سپریم کورٹ نے شہباز شریف اورفواد حسن فواد کی ضمانت کے خلاف نیب کی اپیلیں باقاعدہ سماعت کیلئے منظورکرلیں

جمعرات اپریل 20:55

سپریم کورٹ نے شہباز شریف اورفواد حسن فواد کی ضمانت کے خلاف نیب کی اپیلیں ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 اپریل2019ء) سپریم کورٹ نے میاںشہباز شریف اورفواد حسن فواد کی ضمانت کے خلاف نیب کی اپیلیں باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے شہبا زشریف اور فواد حسن فواد کو نوٹسز جاری کردئیے ہیں اورکیس کی مزید سماعت 2 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے ضمانت کے کیس میں الزامات مسترد کر نے کے ساتھ قرار دیا ہے کہ تمام ٹھیکے میرٹ پر دیئے گئے ہیں ۔

(جاری ہے)

آشیانہ ہائوسنگ سکیم پر عمل پی ایل ڈی کمپنی نے کرانا تھا جمعرات کوجسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، تونیب کی جانب سے ایڈووکیٹ نعیم بخاری نے پیش ہوکرعدالت سے کہا کہ میں نے نیب کے کیسوں میںپیش ہونے پرآمادگی ظاہرکی ہے لیکن گزشتہ روز میڈیکل چیک اپ کے لئے یہ کیس ملتوی کرنے کیلئے عدالت کو درخواست کی تھی، لیکن سوشل میڈیا میں میری عدم خاضری کے بارے میں غلط خبریں چلانے کے باعث مجھے عدالت میں آناپڑا ہے ، حالانکہ اصل بات یہ تھی کہ بیرون ملک سے معالج نے آکر میرا چیک اپ کرنا تھا، اس لئے التواکی استدعا کی تھی، نعیم بخاری نے شہبازشریف اور فواد حسن فواد کی ضمانت کے معاملے کاذکر کرتے ہوئے عدالت کوبتایا کہ آشیانہ ہاؤسنگ سستے گھروں کا ایک منصوبہ تھا، جس کیلئے مختض تین ہزار کنال اراضی میں سے دو ہزار کنال اراضی پیراگون کو دے دی گئی، اس معاملے میں کیس احتساب عدالت میں چل رہا ہے جہاں متعلقہ شواہد پیش کئے جارہے ہیں، لیکن ان کوضمانت مل گئی ہے جس پربنچ کے سربراہ نے ان سے کہاکہ لگتا ہے آپ کو اس معاملے میںبہت جلدی ہے،کہیں واقعی پشاور تو نہیں جانا، تونعیم بخاری کاکہناتھاکہ مجھے پشاور نہیں ڈاکٹر کے پاس جانے کی جلدی ہے،لیکن میں عدالت کوبتاناچاہتاہوں کہ آشیانہ ہائوسنگ فراڈ کا اصل ذمہ دار شہباز شریف ہے، انہوں نے احد چیمہ کے ساتھ مل کر غیر قانونی طریقے سے منصوبہ ایوارڈ کیا اس کیس میں نامزد دوافراد پیراگون کے ندیم ضیاء اور کامران کیانی مفرور ہیں،کامران کیانی نے فواد حسن فواد کے بھائی کو اس معاملے میںساڑھے پانچ کروڑ روپے دئیے ہیںشہباز شریف نے پہلی نیلامی کو ختم کرکے دوسری نیلامی کا عمل بھی رکوا یا، سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن کاکہناتھا کہ ہائی کورٹ نے ضمانت کے کیس میں نیب کے الزامات ہی مسترد کر دیئے ہیںاورقراردیا ہے کہ تمام ٹھیکے میرٹ پر دیے گئے، جس پرنعیم بخاری نے عدالت کوبتایا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے سے ٹرائل بری طرح متاثر ہوگا، کیونکہ ہائی کورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا ہے شہباز شریف ہی آشیانہ سکینڈل کے ماسٹر مائینڈ ہیں،اورآشیانہ ہائوسنگ کا ٹھیکہ بدنیتی کی بنیاد پر منسوخ کروایا گیا جس کیلئے شہباز شریف نے لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے سربراہ کو گھر بلاکر ہدایات دیں،شہباز شریف کی ہدایات پر فیصلے کئے گئے، ان میں سے آٹھ فیصلوں نے احد چیمہ کے ہاتھ مضبوط کیے ہیں نعیم بخاری نے بتایا کہ فواد حسن فواد کیخلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا بھی کیس ہے، جس نے راولپنڈی میں ایک بڑا پلازہ تعمیر کرلیاہے جب احد چیمہ جیل میں ہے تو شہباز شریف اور فواد حسن فواد کس طرح باہر رہ سکتے ہیں، فاضل وکیل نے مزید کہا کہ اہور ہائی کورٹ کے جج صاحبان نے ضمانت دیتے وقت اپنا عدالتی ذہن استعمال نہیں کیا، ضمانت دینے نتیجہ جلد بازی میں اخذ کیا، گا، سماعت کے دورا ن جسٹس اعجا زالاحسن نے کہاکہ آشیانہ ہائوسنگ سکیم پر عمل پی ایل ڈی کمپنی نے کرانا تھا سوال یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ کمپنی کے معاملات میں مداخلت کیو ں کررہے تھے عدالت نیب کے وکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے درخواستیں باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے شہباز شریف اورفواد حسن فواد کونوٹس جاری کردئیے اورمزید سماعت ملتوی کردی۔