ترکی : حزب ِاختلاف کے امیدوار اکرم امام اوغلو استنبول کے منتخب میئر قرار

میئر کے انتخاب میں آق کی شکست کو صدر ایردوآن کے لیے ایک بڑا دھچکا قراردیا جارہا ہے انھوں نے اسی شہر سے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز کیا تھا

جمعرات اپریل 22:17

ترکی : حزب ِاختلاف کے امیدوار اکرم امام اوغلو استنبول کے منتخب میئر ..
ستنبول(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 18 اپریل2019ء) ترکی کے الیکشن کمیشن نے حزبِ اختلاف کی جماعت عوامی جمہوری پارٹی ( سی ایچ پی) کے امیدوار اکرم امام اوغلو کو ووٹوں کی دوبارہ گنتی مکمل ہونے کے بعد استنبول کا منتخب میئر قرار دے دیا ہے۔استنبول کی میئرشپ کے لیے اکرم امام اوغلو کا ترکی کی حکمراں انصاف اور ترقی پارٹی ( آق) کے امیدوار اور سابق وزیراعظم بن علی یلدرم سے مقابلہ تھا۔

آق نے پہلے استنبول میں 31 مارچ کو منعقدہ بلدیاتی انتخابات کے موقع پر ڈالے گئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست کی تھی اور پھر اس نے انتخابی بے ضابطگیوں پر میئر کے دوبارہ انتخاب کے لیے اپیل دائر کی تھی۔اس پر ابھی الیکشن کمیشن نے کوئی فیصلہ نہیں سنایا ہے۔حتمی نتائج کے مطابق حزبِ اختلاف کی سیکولر جماعت سی ایچ پی کے امیدوار معمولی ووٹوں کے فرق سے جیتے ہیں لیکن ان کی کامیابی سے استنبول میں صدر رجب طیب ایردوآن کی جماعت آق اور اس کی پیش رو اسلام پسند جماعتوں کے ربع صدی کو محیط اقتدار کا خاتمہ ہوگیا ہے۔

(جاری ہے)

استنبول کے میئر کے انتخاب میں آق کی شکست کو صدر ایردوآن کے لیے ایک بڑا دھچکا قراردیا جارہا ہے کیونکہ انھوں نے اسی شہر سے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز کیا تھا کہ وہ 1990 کے عشرے کے وسط میں استنبول کے پہلی مرتبہ میئر منتخب ہوئے تھے۔اس کے بعد وہ کوئی دس بارہ مرتبہ ملک کے اس سب سے بڑے شہر سے مختلف انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے۔اکرم امام اوغلو نے کئی ماہ کی شبانہ روز جدوجہد کے بعد بدھ کو بالآخر استنبول کے میئر کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔

انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ شہر کے ایک کروڑ 60 لاکھ مکینوں کے لیے کام کریں گے۔انھوں نے بلدیہ استنبول کی عمارت میں اپنے حامیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم جمہوریت اور حقوق کے لیے اپنی جنگ سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ہم اپنی ذمے داریوں اور اس شہر کی ضروریات سے آگاہ ہیں۔ہم فوری طور پر اپنی خدمات کا آغاز کریں گے۔حتمی نتائج کے مطابق اکرم امام اوغلو نے اپنے حریف آق کے امیدوار کے مقابلے میں 13000 ووٹ زیادہ حاصل کیے ہیں مگر ان کے درمیان ووٹوں کا فرق 0.2 فی صد پوائنٹس سے بھی کم ہے۔

اتنے کم فرق سے جیت کی وجہ سے آق نے ترکی کے اعلی الیکشن بورڈ کے ہاں مختلف اپیلیں دائر کی تھیں اور اس نے منگل کو بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں پر استنبول کے مئیر کاا نتخاب کالعدم قرار دینے اور وہاں نئے سرے سے پولنگ کرانے کا مطالبہ کیا تھا