گرفتاری کا خوف ،ایرانی باکسر صدف نے ملک واپس جانے سے انکار کر دیا

میں نے حجاب نہیں لیا تھا ، میرا نگران کوچ ایک مرد تھا ،کچھ لوگوں کی نظر میں ناپسندیدہ ہوں ، انٹرویو

جمعرات اپریل 17:24

گرفتاری کا خوف ،ایرانی باکسر صدف نے ملک واپس جانے سے انکار کر دیا
پیرس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اپریل2019ء) فرانس میں پاکسنگ کے مقابلے میں شرکت کرنے والی ایرانی خاتون باکسر نے وطن واپس جانے سے انکار کرتے ہوئے دعو ی ٰ کیا ہے کہ ایران میں کہ ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دئیے گئے ہیں۔تفصیلات سے مطابق صدف خادم نے فرانسیسی باکسر اینی چاؤن کو ہونے والے مقابلے میں شکست دی تھی۔کھیلوں سے متعلق ایک اخبار نے صدف کے حوالے سے لکھا کہ ان کا خیال ہے کہ انھوں نے ایران میں خواتین کے لباس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔

ایرانی حکام نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم باکسنگ فیڈریشن کے سربراہ کی جانب سے اس امکان کو مسترد کیا گیا کہ صدف کی گھر واپسی پر انھیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ایرانی میڈیا نے باکسنگ تنظیم کے سربراہ حسین سوری کے حوالے سے لکھا کہ ان کے مطابق صدف ایران کی باکسنگ تنظیم کی رکن نہیں اور اس کی وجہ سے باکسنگ فیڈریشن کی نظر میں ان کے اقدامات ذاتی ہیں۔

(جاری ہے)

مغربی فرانس کے دیہی علاقے رویان میں کھیلے جانے والے میچ میں صدف نے ایرانی جھنڈے میں موجود رنگوں کے کپڑے پہن رکھے تھے۔ انھوں نے سبز شرٹ، سرخ شارٹس اور کمر کے گرد سفید پٹی باندھ رکھی تھی۔فرانسیسی اخبار کو انٹرویو میں صدف نے کہا کہ میں ایک ایسا میچ کھیل رہی تھی جس کی قانونی طور پر اجازت دی گئی تھی لیکن میں نے ٹی شرٹ اور شارٹس پہن رکھی تھی جو پوری دنیا کی نظر میں تو ایک عام سی بات ہے لیکن میرے ملک کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

انہوںنے کہاکہ میں نے حجاب نہیں لیا تھا اور میرا نگران کوچ ایک مرد تھا اس کی وجہ سے میں کچھ لوگوں کی نظر میں ناپسندیدہ ہوں۔پیرس میں ایرانی سفارت خانے کے ترجمان نے بتایا کہ وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے کہ صدف کو واپس لوٹنے پر گرفتار کر لیا جائیگا اور نہ ہی وہ ان کے ایران واپس نہ جانے کے فیصلے پر کچھ کہہ سکتے ہیں۔