صحافتی آزدیوں میں کمی امریکا بھی لپیٹ میں آگیا‘ واشنگٹن کی پالیسیوں سے آزدیاں تنزلی کا شکار ہورہی ہیں. رپورٹرز ودآﺅٹ بارڈرز

ناروے‘فن لینڈ‘ڈنمارک‘ ہالینڈ اور سویڈن عالمی انڈکس میں اوپر رہے‘برطانیہ33نمبر پر جبکہ ترکمانستان آخری نمبر پر رہا. صحافیوں کی عالمی تنظیم کی رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ اپریل 09:01

صحافتی آزدیوں میں کمی امریکا بھی لپیٹ میں آگیا‘ واشنگٹن کی پالیسیوں ..
نیویارک(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 19 اپریل۔2019ء) عالمی آزادی صحافت انڈیکس میں امریکا کو صحافیوں کے لیے غیرمحفوظ ممالک کی فہرست میں48نمبر پر رکھا گیا ہے180ممالک کی فہرست میں ناروے‘فن لینڈ‘ڈنمارک‘ ہالینڈ اور سویڈن کو اوپر رکھا گیا ہے صحافیوں کی عالمی تنظیم ”رپورٹرز ودآﺅٹ بارڈرز“ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متواتر تیسرے برس امریکہ آزادی صحافت کی سالانہ پیمائش میں تنزلی کا شکار رہا جس کا سبب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے صحافیوں کو دھمکیاں دینا اور ذرائع ابلاغ کے بارے میں ان کے اشتعال انگیز بیان شامل ہیں.

(جاری ہے)

اس ضمن میں، بتایا گیا ہے کہ جن 180 ملکوں اور علاقہ جات کا سروے کیا گیا اس فہرست میں امریکہ 48 ویں سطح پر شمار ہوتا ہے جبکہ 2016 میں اختیار کردہ معیار کی یہ مبینہ تنزلی بدستور جاری ہے. یہ رپورٹ سال 2002 سے ہر سال جاری ہوتی ہے اب امریکہ ان ممالک کی کیٹگری میں شامل ہے جنہیں صحافیوں کے ساتھ روا سلوک کو مشکلات کا شکار قرار دیا جاتا ہے. رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں آزادی صحافت کے گراف میں گراوٹ ٹرمپ کے عہدہ صدارت سے پہلے سے جاری تھی ان کے پہلے سال کے دوران صحافتی آزادیوں میں کمی کا رجحان جاری رہا.

رپورٹ میں اس بات کا حوالہ دیا گیا ہے کہ ٹرمپ کئی بار میڈیا کو امریکی عوام کا دشمن قرار دے چکے ہیں جبکہ متعدد صحافتی اداروں کو وائٹ ہاﺅس تک رسائی دینے سے انکار کیا گیا اسی طرح نکتہ چینی پر مشتمل ان کی رپورٹنگ کو ”فیک نیوز“ کہا گیا اور میڈیا کے چند اداروں کو نشریات کے لائنس منسوخ کرنے کی دھمکیاں دی گئیں. آج جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال کے دوران دنیا بھر میں صحافیوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے کے رویے میں اضافہ ہوا جس کا بنیادی سبب آمرانہ انداز حکمرانی والے راہنماﺅں کا طرز عمل ہے.

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مطلق العنان حکومتوں نے ذرائع ابلاغ پر کنٹرول سخت کرنے کے اقدام کیے جس کے نتیجے میں صحافیوں کے لیے نفرت میں اضافہ ہوا جو کچھ ممالک میں تشدد کی شکل بھی اختیار کر گیا اس صورتحال سے خوف میں اضافہ ہوا ہے. اس انڈیکس میں یورپی ملک ایک بار پھر امتیازی سطح پر رہے لگاتار تیسرے برس بھی ناروے اس فہرست میں اونچے مقام پر رہا جس کے بعد فن لینڈ، سویڈن، نیدرلینڈ اور ڈ نمارک آتے ہیں‘انڈیکس میں برطانیہ 33ویں نمبر پر رہا جس نے گذشتہ سال سات درجے بہتر کارکردگی دکھائی‘تاہم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مغربی یورپ میں برطانیہ کی کارکردگی خراب ترین رہی.

رپورٹ میں اس بات کی جانب توجہ مبذول کرائی گئی ہے کہ برطانیہ کی کارکردگی میں کچھ قدر بہتری اس لیے نظر آتی ہے چونکہ دیگر ملکوں میں آزادی صحافت میں تیزی سے تنزلی آئی ہے. فہرست میں نچلی ترین سطح پر جو ممالک بتائے گئے ہیں ان میں ایشیائی ملک شامل ہیں‘ترکمانستان 180 کی سطح پر ہے جس کے بعد برے ترین ملک شمالی کوریا، اریٹیریا، چین اور ویتنام ہیں‘دنیا بھر میں جنوبی امریکہ کے ملک گراف میں نچلی ترین سطح پر آتے ہیں جس میں برازیل، میکسیکو، نکاراگوا اور وینزویلا شامل ہیں.

مشرق وسطیٰ، افریقہ، مشرقی یورپ، وسطی ایشیا اور ایشیا پیسیفک کے بعد یورپی یونین اور بلقان کے ملک وہ علاقے ہیں جہاں صحافت کی آزادی کی سطح گرتی جا رہی ہے. بتایا گیا ہے کہ سروے میں 87 سوالات شامل کیے گئے تھے جن کی بنیاد ہر ملک میں اجتماعیت کا عنصرمیڈیا کی آزادی اور سینسر شپ کے معاملات کا جائزہ لیا گیا.