Live Updates

کاروباری مافیااور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفاد نے اسد عمر کی وزارت چھین لی

کابینہ کے ارکان نے وزیر خزانہ کے خلاف سازش کی اور وزیراعظم کو اس اقدم کے لیے اکسایا

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعہ اپریل 07:29

کاروباری مافیااور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفاد نے اسد عمر کی وزارت چھین ..
لاہور(اردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔19اپریل2019ء) اسد عمر صاحب تو پویلین لوٹ گئے مگر اپنے پیچھے بہت سارے سوال چھوڑ گئے جن کے جواب رفتہ رفتہ ملتے رہیںگے۔اس میں تو کوئی دورائے نہیں کہ پی ٹی آئی حکومت میں گروپنگ اور لابی سسٹم بہت ایکٹو ہے۔تو پھر لازم ہے کہ اسد عمر کے خلاف بھی تو کچھ لوگ ہوںگے جن کے مفادات ہوں گے لہٰذا انہوںنے اپنی خاموش چال چل دی اور اسی وزیر اعظم کو وزیرخزانہ کے خلاف کر دیا جو کل ان کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے تھے۔

سینئر صحافی حامد میر نے نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ کے کچھ ارکان اسد عمر کے خلاف تھے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ماننا تھا کہ جس قسم کی پالیسیاں اسد عمر صاحب لا رہے ہیں ان سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالکان اور مقامی بزنس سورما خفا ہیں۔

(جاری ہے)

کیونکہ ان پالیسیوں سے عام آدمی کو تو فائدہ پہنچنا تھا مگر ان کاروباری حضرات کو خوب نقصان ہونا تھا۔

لہٰذا ان مقامی اور غیر ملکی بزنس مافیا نے مختلف کابینہ ارکان کے ذریعے راستہ صاف کیا۔یہ وزرا وزیراعظم کو اسد عمر کے خلاف رپورٹ کرتے رہے اور جب پچھلے دنوں وہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے امریکہ گئے تو پیچھے آٹھ دس وزرا عمران خان صاحب کے پاس گئے اور انہوں نے کشتی الٹ دی۔اسد عمر صاحب جب ملک واپس آئے تو انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ تبدیلی آ چکی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایئر پورٹ پر جب ان سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ سنا ہے آپ سے وزارت واپس لی جا رہی ہے تو اسد عمر صاحب نے مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا تھا کہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔لیکن اسی روز شام تک انہیں پتا چل گیا تھا کہ ان کے خلاف فیصلہ ہو چکااور ان سے وزارت لی جا رہی ہے۔جس کے کچھ دن بعد فیصلے پر عملدرآمد بھی ہو گیا۔یوں کاروباری حضرات اور انٹرنیشنل بزنس مافیا اپنے منصوبے میں کامیاب ہو گیا۔

پاکستان کا آئی ایم ایف سے معاہدہ سے متعلق تازہ ترین معلومات