Live Updates

وقت ضائع نہ کیا جاتا تواتنا معاشی نقصان نہ ہوتا، شہبازشریف

حکومت کو پہلے دن ہی میثاق معیشت کی پیشکش کی تھی، عمران نیازی ضد، انا اور تکبر کو چھوڑ کرمعیشت کر ترجیح دیں۔اپوزیشن لیڈڑ قومی اسمبلی شہبازشریف کا ردعمل

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات اپریل 16:24

وقت ضائع نہ کیا جاتا تواتنا معاشی نقصان نہ ہوتا، شہبازشریف
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔18 اپریل 2019ء) اپوزیشن لیڈڑ قومی اسمبلی شہبازشریف نے کہا ہے کہ وقت ضائع نہ کیا جاتاتواس قدر معاشی نقصان نہ ہوتا،حکومت کو پہلے دن ہی میثاق معیشت کی پیشکش کی تھی، عمران نیازی ضد، انا اور تکبر کو چھوڑ کرمعیشت کر ترجیح دیں۔انہوں نے اپنے وزیرخزانہ اسد عمر کے وزارت چھوڑنے کے اعلان کے بعد اپنے ردعمل میں کہا کہ وقت ضائع نہ کیا جاتا تو ملک کا اس قدر معاشی نقصان نہ ہوتا۔

اگر اب وقت کو نہ سنبھالا گیا تو مزید مسائل جھیلنا پڑیں گے۔ عمران نیازی ضد، انا اور تکبر کو چھوڑ کرمعیشت کر ترجیح دیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے پہلے دن میثاق معیشت کی پرخلوص پیشکش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نےپاکستانی معیشت کوناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

(جاری ہے)

وزیروں کی تبدیلی سےعمران خان اس معاشی تباہی کی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء اسد عمر نے وزارت خزانہ چھوڑنے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے پہلے بھی کہا تھا کہ کارکردگی کی بنیاد پر ردوبدل کرنا چاہتے ہیں ، وہ چاہتے ہیں کہ وہ توانائی کا چارج لیں۔ میں نے ان کو کہا کہ آپ اجازت دیں کہ میں کابینہ سے استعفیٰ دے دوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نئے پاکستان کیلئے ہمیشہ دستیاب ہوں۔

انہوں نے کہا کہ سات سال کا سفر تھا، میں نے آج کے دن پی ٹی آئی جوائن کی تھی، عمران خان نے کہا تھا کہ آپ ہمارے شامل ہوں۔ اس سفر کے اندر میں پی ٹی آئی کے تمام سپورٹرز کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ہماری پی ٹی آئی کی نوجوان یوتھ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میرے دور میں معیشت میں بڑی بہتری آئی ہے۔ نیا وزیرخزانہ بھی جو آئے گا وہ مشکل معیشت کو سنبھالے گا۔

ہر کوئی سمجھتا تھا کہ مشکل ترین نوکری میرے پاس ہے۔ہم اس وقت بہتری کی طرف جا رہے ہیں، صرف تھوڑے مشکل فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم جلد بازی کریں گے اور مشکل فیصلے نہیں کریں گے توپھر کھائی میں گر جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میرے بعد جو بھی آئے گا حکومت کو چاہیے کہ اس کے مشکل فیصلوں کے ساتھ کھڑی ہو، امید نہ کی جائے کہ فوری دودھ شہید کی ندیاں بہنا شروع ہوجائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم آئی ایم ایف پروگرام میں جارہے ہیں، جو بھی شخص اب وزارت خزانہ کی ذمہ داری لے گا اس کو فوری بجٹ بھی بنانا ہے، بجٹ بہت مشکل ہوگا۔ اسد عمر نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں میرے فیصلے سے پی ٹی آئی مضبوط ہوگی یا کمزور ہوگی، میں سازشوں کا حصہ بننے کیلئے تیار نہیں ہوں، مجھے نہیں معلوم کوئی سازش ہوئی ہے یا نہیں، مجھے میرے کپتان نے کہا کہ آپ نے یہ ذمہ داری لینی ہے ، تو میں نے سنبھالی۔ انہوں نے کہا کہ وزیرخزانہ کی ذمہ داری 21 کروڑ عوام ہے۔اس کی ذمہ داری کیپٹل مارکیٹ ہی نہیں ہے،بلکہ عوام کو ریلیف دینا بھی ہوگی، میں نے واضح کہا تھا کہ میں عوام کا کچومر نکالنے کو تیار نہیں ہوں۔
پاکستان کا آئی ایم ایف سے معاہدہ سے متعلق تازہ ترین معلومات