بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں ہمسایہ ممالک کی ایجنسیاں ملوث

را، این ڈی ایس، موساد، بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کر وا رہی ہیں

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ اپریل 10:42

بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں ہمسایہ ممالک کی ایجنسیاں ملوث
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 19 اپریل 2019ء) : بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں ہمسایہ ممالک کی ایجنسیوں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق حال ہی میں ہزارہ برادری پر دہشتگردانہ حملہ اور اس کے بعد گذشتہ روز بس میں سوار مسافروں پر فائرنگ کے دونوں واقعات میں میں بھارتی خفیہ ایجنسی را، موساد، افغان انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس اور بلوچ علیحدگی پسند تنظیم کے ملوث ہونے کے ثبوت موصول ہو گئے ہیں۔

قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ سرحدی اور سفارتی محاذوں پر شکست کے بعد بھارتی خفیہ ایجنسی را، این ڈی ایس، اسرائیلی ایجنسی موساد نے پاکستان کے اندر دہشتگردی پھیلانے کے لیے افغانستان کے صوبہ کنڑ میں خفیہ میٹنگ میں، جس میں بلوچ علیحدگی پسند تنظیم کے کچھ رہنما اور کا لعدم تنظیموں کے رہنما موجود تھے ، میں پاکستان کے اندر فرقہ وارانہ فسادات اور صوبائی عصبیت پھیلانے کی منصوبہ بندی کی اور اسی منصوبہ بندی کے تحت مختلف افراد کو استعمال کرتے ہوئے چند روز قبل خود کش دھماکے میں ایک خاص فرقہ کے کچھ لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔

(جاری ہے)

ذرائع نے بتایا کہ مذہبی فسادات برپا کرنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد پلاننگ کے تحت بس سے اتار کر اغوا کرنے کے بعد 14 افراد کو شہید کرکے صوبائی عصبیت پھیلانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ پاکستان کے اہم اداروں نے اس حوالے سے اہم ثبوت حاصل کر لئے ہیں جس میں یہ بالکل واضح ہو گیا کہ اس سازش کے پیچھے غیر ملکی قوتیں اور ان کے آلہ کار بنے ہوئے علیحدگی پسند تحریکوں کے کچھ لوگ اور کا لعدم تنظیموں کے کچھ لوگ ہیں، جس وقت ان افراد کو قتل کیا گیا، اس وقت ان کی ویڈیوز بنائی گئیں اور پھر وہ ویڈیوز را، موساد اور این ڈی ایس کے اہلکاروں کو بھیجی گئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اہم اداروں نے ان کالز کو بھی ٹریس کر لیا ہے جو اس واقعہ کے حوالے سے کی گئیں ۔اس خوفناک سازش میں کچھ ایسی قوتوں کو بھی فنڈنگ کی گئی جن کو یہ کہا گیا کہ وہ ان واقعات کے بعد فرقہ وارانہ اور صوبائی عصبیت کی آگ کو بھڑکانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں جس میں کئی این جی اوز، کئی نام نہاد مذہبی گروپ اور ایسی لسانی تنظیمیں بھی شامل ہیں جو ہر صورت پاکستان کے اندر بد امنی چاہتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس حوالے سے بھی تحقیقات ہو رہی ہیں کہ پاکستان کے اندر کام کرنے والی سیاسی اور لسانی تنظیمیں اس واقعہ پر خاموش کیوں ہیں اور ان کے کچھ رہنماؤں کے ٹویٹ، بیانات متنازعہ ترین کیوں ہیں۔ ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ بھارت اور افغانستان کے دو قونصلیٹ بھی اس دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں شامل ہیں۔