگے جو عوام کا معاشی قتل ہونے جارہا ہے اس کا زیادہ خوف ہے او رقوم اس کا اندازہ نہیں کر سکتی ۔

ابھی تو مہنگائی کی فلم شروع ہوئی ہے آگے مہنگائی کے سونامی نے عوام کو گھیرنا ہے اور اس کا کسی کو اندازہ نہیں ۔ انہوںنے کہا کہ وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ ہماری آئی ایم ایف سے بات چیت ہو گئی ہے اور عوام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جبکہ اوگرا کہتی ہے کہ گیس 80فیصد مہنگی ہونے والی ہے ۔ اگر حمزہ کی پیشیوں سے 22کروڑ عوام کا پیٹ بھرتا ہے تو حمزہ کو روز بلا لیں لیکن یہ احتساب نہیں ہے ۔

آج مہنگائی کی وجہ سے غریب کی کمر ٹوٹ گئی ہے ۔ میں نے منی لانڈرنگ کے حوالے سے جو باتیں کہیں ہیں اس کے بارے میں لاہو رہائیکورٹ میں بھی بیان دوں گا ۔ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں میں نیازی خان کی گیدڑ بھبھکیوں سے نہیں ڈرتا۔ اگر آپ کرپشن ثابت نہ کر سکے تو آپ کو پاکستانی قوم سے اسی کنٹینر پر چڑھ کر معافی مانگنی پڑے گی جس پر چڑھ کر آپ نے قوم کو سبز باغ دکھائے لیکن ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا۔

آج معیشت سسکیاں اور ایڑھیاں رگڑ رہی ہے ، عوام غربت کی آگ میں جل رہے ہیں اور تم بغض اور حسد کی آگ میں جل رہے ہو ،آج ملک کا کوئی والی وارث نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں آٹھ ماہ میں چار آئی جیز تبدیل ہو چکے ہیں ، آئی جی نہیں بلکہ چپڑاسی ہو گیا ۔ آج سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اگر اورنج لائن نہیں چلے گی تو اس معاملے کو نیب کو بھیجیں گے جس شخص سے بنے بنائے منصوبے نہ چلیں اس کے دور میں ملک کیا ترقی کرے گا ۔

بتایا جائے عمران نیازی نے 300ارب واپس لانے تھے وہ کہاں ہیں ۔آپ مشرف کے دور میں اس کے پائوں میں بیٹھے تھے ، آپ محسن کش انسان ہو اور سر سے پائوں تک حسد سے بھرے ہوئے ہو ۔ ادویات 400 فیصد مہنگی ہو گئی ہیں ، عوام سے بدلہ نہ لو ۔ نیازی خان نے کہا کہ تھاکہ شریف خاندان کو رلائوں گا لیکن اللہ ہمارے ساتھ ہے ،غریبوں پر مہنگائی کے تابڑ توڑ حملے کر کے انہیں نہ رلا ئو ،عوام جس دن کھڑے ہوگئے نیازی خان تمہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی ۔

انہوںنے کہا کہ نیازی خان نے کہا کہ شہباز شریف 27ارب کھا گیا لیکن جب ہم عدالت میں گئے تو نیازی خان نے کوئی جواب نہیں دیا ، پھر کہا 10ارب کھا گئے لیکن جب ہمارے وکیل عدالت میں جاتے ہیں تو تاریخیں لے لیتے ہیں، یہ جھوٹا شخص ہے اور اس کے ایک ایک جھوٹے بے نقاب ہوئے ہیں ۔ آج پنجاب میں دوبارہ شہباز شریف کی ٹیم آ گئی ہے ، سیکرٹریز آ گئے ہیں ، میں اتنا کہوں گابڑی دیر کی مہربان آتے آتے۔

شہباز شریف نے صوبے کی خدمت کی ہے ۔ میں قوم کا مشکور ہوں وہ فیصلہ کریں گے کہ جھوٹا کون اور سچا کون ہے ۔ نہ ایک پائی کی کرپشن کی ہے اور نہ آپ ثابت کر پائوں گے ۔ جب تم سے کچھ نہیں بن پا رہا مسائل حل نہیں ہو رہے تو جھوٹی الزام تراشی کرتے ہو ۔قبل ازیں حمزہ شہباز آمدن سے زائد اثاثوں اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے لئے نوٹس پر نیب لاہور کے دفتر میں پیش ہوئے جہاں ان سے سوالات پوچھے گئے ۔ حمزہ شہباز کے نیب لاہور میں پیشی کے موقع پر کارکن بڑی تعداد بھی موجود رہے جو ان کے حق میں نعرے لگاتے رہے ۔