اسلامی دنیا اس وقت انقلاب کے دورا ہے پر کھڑی ہے، راجہ ظفر الحق

او آئی سی کو اپنا کردار ایک بار پھر اسلامی اتحاد کیلئے بھر پور طریقے سے دوبارہ شروع کرناچاہیے، خطاب

جمعرات اپریل 20:05

اسلامی دنیا اس وقت انقلاب کے دورا ہے پر کھڑی ہے، راجہ ظفر الحق
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اپریل2019ء) اسلامی دنیا اس وقت انقلاب کے دورا ہے پر کھڑی ہے، جوعدم استحکام گزشتہ 15 سی20 برس میں پیدا کیا گیا آہستہ آہستہ ختم ہورہا ہے،او آئی سی کو اپنا کردار ایک بار پھر اسلامی اتحاد کیلئے بھر پور طریقے سے دوبارہ شروع کرناچاہیے۔ان خیالات کا اظہار سیکرٹری جنرل موتمر عالمی اسلامی و قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر راجہ محمد ظفرالحق نے دعوہٰ اکیڈمی کے زیر اہتمام تربیت حاصل کرنے والے 11 مسلم اقلیت ممالک سے تعلق رکھنے والی23 رکنی وفد سے موتمر عالمی اسلامی کے دفتر میں ملاقات کے دوران کیا۔

سینیٹر راجہ محمد ظفرالحق نے کہا کہ اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کو عزت اور احترام دے کر ماحول کو بہتر بنایا جا سکتا ہے جس کی واضح روشن مثال نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے قائم کی ہے۔

(جاری ہے)

اس انسانیت دوست عمل کو ہر ملک کو اختیار کرنا چاہیے۔راجہ محمد ظفرالحق نے کہا کہ دنیا میں کل مسلم آبادی کا تقریباً45 فیصد غیر مسلم ممالک میں بستاہے۔

مسلمانوں کو اپنے اعلیٰ کردار سے ان کے ساتھ روابط قائم کرنا چاہیے اور مثالی شہری کی حیثیت سے اپنے دین اور انسانیت کی خدمت کرنی چاہیے۔دعوہٰ اکیڈمی کے وفد کو قائد حزب اختلاف نے موتمر عالمی اسلامی کے قیام کے مقاصد اور تاریخ بارے تفصیلی آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے بادشاہ عبدالعزیز نے 1926 میں موتمر اسلامی قائم کرنے کا آئیڈیا پیش کیا تھا اور1931 میں بیت المقدس میں منعقدہونے والی او آئی سی کانفرنس میں اسے تنظیم کے طور پر قائم کیا گیا۔

اس کا آئین او رقوانین ترتیب دیئے گئے اور فلسطین کے گرینڈ مفتی الحاج امین الحسینی کی صدارت میں منعقدہ کانفرنس میں اس کی منظوری دی گئی جو موتمر کے صدر منتخب ہوئے اور اس کے دو نائب صدر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ? اورمصر کے سید الاؤبا پاشا تھے۔راجہ محمد ظفرالحق نے یہ بھی بتایا کہ23 مارچ1940 کو لاہور میں دو قراردادیں پاس کی گئیں تھی ایک پاکستان اور دوسری فلسطین کے قیام کی تھیں۔

پاکستان نے آزادی حاصل کے بعد مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے ہر فورم پر بھر پور موقف اختیار کیا۔انہوں نے کہا کہ جب تک مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین حل نہیں کیا جائے گا امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔راجہ محمد ظفرالحق نے کہا کہ مسلم ممالک کو باہمی تفرقات کو دور کر کے مسائل کو حل کرنا ہوگا۔راجہ محمد ظفرالحق نے وفد کو او آئی سی کے قیام کے مقاصد اور مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے او آئی سی کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات بارے تفصیلی آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ مذہب اسلام دنیا میں تیزی سے پھیل رہا ہے جس کی بنیادی وجہ اسلامی تعلیمات ہیں۔وفد میں کیوبا ، جنوبی افریقہ ، زمبابوے،یوگینڈ،کینیا،کمبوڈیا ، لاؤس، سری لنکااور میانمار وغیرہ کے اراکین شامل تھے۔