وفاقی کابینہ میں تبدیلیوں کے بعد بھی حالات ٹھیک نہ ہوئے تو عمران خان اسمبلی تحلیل کر دیں گے، سینئیر صحافی کا دعویٰ

بجٹ سے پہلے اسد عمر کی جگہ کسی دوسرے کو لانے اور کابینہ میں تبدیلیوں کے بعد بھی نتائج حاصل نہ ہوئے تو اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں گی،شاہین صحبائی

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ جمعرات اپریل 22:45

وفاقی کابینہ میں تبدیلیوں کے بعد بھی حالات ٹھیک نہ ہوئے تو عمران خان ..
اسلام آباد(اردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔18اپریل2019ء) سینئیر صحافی شاہین صحبائی نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ وفاوقی کابینہ میں بڑی تبدیلیا ں آنے کے بعد اور بجٹ سے پہلے اسد عمر کی جگہ کسی اور کو لانے کے بعد بھی حالات ٹھیک نہ ہوئے تو عمران خان اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے۔
 
انہوں نے کہا ہے کہ اسمبلیوں میں تبدیلیوں پر اپوزیشن کو خوش نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ انہی کی حکموتوں کا بھیلایا ہوا گند ہے جسے عمران خان صاف کر رہے ہے ہیں۔

شاہین صحبائی نے کہا کہ اپوزیشن کا اب دوبارہ آنے کا امکان نہیں ہے کیونکہ عمران خان جمہوریت کی آخری امید ہیں۔ سینئیر صحافی نے کہا ہے کہ اگر عمران خان بجٹ سے عین پہلے وزیرخزانہ بدل سکتے ہیں اور دوسرے وزراء کو ہٹا یا تبدیل کر سکتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ نتائج نہ ملنے پر اسمبلی تحلیل توڑنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ جمعرات کے روز وزیراعظم کے دفتر سے ترجمان وزیراعظم نے اعلامیہ جاری کیا جس میں کئی وفاقی وزرا کو ان کے عہدوں سے ہٹا کر دوسرے عہدے دے دیے گئے جبکہ کچھ وزرا کو کابینہ سے نکال دیا گیا وفاقی کابینہ میں تبدیلیاں کرتے ہوئے وزیرِ پارلیمانی امور برگیڈیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کو وزیرِ داخلہ بنانے کا فیصلہ کا اعلان کیا گیا جبکہ وزیراطلاعات فواد چوہدری کو وزیراطلاعات کے عہدے سے ہٹا کر وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کا قلمدان دیے جانے کا بھی اعلامیہ جاری کیا گیا۔

ان کے علاوہ فردوس عاشق اعوان وزیراعظم کی مشیر اطلاعات ہوں گی ظفر اللہ امروز کو مشیر صحت بنادیا گی اور ڈاکٹر حفیظ شیخ کو وزارتِ خزانہ کا قلمدان دے دیا گیا ہے۔ اب امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ وفاوقی کابینہ میں بڑی تبدیلیا ں آنے کے بعد اور بجٹ سے پہلے اسد عمر کی جگہ کسی اور کو لانے کے بعد بھی حالات ٹھیک نہ ہوئے تو عمران خان اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے۔