پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس، ایوی ایشن ڈویژن کی سیپلمنٹری گرانٹس کی منظوری

پی آئی اے کے ذمے ایوی ایشن ڈویژن کے 96 ارب روپے کے پرانے واجبات کو وفاقی کابینہ نے منجمد کر دیا ہے، سیکرٹری ایوی ایشن ڈویژن وزارتوں میں سپلیمنٹری گرانٹس کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے، شیری رحمان

جمعرات اپریل 14:41

پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس، ایوی ایشن ڈویژن کی سیپلمنٹری گرانٹس ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 اپریل2019ء) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے ایوی ایشن ڈویژن کی مختلف سپلیمنٹری گرانٹس کی منظوری دے دی۔ جمعرات کوسینیٹر شیری رحمان کی صدارت میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کااجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔اجلاس میں ایوی ایشن ڈویژن کے مالی سال 2014-15ء کے مالی حسابات کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔

کنوینر کمیٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ وزارتوں میں سپلیمنٹری گرانٹس کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔اس حوالے سے میں جلد سینیٹ میں ایک قانونی بل پیش کروں گی کہ سپلیمنٹری گرانٹس کے لئے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہو گی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ میں سرکاری خرچے پر افسران کی بیرون ملک تربیت اور تعلیم کے معاملے میں من پسند افراد کو نوازا گیا۔

(جاری ہے)

ادارے میں 2015-16ء میں 50 نئے ماہر موسمیات بھرتی کئے گئے تھی جن کی بیرون ملک تربیت کے لئے 18 کروڑ 31لاکھ منظور کئے گئے تھے ، بجائے نئے بھرتی اہلکاروں کو بیرون ملک بھجوانے کے ادارے کے پہلے سے مستقل ملازمین کو بیرون ملک بھجوایا گیا۔ذیلی کمیٹی نے معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ایوی ایشن ڈویژن میں محکمانہ آڈٹ کمیٹی کے انعقاد میں تاخیر کے معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے پی اے سی کی ذیلی کمیٹی نے معاملے کا سخت نوٹس لے لیا ۔

سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ وفاقی سیکرٹری اپنے ادارے میں مالیاتی نظم و نسق کے مکمل ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ڈی اے سی کریں ،پھر آڈٹ اعتراضات ہمارے سامنے لائیں۔ذیلی کمیٹی نے ایوی ایشن ڈویژن کو ڈی اے سی کے لئے دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔امریکی اور نیٹو طیاروں کی جانب سے پاکستانی ایئر پورٹس کے استعمال کا معاملہ بھی کمیٹی میں زیر بحث آیا۔

اجلاس میں کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ امریکی ایئر فورس، غیر ملکی سفارتخانوں ، نیٹو اور اتحادی طیاروں نے 2015-16 میں بعض پاکستانی ایئر پورٹس استعمال کئے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستانی ، غیر ملکی ایئرلائنز اور نجی جہازوں کے ذمے بھی ایئر پورٹس استعمال کرنے کی مد میں واجبات ہیں۔ایوی ایشن ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اس مد میں سب سے زیادہ واجبات پی آئی اے کے ذمے ہیں۔

آڈٹ حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پی آئی اے کے ذمے 6 ارب 90 کروڑ روپے کے واجبات ہیں۔نیٹو، غیر ملکی اور نجی جہازوں کے ذمے ایک ارب روپے کے واجبات ہیں۔اور مجموعی طور پر اس حوالے سے 7 ارب 45 کروڑ روپے وصول ہونے ہیں۔ذیلی کمیٹی نے کہا کہ اس آڈٹ پیرا کو نمٹایا نہیں جا سکتا۔اس بارے میں وزارت خارجہ سے جواب طلب کیا جائے۔ سیکرٹری ایوی ایشن ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ پی آئی اے کے ذمے ایوی ایشن ڈویژن کے پرانے واجبات 96 ارب روپے ہیں۔ وفاقی کابینہ نے اس رقم کو منجمد کر دیا ہے۔جب تک پی آئی اے خسارے سے نہیں نکلتی ،یہ رقم نہیں مل سکتی۔ذیلی کمیٹی کا کہنا تھا پی آئی اے کو چھوڑ کر باقی واجبات سے متعلق ضرور جواب طلب کریں گے۔