اگر تبدیلی ہو بھی تو ان ہا ئو س ہونی چاہیے، آپس کی لڑائی ملک کے اندر لڑی جائے ،سید خورشید شاہ

عمران خان پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کریں، تمام مسائل حل ہوجائیں گے،معیشت کی کمزوری حکومت کی ناکامی ہے، ایسے معاملات پر اپوزیشن سیاست نہیں کریگی،اسد عمر کو ملکی اکانومی کا کوئی تجربہ نہیں تھا، قوم کوجنت کے جھوٹے خواب دکھائے ،پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں ہے لایا گیا ہے،عمران خان کی پارٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کے سابق ارکان ملیں گے، سینئر رہنما کی میڈیا سے بات چیت

جمعہ اپریل 14:36

اگر تبدیلی ہو بھی تو ان ہا ئو س ہونی چاہیے، آپس کی لڑائی ملک کے اندر ..
سکھر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 اپریل2019ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ اگر تبدیلی ہو بھی تو ان ہا ئو س ہونی چاہیے، آپس کی لڑائی ملک کے اندر لڑی جائے ،عمران خان پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کریں، تمام مسائل حل ہوجائیں گے،معیشت کی کمزوری حکومت کی ناکامی ہے، ایسے معاملات پر اپوزیشن سیاست نہیں کریگی،اسد عمر کو ملکی اکانومی کا کوئی تجربہ نہیں تھا، قوم کوجنت کے جھوٹے خواب دکھائے ،پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں ہے لایا گیا ہے،عمران خان کی پارٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کے سابق ارکان ملیں گے۔

جمعہ کو یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ اسد عمر کی ناکامیاں نظرآرہی تھیں، تبدیلی ہونا تھی، پہلے ہی کہا تھا معاشی حالات خراب ہیں، مل کرحل کرنا ہوگا ۔

(جاری ہے)

خورشید شاہ نے کہاکہ تمام ملکی معاملات میں حکومت کے ساتھ کام کرنے کی بات بھی کی تھی۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان کے خودکشی کے بیان سے حکومت دیرسے آئی ایم ایف کے پاس گئی۔ انہوںنے کہاکہ معیشت کی ناکامی سے عوام کا نقصان ہوتا ہے ،معیشت کی کمزوری حکومت کی ناکامی ہے ایسے معاملات پر اپوزیشن سیاست نہیں کرے گی۔

انہوںنے کہاکہ ہم نے اپنے دورمیں مشکل حالات کے باوجود عوام کو ریلیف دیا،ہم نے نامساعد حالات میں بھی لوگوں کو نوکریاں دی ہیں تاہم آج ایک خاکروب کو بھی نوکری نہیں مل رہی۔ انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی میں تمام سیاسی جماعتوں کے سابق ارکان ملیں گے ،پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں ہے اسے لایا گیا ہے۔خورشید شاہ نے کہا کہ جوحکومتیں معیشت کی وجہ سے ختم ہوتی ہیں وہاں انارکی کا خطرہ ہوتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان آج پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کریں، تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔ انہوںنے کہاکہ اگر تبدیلی ہو بھی تو ان ہا ئو س ہونی چاہیے، آپس کی لڑائی ملک کے اندر لڑی جائے کیونکہ باہر لڑنے سے رسوائی ہوتی ہے۔