پاکستان سے خواتین اور بچوں کو جنسی استحصال کیلئے بیرونی ممالک میں بھیجے جا نے کا انکشاف

بدھ اپریل 20:36

پاکستان سے خواتین اور بچوں کو جنسی استحصال کیلئے بیرونی ممالک میں بھیجے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 17 اپریل2019ء) پاکستان سے خواتین اور بچوں کو جنسی استحصال کیلئے بیرونی ممالک میں غیر قانونی طریقے بھیجا جاتا ہے ۔انسانی سمگلنگ جیسے گھناونے جرم کو روکنے کیلئے سرکاری اور نجی شعبوں کے متعلقہ محکموں کو مل کر کا م کر نا ہو گا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرائم، یو این او ڈی سی اور امریکہ کے ڈپارٹمنٹ آف اسٹیٹ کے ادارے یوایس جے کی معاونت سے ہونے والی دوسری بین الاقوامی کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

یو این او ڈی سی پاکستان آفس گزشتہ 35 سال سے مشترکہ مشکلات پر قابو پانے اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل میں معاونت کے مقصد کے تحت حکومت پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔

(جاری ہے)

اس کانفرنس کا مقصد اہم حکومتی اداروں اور نجی شعبے کے درمیان اشتراک عمل میں بہتری لانا تھا۔ نجی شعبے کے فریقوں میں سول سوسائٹی، غیرسرکاری تنظیمیں اور نجی کارپوریشنیں شامل ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں خواتین اور بچوں کی جنسی استحصال کے لئے سمگلنگ کی جاتی ہے جو بعض اوقات زبردستی شادیوں کی صورت میں بھی ہوتی ہے۔ انسانی سمگلنگ کو کم سے کم کرنے میں مدد دینے کے لئے یو این او ڈی سی اور ایف آئی اے کئی سالوں سے مل کر کام کر رہے ہیں۔ بطور پارٹنرز یو این او ڈی سی اور ایف آئی اے اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ انسانی سمگلنگ سے نمٹنے کے لئے سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے متعلقہ فریقوں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔

اس مقصد کے لئے اسلام آباد میں ایک کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں متعدد سینئر حکومتی افسران، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران کے علاوہ سول سوسائٹی، نجی شعبے کی تنظیموں، غیرسرکاری تنظیموں، میڈیا اور اقوام متحدہ کے دیگر اداروں کے ارکان کو شرکت کی دعوت دی گئی تاکہ انسانی سمگلنگ سے نمٹنے کی کوششوں کو اجاگر کیا جا سکے اور اس سلسلے میں اشتراک عمل کو فروغ دیا جا سکے۔

ایف آئی اے کے آڈیشنل ڈائریکٹر جنرل امیگریشن جناب احمد مکرم نے اپنے ابتدائی کلمات میں یو این او ڈی سی کی کوششوں اور امریکی ڈپارٹمنٹ آف سٹیٹ کی طرف سے فراہم کی جانے والی معاونت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کی بدولت پاکستان میں انسانی سمگلنگ کے خلاف قانون کا نفاذ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی مشترکہ سرگرمیوں سے اس مسئلے کے بارے میں متعلقہ فریقوں کے درمیان ابلاغ بہتر بنانے اور آگاہی بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔

یہ سرگرمیاں متاثرہ افراد کے اعتراف میں مدد دیتی ہیں اور انسانی سمگلنگ سے متاثرہ افراد کے تحفظ سے متعلق خدمات کو بہتر بنانے اور دستیاب خدمات تک رسائی وسیع بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔یو این او ڈی سی ویانا کے کرائم پریونشن اینڈ کریمنل جسٹس آفیسر جناب ڈیوور روس نے متعلقہ فریقوں کی شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ نجی اور سرکاری شعبے کے درمیان اشتراک عمل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر طرح کی انسانی سمگلنگ کی روک تھام اور اس کے خاتمہ میں حکومتوں اور نجی شعبے کے درمیان اشتراک عمل وقت کا تقاضا بن چکا ہے اور انہی اجتماعی کوششوں کے ذریعے ہی ہم اس لعنت کو شکست دے سکتے ہیں اور اپنی اس دنیا کو زیادہ محفوظ بنا سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یو این او ڈی سی، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کی تنظیموں سے امید کرتا ہے کہ وہ انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے بارے میں آگاہی بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ آڈیشنل ڈائریکٹر امیگریشن ایف آئی اے جناب مفخر عدیل نے بین الاقوامی و قومی اقدار اور مروجہ طریقوں پر روشنی ڈالی اور ان جرائم پر قابو پانے کے لئے ایف آئی اے کی شبانہ روز کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا۔

یو این او ڈی سی کے کنسلٹنٹ جناب نوید احمد شنواری نے انسانی سمگلنگ کے خاتمہ میں سول سوسائٹی، این جی اوز اور نجی شعبے کے کردار، ذمہ داریوں اور مختلف سرگرمیوں پر ایک پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے بتایا کہ اس لعنت سے نمٹنے کے لئے ہر شعبہ اپنی اپنی جگہ کوششیں کر رہا ہے لیکن ایک کلی سوچ کے تحت اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے متعلقہ فریقوں کے درمیان کوآرڈینیشن نہیں ہو رہی۔

امریکی سفارتخانہ اسلام آباد کی محترمہ لوسی کوبرن نے ایک پریزنٹیشن دی جبکہ انسانی سمگلنگ کی نگرانی اور روک تھام کے لئے امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ادارے سے محترمہ سمانتھا نوویک اور محترمہ اینڈریا بیلنت نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کی۔ متعدد شرکاء نے اس موقع پر انسانی سمگلنگ اور اس سے نمٹنے میں نجی شعبے کے کردار کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے ض*سرکاری پارٹنرز کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

کانفرنس کے آخر میں یو این او ڈی سی اور ایف آئی اے کی جانب سے امید کا اظہار کیا گیا کہ انسانی سمگلنگ کی روک تھام سے نمٹنے کے لئے مل کر کام کیا جائے گا اور پالیسی اور اس پر عملدرآمد میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرنے میں متعلقہ فریقوں کی مدد کی جائے گی۔ کانفرنس کا انعقاد انسانی سمگلنگ کی نگرانی اور خاتمہ کے لئے امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ادارے کی جانب سے مالی معاونت کی بدولت ممکن ہوا۔ شمیم محمود