Live Updates

عمران خان کو لانے میں چیف سلیکٹرز سے غلطی ضرور ہوئی ہے لیکن وہ جلد ازالہ کریں گے ،سید خورشید شاہ

یہ لوگ ہمیں کہتے تھے ہم ایمنسٹی سکیم اپنے لوگوں کو بچانے کیلئے لارہے ہیں ،اب یہ بتائیں یہ ایمنسٹی سکیم کس کو بچانے کیلئے لارہے ہیں ،رہنما پیپلزپارٹی

جمعرات اپریل 20:30

عمران خان کو لانے میں چیف سلیکٹرز سے غلطی ضرور ہوئی ہے لیکن وہ جلد ازالہ ..
سکھر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اپریل2019ء) پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ نے حکومت کی ایمنسٹی اسکیم کے خلاف سینیٹ میں قرارداد لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ عمران خان کو لانے میں چیف سلیکٹرز سے غلطی ضرور ہوئی ہے لیکن وہ محب وطن ہیں جو جلد اپنی غلطی کا ازالہ بھی کریں گے ہر حکومت نے آئی ایم ایف سے قرضے لیے ہیں لیکن یہ حکومت جن شرائط پر قرضے لے رہی ہے وہ زیادہ ہیں اگر یہ حکومت ہٹ دھرمی پر قائم رہنے کے بجائے سات ماہ پہلے آئی ایم ایف کے پاس چلی جاتی تو اسے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط نہ ماننا پڑتیںان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھر میں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ یہ حکومت پرویز مشرف کے دًس سالہ دور کا آڈٹ کیوں نہیں کرتی کیونکہ اسے ڈر ہے کہ جس دن اس نے ایسا کیا اس کے دوسرے دن ان کی حکومت نہیں رہے گی ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ ہمیں کہتے تھے کہ ہم ایمنسٹی اسکیم اپنے لوگوں کو بچانے کے لیے لارہے ہیں تو اب یہ بتائیں کہ یہ ایمنسٹی اسکیم کس کو بچانے کے لیے لارہے ہیں مکران واقعہ افسوسناک ہے اس پر ہماری آنکھیں کھل جانی چاہئیں اپوزیشن نہیں چاہتی کہ ملک کے حالات خراب ہوں ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اداروں کو ریاست کی بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہیئے اپنے لیے استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ سیاست ملک کے عوام کی بہتری کے لیے ہوتی ہے جو سچ ہو وہ قوم کے سامنے رکھنا چاہیے اس حکومت نے ایک ڈھیلے کا بھی عوام کو ریلیف نہیں دیا اور الٹا ان کی چیخیں نکال دی ہیں ایک بھی وعدے پر حکومت پوری نہیں اتری ہے اور حالات سے تو یہ نظر آتا ہے کہ عوام کی جیبوں میں جو چند سکے بچے ہیں وہ بھی رمضان المبارک میں نکال لیے جائیں گے کیونکہ اس حکومت نے آئی ایم ایف کو 150 اور 160 تک لے جانے کا معاہدہ کیا ہے جو عوام کا چیخیں نکال دے گا ملک میں کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں حکومت نے جی ڈی پی گروتھ 5.8 سے 0.3 پر پہنچادی ہے زراعت کی گروتھ جو کہ 2013 میں 5.8 فیصد تھی وہ 1.4 فیصد تک پہنچادی ہے وزیر خزانہ قوم کو بتائیں کہ ڈالر کتنے کا ہے اٹھارہویں ترمیم سے صوبے اور وفاق خوش تھے لیکن اس حکومت نے تو سرکاری ملازمین کو بھی خوفزدہ بنا دیا ہے کہ تنخواہ ملے گی بھی یا نہیں ان کا کہنا تھا کہ ملک میں صدارتی نظام آئین کو ختم کرکے ہی لایا جاسکتا ہے ہم تو شروع سے کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ ہی بہترین راستہ ہے لیکن عمران خان آج اس پارلیمنٹ میں جس میں وہ خود بھی بیٹھے ہیں سب کو اپنے سمیت چور سمجھتے ہیں جب وزیر اعظم کی سوچ کنٹینر سے نہیں اترتی تو ملک کیا ترقی کرے گا جب وزیر اعظم خود ملک کو کرپٹ قرار دے رہا ہو تو وہاں کون سرمایہ کاری کرے گا

(جاری ہے)

ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر سے متعلق تازہ ترین معلومات