فحاشی پھیلانے کا الزام، بھارت میں ٹک ٹاک بند کر دی گئی

بھارتی حکومت نے ٹک ٹاک کو اسٹورز سے ہٹانے کا حکم سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد دیا تھا

جمعرات اپریل 12:32

فحاشی پھیلانے کا الزام، بھارت میں ٹک ٹاک بند کر دی گئی
نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اپریل2019ء) بھارتی حکومت کی درخواست پر گوگل اور ایپل نے اپنے اسٹورز سے سوشل ویڈیو کریئیٹنگ اور شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کو ہٹا دیا۔عرب میڈیا کے مطابق گوگل اور ایپل نے 17 اپریل کو ٹک ٹاک کو اپنے اسٹورز سے ہٹالیا۔ٹک ٹاک کو اسٹورز سے ہٹائے جانے کے بعد اب بھارت میں دیگر صارفین اس ایپلی کیشن کو ڈاؤن لوڈ نہیں کر سکیں گے۔

ٹک ٹاک کو بھارت میں بلاک کیے جانے پر گوگل، ایپل اور خود ٹک ٹاک نے مزید کوئی بیان نہیں دیا، کمپنیوں کے مطابق چوں کہ تاحال معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، اس لیے اس پر مزید کچھ نہیں کہا جاسکتا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے 2 دن قبل ہی گوگل اور ایپل کو خط لکھ کر ٹک ٹاک کو اپنے اسٹورز سے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

(جاری ہے)

بھارتی حکومت نے ٹک ٹاک کو اسٹورز سے ہٹانے کا حکم سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد دیا تھا۔

بھارتی سپریم کورٹ نے ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف دائر ایک درخواست کی سماعت میں 2 دن قبل ہی حکومت کو حکم دیا تھا کہ ٹک ٹاک ملک میں فحاشی پھیلانے کا سبب بن رہی ہے، اس لیے مدراس ہائی کورٹ کے حکم پر عمل کیا جائے۔سپریم کورٹ سے قبل بھارتی ریاست تامل ناڈو کے دارالحکومت چنئی (سابقہ مدراس) کی مدراس ہائی کورٹ نے رواں ماہ اپریل کے آغاز میں ہی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ ملک میں ٹک ٹاک کی ڈاؤن لوڈنگ پر پابندی لگائی جائے۔

مدراس ہائی کورٹ کے مطابق جو افراد اپریل سے قبل ٹک ٹاک اپنے موبائل میں ڈاؤن لوڈ کرچکے ہیں انہیں کچھ نہ کیا جائے، مگر اس ایپلی کیشن کی مزید ڈاؤن لوڈنگ پر پابندی عائد کی جائے۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ ٹک ٹاک سے بھارت کی قومی سلامتی اورغیرت کو خطرہ ہے، اس سے نئی نسل تیزی سے گمراہی کی جانب بڑھ رہی ہے۔