حکومت بدل گئی مگر سرکاری سکولوں میں اساتذہ کا رویہ نہ بدلا

معصوم بچی کو خاتون ٹیچر بالوں سے پکڑ کر گھیسٹتی اور ٹھڈوں سے مارتی رہی

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعہ اپریل 06:25

حکومت بدل گئی مگر سرکاری سکولوں میں اساتذہ کا رویہ نہ بدلا
لاہور(اردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔19اپریل2019ء) مار نہیں پیار کا نعرہ لگائے تو کتنا عرصہ بیت گیا۔مگر آج بھی سرکاری سکولوں میں انسانیت سوز سلوک طالبعلموں کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔ہر چوتھے روز کوئی نہ کوئی ایسی ویڈیو وائرل ہو اتی ہے کہ جس میں معلم طالبعلموں پر بہیمانہ تشدد کرتانظر آتا ہے۔معلوم نہیں کہ ان کے اپنے بچے نہیں ہوتے یا پھر ان میں انسانیت نہیں ہوتی کہ وہ یوں پرسنل ہو کر بچوں کو مارتے ہیں کہ انسانیت ہی بھول جاتے ہیں۔

اب تک جتنی بھی ویڈیوز آئی ہیں ان میں زیادہ ویڈیوز میں بچیوں کو ہی بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایاجا رہاہے۔مارنے والا ٹیچر کہیں مرد تو کہیں عورت ہے مگر جس طالبعلم پر ظلم کیا جا رہا ہے وہ زیادہ تر بچیاں ہی ہیں۔ابھی تازہ ترین ویڈیو جو وائرل ہوئی ہے اس میں 8,10سال کی بچی کو خاتون ٹیچر مار رہی ہے۔

(جاری ہے)

بچی نے سکول یونیفارم پہن رکھی ہے اور کاندھے پر سکول بیگ بھی ہے۔

خاتون ٹیچر نے اسے بالوں سے پکڑ رکھااور اسے تھپڑوں سے مار رہی ہے۔مار کی برداشت جب حد سے بڑھی تو بچی ادھ موا ہو کر زمین پر بیٹھ گئی۔اس دوران ٹیچر اس کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے سکول کے گیٹ سے اندر لے گئے۔آگے جا کر رک کر ٹھڈوں سے بچی کے پیٹ اور جسم کے نچلے حصے پر مارنا شروع کر دیااور اس دوران اس بچی کے بال مسلسل پکڑے ہوئے ہیں۔معصوم بچی کی چیخیں ہر طرف سنائی دے رہی ہیں تاہم سفاک خاتون ٹیچر پر ان کا کوئی اثر نہیں ہو رہااور وہ بدستور بچی کو مارے جا رہی ہے۔

سمجھ سے بالا تر ہی کہ اس معصوم بچی نے ایسا کیاجرم کر دیا جو اسے خاتون ٹیچر اس قدر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔آج دنیا کتنی ترقی کر گئی مگر ہمارا تعلیمی نظام وہیں ہے اور سکولوں کے اساتذہ کا رویہ بھی ویسے کا ویسا ہی ہے۔

متعلقہ عنوان :