2016کے امریکی صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کی تفتیش

امریکی پارلیمان میں رابرٹ ملر رپورٹ پر بحث جاری

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ اپریل 09:04

2016کے امریکی صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کی تفتیش
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 19 اپریل۔2019ء) امریکی پارلیمان میں 2016کے صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت پر رابرٹ ملرکی تفتیشی رپورٹ پر بحث جاری ہے . ریاست اوکلوہاما سے تعلق رکھنے والے ریپبلیکن سینیٹر، جیمز انہوف نے ملر کی رپورٹ پر کہا ہے کہ اس تفتیش کا شور زیادہ مچایا گیا مگر کوئی گٹھ جوڑ اور کوئی رکاوٹ ثابت نہیں ہو پائی انہوں نے الزام لگایا کہ ڈیموکریٹس نے محض صدر کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے.

جبکہ ڈیموکریٹس نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ ٹرمپ کے اقدامات کی چھان بین جاری رکھیں گے.

(جاری ہے)

نیو یارک سے ڈیموکریٹ رکن ایوانِ نمائندگان، جیری نادلر نے کہا کہ خصوصی تفتیشی اہلکار نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے صدر کو الزام سے بری نہیں کیا، اور اب یہ کانگرس کی ذمے داری ہے کہ وہ صدر کے اقدامات پر ان کا احتساب کرے. انہوں نے کہا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ کانگریس مکمل رپورٹ سامنے رکھ کر خصوصی تفتیشی اہل کار ملر کی جانب سے پیش کردہ ثبوت پر غور کرے.

ڈیموکریٹ قانون سازوں نے ملر رپورٹ کے ان حصوں کی نشاندہی کی ہے جن میں 2016 کے صدارتی انتخابات میں مد مقابل ڈیموکریٹ امیدوار ہیلری کلنٹن کو نقصان پہنچانے کے لیے ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں کی جانب سے غیر ملکی کارندوں سے رابطے کیے گئے؛ جن میں ان کی اِی میلوں کو ہیک کرنا اور حساس اِی میلوں کو جاری کرنا شامل ہے. انہوں نے ان واقعات کی دستاویزات کی جانب بھی توجہ مبذول کرائی جن میں ٹرمپ نے روس سے متعلق چھان بین کو روکنے کی مبینہ کوشش کی.

ڈیموکریٹ رکن کانگرس بریڈ شرمن نے کہا ہے کہ ملر نے گٹھ جوڑ دکھائی ہے جو شاید مجرمانہ گٹھ جوڑ نہیں ہے اِی میلوں کو جاری کرنا گٹھ جوڑ ہے لیکن ہیکنگ ایسا عمل نہیں ہے ملر نے مجرمانہ رکاوٹ ڈالنے کی کئی مثالیں پیش کی ہیں. اس سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے اٹارنی جنرل ولیم بر نے کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل اور میں اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ خصوصی تفتیشی نمائندے نے جو ثبوت پیش کیے ہیں وہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں کہ صدر ٹرمپ یا ا±ن کی صدارتی مہم کے کسی اہل کار نے انصاف کی راہ میں کوئی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی.

امریکی اٹارنی جنرل نے تفتیشی رپورٹ جاری کرنے سے قبل رپورٹ کی چند تفصیلات پیش کرتے ہوئے زور دے کر کہا کہ صدر ٹرمپ کی صدارتی مہم اور روس کے درمیان کسی قسم کی ساز باز کے کوئی اشارے نہیں ملے. واضح رہے کہ تفتیش کاروں نے طے کیا ہے کہ 2016 کے انتخابات میں روسی مداخلت سے متعلق ٹرمپ کی انتخابی مہم میں سے کسی نے جان بوجھ کر کوئی ساز باز نہیں کی تاہم انہوں نے صدر کو اس بات سے بری الذمہ قرار نہیں دیا کہ انہوں نے انصاف میں رکاوٹ ڈالنے کے اقدام نہیں کیے.