ڈیموکریٹس نے ٹرمپ کو ہرانے کے لیے طویل انتخابی مہم شروع کرنے کا اعلان کردیا

نومبر2020میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے مہم کا آغاز رواں سال میں شروع کی جارہی ہے

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ اپریل 09:09

ڈیموکریٹس نے ٹرمپ کو ہرانے کے لیے طویل انتخابی مہم شروع کرنے کا اعلان ..
 واشنگٹن (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 19 اپریل۔2019ء) امریکا میں صدارتی انتخابات کے لیے تیاریاں شروع ہوگئی ہیں اور اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ رواں سال کے دوران ہی بھرپور انتخابی مہم کا آغاز کریں گے اور نومبر2020میں ہونے والے صدراتی انتخابات کے لیے طویل انتخابی مہم کے ذریعے تمام ریاستوں میں ووٹرز تک پارٹی کے منشور اور پغام کو پہنچایا جائے .

امریکا میں صدارتی انتخابات کے لیے ووٹرزسے سوشل میڈیا‘ٹیلی فون ‘ڈاک‘رضاکاروں کی اپنے علاقے میں ڈور ٹو ڈور مہم سمیت ووٹرز تک پہنچنے کے تمام ذرائع اختیار کیئے جاتے ہیں.

(جاری ہے)

ڈیمو کریٹک صدارتی امیدواروں کا ایک بڑا گروپ 2019 میں اپنی مہم کا جلد اور بھرپور آغاز کر رہا ہے اور کچھ ماہرین یہ پیش گوئی کر رہے ہیں کہ پارٹی کی نامزدگی کا مقابلہ کئی برسوں میں ہونے والا ایک طویل ترین اور مشکل ترین مقابلہ ہو گا.

اب تک لگ بھگ 20 ڈیموکریٹس انتخابی میدان میں اتر چکے ہیں اور بہت سوں کو خود کو بھرپور طور پر متعارف کرانے اور فنڈز اکٹھے کرنے کے دشوار مرحلے کا سامنا ہے‘جن ڈیموکریٹس نے باضابطہ طور پر اپنے صدارتی مقابلے کا اعلان کیا ہے، ان میں تازہ ترین امیدوار ساو¿تھ بینڈ، انڈیانا کے میئر پیٹ بوٹے جیج شامل ہیں. پیٹ بوٹے جیج کو، جو ایک اعلانیہ ہم جنس پرست ہیں، اور جنہیں فنڈز اکٹھے کرنے میں کیلی فورنیا کے سینیٹر کاملا ہیرث کی طرح کامیابی ہوئی ہے بہت سے دوسرے ڈیموکریٹ امیدواروں کی طرح ہیرث نے اپنی زیادہ تر توجہ صدر ٹرمپ پر مرکوز کی ہے.

وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک ایسے صدر کے متحمل نہیں ہو سکتے جو نفرت اور تفریق کو ہوا دیتا ہو ہم ایسا نہیں کر سکتے‘ڈیموکریٹ امیدواروں کے اس بڑے گروپ میں نیو جرسی کے سینیٹر کوری بوکر، کیلی فورنیا کے کانگرس مین ایرک سویل ول اور اوہائیو کے کانگرس مین ٹم رائن شامل ہیں‘رائن کہتے ہیں کہ میں صدر کا انتخاب لڑ رہا ہوں جس کا پہلا اور سب سے اہم مقصد اس ملک کو دوبارہ اکٹھا کرنے کی کوشش ہے.

رائے عامہ کے جائزے ترتیب دینے والے جان زاگبی کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹ ووٹرز کے پاس انتخاب کے لیے بہت سے امیدوار ہیں لیکن ان کی سب سے اہم خواہش کسی ایسے امیدوار کو تلاش کرنا ہے جو ٹرمپ کو شکست دے سکے. ان کا کہنا ہے کہ وہ کس کے ذریعے ایسا کر سکیں کیا وہ کسی پروگریسیو امیدوار کے ساتھ اسے ممکن بنائیں یا کسی مین اسٹریم کے کسی امیدوار کے ذریعے یہ ہے ایک سوال کیا وہ کسی معمر روایتی امیدوار کے ذریعے اسے ممکن بنائیں یا کسی جوان چہرے کے ذریعے‘اعتدال پسند بائیں بازو کے ایک تھنک ٹینک تھرڈ وے کے جم کیسلر کہتے ہیں کہ ایک طویل اور امکانی طور پر ایک مشکل مہم میں واضح طور پر کوئی ایک سب سے بڑا مد مقابل تلاش کرنے میں دشواری کا سامنا ہو گا.

ان کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ یہ ان انتہائی منفی مہموں میں سے ایک ہو گی جو ہم نے ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخاب میں کبھی بھی دیکھی ہو گی کیوں کہ آپ کے پاس 15 یا 16 امیدوار ہیں اور جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ جب تک ان میں سے دو یا تین واقعی ہٹا نہیں دیے نہیں جاتے، میرے لیے قطعی طور پر کوئی چانس نہیں ہے. بروکنگ انسٹی ٹیوٹ کی ایلین کیمرک کا کہنا ہے کہ ڈیمو کریٹک امیدوار ٹرمپ پر کم مرکوز ہیں اور وہ ملک میں ایک پائیدار تبدیلی لانے میں دلچسپی رکھتے ہیں‘وہ کہتی ہیں کہ میرا خیال ہےکہ ڈیمو کریٹس عدم مساوات اور اقتصادی ترقی کی بنیاد پر انتخاب لڑیں گے اور انہیں انہی بنیادوں پر لڑنا چاہیئے کیوں کہ یہ ہی وہ مسائل ہیں جس کا ملک کو درحقیقت سامنا ہے اور جن سے نمٹا نہیں گیا ہے.

ایک سب سے واضح اور سب سے نمایاں مدمقابل سابق نائب صدر جو بائیڈن ہو سکتے ہیں انہوں نے ابھی تک اپنی امیدواری کا اعلان نہیں کیا ہے، لیکن توقع ہے کہ وہ آنے والے ہفتوں میں ڈیموکریٹک میدان میں شامل ہو جائیں گے. بائیڈن اور ورمونٹ کے سینیٹر برنی سینڈرز اس وقت رائے عامہ کے جائزوں میں سبقت لے رہے ہیں اور سینڈرز اس سال کی پہلی سہ ماہی میں فنڈ ریزنگ میں تمام ڈیمو کریٹک امیدواروں سے آگے رہے ہیں.