بابائے قوم قائداعظم محمدعلی جناح کے وژن کے مطابق پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا خواب ہے،

8ماہ کی مسلسل محنت اور جدوجہد کے بعد عام آدمی کے لئے سستے رہائشی منصوبہ کا آغاز ہوگیاہے ، ہم نے مشکل ہدف کا انتخاب کیا اور کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں،کرپشن کرنے والوں کو زمانے نے پیچھے چھوڑ دیا ،سب کو بتا دینا چاہتے ہیں بدعنوانی کے خلاف جنگ میں کوئی بھی ہم سے جیت نہیں سکتا وزیراعظم عمران خان کا نیا پاکستان ہائوسنگ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب

بدھ اپریل 23:26

بابائے قوم قائداعظم محمدعلی جناح کے وژن کے مطابق پاکستان کو اسلامی ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 اپریل2019ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’سٹیٹس کو‘ کے حامیوں اوران سے فائدہ اٹھانے والوں کوشکست دیکر ریاست مدینہ کی طرز اور بابائے قوم قائداعظم محمدعلی جناح کے وژن کے مطابق پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا ان کا خواب ہے، 8ماہ کی مسلسل محنت اور جدوجہد کے بعد عام آدمی کے لئے سستے رہائشی منصوبہ کا آغاز ہوگیاہے ، اب ملک بھر میں اس منصوبہ کے تحت رہائشی یونٹس کی تعمیر کے افتتاح ہوں گے ،ہائوسنگ منصوبہ آسان ہوتا تو 70سالوں کے دوران بن جاتا ،ہم نے مشکل ہدف کا انتخاب کیا اور کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں، قوم مشکل وقت سے نہ ڈرے اور گھبرانے کی بھی ضرورت نہیں ،جدوجہد میں اونچ نیچ اور مشکل وقت قوم کو مضبوط کرنے کے لئے آتے ہیں ،کرپشن کرنے والوں کو زمانے نے پیچھے چھوڑ دیا ہے ،سب کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ بدعنوانی کے خلاف جنگ میں کوئی بھی ہم سے جیت نہیں سکتا ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہارانہوں نے بدھ کو یہاں نیا پاکستان ہائوسنگ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وفاقی وزراء ،اراکین پارلیمنٹ ،وزرات ہائوسنگ ،ہائوسنگ فائونڈیشن اور دیگر اعلیٰ حکام کے علاوہ شہریوں کی ایک بڑی تعداد بھی تقریب میں موجود تھی ۔وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر ،وفاقی وزیر ہائوسنگ طارق بشیر چیمہ ،سیکرٹری ہائوسنگ عمران زیب اور ڈی جی ہائوسنگ کو شاندار ہائوسنگ منصوبہ بنانے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہماری اس ٹیم کی محنت سے ہم یہاں تک پہنچے ہیں، اس میں ہائوسنگ سے متعلق ٹاسک فورس کا بھی اہم کردار ہے ،8مہینے کی مسلسل جدوجہد کے بعد ہم یہاں پہنچیں ہیں ، اب تسلسل کے ساتھ ہم ہائوسنگ کی سکیموں کا اجراء کرتے رہیں ہیں گے۔

یہ سکیمیں پورے پاکستان میں چلتی رہیں گی ۔وزیراعظم نے کہاکہ 23سال پہلے جب سیاست شروع کی تھی تو کنفوژن نہیں تھی ،جب حکومت میں آیا تب بھی کنفیوژن نہیں تھی ، پاکسان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانابابائے قوم کاخواب تھا، اسی خواب کے حصول کیلئے پاکستان بناتھا ، بانی قائداعظم محمد علی جناح اورعلاقہ اقبال کا فلسفہ پڑھیں تو وہ بھی چاہتے تھے کہ ایسا ملک ہو جہاں کے مسلمان دنیا کی عظیم اور مہذب قوم بنیں۔

اس اصول کی بنیاد فلاحی ریاست تھی ۔انہوں نے کہا کہ فلاحی اور دوسری ریاست میں فرق ہے، فلاحی ریاست تمام طبقات کا خیال رکھتی ہے اور اسی نوعیت کی فلاحی ریاست ہمارا وژن ہے ۔وزیراعظم نے کہاکہ اللہ تعالی نے انہیں خدمت کا موقع دیا ہے ، میں نے کیا کرنا ہے اس حوالے سے بالکل واضح ہوں،اگر ہائوسنگ کا یہ منصوبہ اتنا آسان ہوتا تو 70سالوں میں بن چکاہوتا ۔

انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست میں حضور ﷺ نے فیصلہ کیا کہ ایک فلاحی ریاست بنے گی جہاں غریبوں ،یتیموں ،بے سہارا ،بیوائوں کو بھی وہ ہی حقوق حاصل ہونگے جو معاشرے کے دیگر لوگوں کو حاصل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم نمازیںپڑھتے ہیں لیکن یہ نہیں پتہ کہ ہم نماز میں کیا مانگتے ہیں، نماز میں صرف اللہ تعالی سے سیدھا راستہ مانگتے ہیں ،یہ بہت اہم تصور ہے ،یہ راستہ ہی زندگی کا مقصد بتا تا ہے ،حضورﷺ صرف انسانیت کے لئے آئے ،حضورﷺ نے انسانیت کے لئے جو کچھ کیا ایسا کسی نے نہیں کیا،اس ریاست میں غریبوں ،بیوائوں ،یتیمیوں کو تمام حقوق حاصل تھے ۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ 10سالوں میں جو لوٹ مار کی گئی اور ریکارڈ قرض لیے گئے ان پر یومیہ کی بنیاد پر ساڑھے 6ارب روپے کا سود ادا کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم سیدھے راستے پر ہوں گے تو اللہ تعالی کی برکت آئے گی ، جب کینسر ہسپتال کا منصوبہ شروع کیا تو لوگوں نے مذاق کیا ،لیکن میرا ایمان تھا کہ کامیابی اللہ تعالی نے دینی ہے ،کامیابی صرف اللہ تعالی ہی دیتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں پیسے والوں ، عام شہری اور غریب آدمی کے لئے تعلیم اور صحت میں الگ الگ نظام چل رہے ہیں ،ہم کوشش کر رہ ہیں کہ خیبر پختونخوا میں ہسپتالوں میں نظام میں بہتری لائیں لیکن صرف ایک چھوٹا سا طبقہ سسٹم کو ٹھیک نہیں ہونے دے رہا ، یہ وہ لوگ ہیںجو پرانے سسٹم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اس لئے وہ رکاوٹ بن رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب ہم نے حکومت شروع کی تو کچھ لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ حکومت ناکام ہوچکی ہے ،6سے 30ٹریلین تک قرضہ پہنچانے والے لوگ ٹی وی پر بیٹھ کر حکومت پر تنقید کرتے ہیں، ہر ادارے میں سٹیٹس کو کے حامی اوران سے فائدہ اٹھانے والے بیٹھے ہوئے ہیں ،یہ لوگ بدعنوانی کے اس نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں لیکن ان کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ کرپشن کے خلاف جنگ ہم سے کوئی نہیں جیت سکتا، ان لوگوں کو زمانہ پیچھے چھوڑ گیا ہے ۔

انہوں نے مثال دی کہ مجھے ہائوسنگ کے منصوبے کا احساس تب ہوا جب ایک سرکاری محکمے کے ملازم نے اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل اپنے بیٹے کو بھرتی کرانے کی کوشش کی تا کہ اسے جوگھر الاٹ ہوا تھا وہ ان کے پاس ہی رہے لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوا ،اس شخص نے کسی سے پوچھا کہ کیسے ممکن ہے کہ یہ گھر ہمارے پاس ہی رہے، تو اسے بتایا گیا کہ دوران ملازمت انتقال سے بیٹھے کو بھرتی کرنے کا پیکیج ہے جس پر اس شخص نے گھر کی چھت سے چھلانگ لگا کر صرف اس لئے خودکشی کی کہ اس کے اہلخانہ سے چھت کوئی چھین نہ سکے ،غریب اور تنخواہ دار طبقے کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ وہ اپنا گھر بنا سکیں ،اس وقت بھی پاکستان میں ایک کروڑ گھروں کی کمی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ،وزارت ہائوسنگ ،ٹاسک فورس کی محنت اور لگن کے بعد ہائوسنگ کے شعبے کے لئے بھی بیرونی سرمایہ کاروں کی لائنیں لگی ہوئی ہیں ،دنیا سے لوگ اس لئے پاکستان آرہے ہیں انھیں پتہ ہے کہ 21کروڑ لوگوں کا ملک جس کی 60فیصد آبادی 30سال سے کم ہے اس میں بہت مواقع ہیں،ہائوسنگ کے شعبے میں پرائیویٹ سیکٹراور بیرونی سرمایہ کاری آنے سے پاکستان میں روزگار کے بہترین مواقع پیدا ہونگے ۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں 40فیصد،اسلام آباد اور دیگر شہروں میں بھی کچی آبادیاں ہیں ،ان کچی آبادیوں میں رہنے والوں کو ہم نے تمام حقوق اور سہولیات فراہم کرنی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ گذشتہ روز ایک چینی کمپنی کے نمائندے نے ملاقات کی جس میں پیش کیش کی کہ ہماری کمپنی پری فیبریکڈیٹ گھربنا کر دے گی جسکی تعمیر جلد اور سستی ترین ہوگی ، یہ ماڈل بن سکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت گھر بنانے کے لئے سود کے بغیر قرض دے رہی ہیں ، مائیکرو کریڈیٹ قرض کے لئے 5ارب مختص کیے گئے ہیں ۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ راولپنڈی اسلام آباد میں 25ہزارہائشی یونٹس ،بلوچستان میں ایک لاکھ 20ہزار ،آزاد کشمیر 14ہزار یونٹس بنا کر دیئے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ جب ایک جدوجہد میں ہوتے ہیں تو سیدھی لائن نہیں ہوتی ،اونچ نیچ اور مشکل وقت آتے ہیں ،قوم مشکل وقت سے ڈرے اور گبھرائے نہیں، یہ مشکل وقت قوم کو مضبوط بنانے کے لئے آتے ہیں ۔