لاہور ہائیکورٹ نے خواجہ برادران کی درخواست ضمانت پر سماعت 24اپریل تک ملتوی کر دی

خواجہ برادران نے پیراگون کو مختلف مالکان سے زمین لیکر دی ،اس معاونت پر کمیشن ملا ،ٹیکس ریٹرن میں سب کچھ ظاہر کیا ہوا ہے قیصر امین بٹ نے مرضی کا بیان نہیں دیا تو چیئرمین نیب نے معافی واپس لے لی ،قیصر امین بٹ کو دوبارہ معاف کر کے اپنی مرضی کا بیان دلوایا گیا جو بندہ جرم کرتا ہے چھپا کر کرتا ہے،نیب کہتی ہے کہ 67 شکایات آئیں مگر آج تک ہمیں انکے متعلق بتایا تک نہیں گیا‘وکیل خواجہ برادران پیراگون کے اصل مالکان خواجہ برادران ہیں ، یہ لوگوں سے رقوم بھی وصول کرتے رہے ‘نیب پراسیکیوٹر کے دلائل

جمعرات اپریل 18:13

لاہور ہائیکورٹ نے خواجہ برادران کی درخواست ضمانت پر سماعت 24اپریل تک ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اپریل2019ء) لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق اور انکے بھائی سلمان رفیق کی درخواست ضمانت پر سماعت 24اپریل تک ملتوی کر دی۔ ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس وقاص رئوف پر مشتمل بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔ خواجہ برادران کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ برادران نے پیراگون کو مختلف مالکان سے زمین لے کر دی ،اس معاونت پر خواجہ برادران کو کمیشن ملا جو کراس چیک کے ذریعے دیا گیا، جو لوگ غیر قانونی کام کرتے ہیں وہ بنک اور کراس چیک کے ذریعے نہیں کرتے ، ہم نے ٹیکس ریٹرن میں سب کچھ ظاہر کیا ہوا ہے، جو بندہ جرم کرتا ہے چھپا کر کرتا ہے۔

128 دن سے جیل میں ہیں نیب نے ابھی تک ریفرنس فائل نہیں کیا ،الزام لگایا گیا کہ ہم نے عوام سے فراڈ کیا،پیراگون میں 8ہزار پلاٹس ہیں مگر آج تک ایک بھی عوامی شکایت نہیں آئی ،نیب نے اس حوالے سے اشتہارات بھی دیئے مگر ایک بھی شکایت نہیں آئی ۔

(جاری ہے)

نیب کہتی ہے کہ 67 شکایات آئیں مگر آج تک ہمیں انکے متعلق بتایا تک نہیں گیا۔ عدالت نے کہا کہ شکایات ہیں تو پیراگون سٹی کے خلاف ہیں کیا کسی نے خواجہ برادران کا نام لیا ۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ پیراگون کے اصل مالکان خواجہ برادران ہیں اور یہ لوگوں سے رقوم بھی وصول کرتے رہے ۔پیراگون ہائوسنگ سوسائٹی میں جن افراد کو پلاٹ الاٹ ہوئے ان میں 68 نے نیب کو درخواست دی،تین سے چار افراد نے خواجہ برادران کا نام لیا ہے۔وکیل خواجہ برادران نے کہا کہ یہ معاملہ عوام کا نہیں دو بڑی ہائوسنگ سوسائٹیز کا پیراگون سے جھگڑا ہے ،جن دو افراد کے بیانات لگائے گئے ہیں وہ عام لوگ نہیں بلکہ ہائوسنگ سوسائٹیز کے مالکان ہیں ،دونوں سوسائٹیز کے پیراگون کے ساتھ سول کیسز چل رہے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ پیراگون سٹی کا ماسٹر پلان کہاں ہے ۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ماسٹر پلان جعلی ہے،ٹی ایم اے نے پیراگون کو رجسٹر نہیں کیا اور انہوں نے وہاں تعمیرات شروع کر دیں ۔وکیل خواجہ برادران نے کہا کہخواجہ برادران نے پیراگون کے ساتھ زمین کا تبادلہ کیا، دونوں بھائیوں نے پچاس کنال زمین دی اور بدلے میں لی جانے والی زمین کے ڈویلپمنٹ چارج بھی ادا کرنے ہیں۔

وکیل خواجہ برادران نے کہا کہ وارنٹ گرفتاری میں زمین کے بدلے زمین کا ذکر نہیں کیا گیا۔ جس پر عدالت نے حیرانگی کا اظہار کیا ۔وکیل خواجہ برادران نے مزید کہا کہ پیراگون کے خلاف جو بھی مقدمات چل رہے ہیں ان میں خواجہ برادران کا نام تک نہیں ، افسوس کی بات ہے کہ ان مقدمات کا عدالت می ذکر تک نہیں کیا گیا ،پیراگون کے ڈائریکٹر قیصر امین بٹ کو معاف کر کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو بیان ریکارڈ کروایا گیا ، قیصر امین بٹ نے مرضی کا بیان نہیں دیا تو چیئرمین نیب نے معافی واپس لے لی ،قیصر امین بٹ کو دوبارہ معاف کر کے اپنی مرضی کا بیان دلوایا گیا۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ پیراگون نے خواجہ برادران سے معاہدہ کیا ہے، معاہدہ کرنے والے بھی انکے رشتے دار ہیں،ہم نے پوچھا کہ آپکے اکائونٹ میں پیسے کیسے آئے تو جواب دیا گیا کہ ریکارڈ بہت پرانا ہے،تلاش کرنا پڑے گا۔فاضل بنچ نے کہا کہ ملزم کے سوال اور جواب پر اگر آپ نے تفتیش کرنی ہے تو ملزم کے پورے بیان کو دیکھنا ہوتا ہے،صرف ایک حصہ پر انحصار نہیں ہوتا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا تفتیشی نے خود ثبوت اکٹھے کئے۔ نیب وکیل نے کہا کہ ہم تو گھر گھر گئے پتہ کرنے کہ کس سے کمیشن لیا لیکن کوئی نہیں ملا،سب ریکارڈ غائب کر دیا گیا ہے۔ فاضل عدالت نے کیس کی مزید سماعت 24اپریل تک ملتوی کر دی ۔