میراہدف پاکستان کے غریب اور پسے ہوئے طبقے کو اوپر اٹھانا ہے ،ہدف حاصل کرنے کیلئے ٹیم میں مزید تبدیلیوں کی ضرورت ہوئی تو وہ بھی کروں گا،

قبائلی باشندوں نے لازوال قربانیاں دی ہیں ، حکومت انکے نقصانات کا ازالہ اور انکا معیار زندگی بلند کرے گی جیل جانے کے خوف میں مبتلا سیاستدان حکومت گرانے کی باتیں کر رہے ہیں، جمہوریت خطرے میں نہیں ، جمہوریت مضبوط ہوئی ہے،کرپٹ لوگوں کو جمہوریت خطرے میں نظرآتی ہے، ان کوڈرہے عمران خان دوسال بھی رہ گیا تویہ سارے جیلوں میں چلے جائیں گے وزیر اعظم عمران خان کا اورکزئی میں جلسے سے خطاب

جمعہ اپریل 17:49

میراہدف پاکستان کے غریب اور پسے ہوئے طبقے کو اوپر اٹھانا ہے ،ہدف حاصل ..
پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 اپریل2019ء) وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہاہے کہ کپتان کا مقصد ہر حال میں میچ جیتنا ہوتا ہے اور اس مقصد کیلئے وہ ضرورت پڑنے پر اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کو بھی تبدیل کرتا اور ان کا بیٹنگ آرڈر بھی بدلتا ہے ، میرا مقصد پاکستان کے غریب اور پسے ہوئے طبقے کو اوپر اٹھانا اور میں اس مقصد میں کامیابی کیلئے ضرورت کے مطابق اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کی ذمہ داریوں یا ان کھلاڑیوں ہی کو تبدیل کرتا رہوں گا ، ان خیالا ت کا اظہار انھوں نے جمعہ کے روز ضلع اورکزئی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انھوں نے خصوصی طور پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور وزیر اعلی پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اپنی صوبائی ٹیموں پر نظر رکھیں ، انھوں نے کہا کہ اللہ نے ہمارے کندھوں پر بھاری ذمہ داری ڈالی ہے اور ہمیں صرف اس ذمہ داری کے تقاضوں کی فکر کرنی چاہیے لہذا جو وزیر پرفارمنس نہیں دے رہا، اسے تبدیل کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں ہو نا چاہیئے ، وزیر اعظم نے کہا کہ آصف زرداری ، نواز شریف اور شھباز شریف کے خاندانوں نے ملکی دولت لوٹ کر اربوں کے اثاثے بنائے، میرے سامنے آئے روز انکی کرپشن کے قصے بے نقاب ہو رہے ہیں اور انھیں ڈر ہے کہ اگر عمران خان دو سال بھی وزیر اعظم رہا تو وہ جیلوں میں ہوں گے اور انکا لوٹا ہوا پیسہ ملک کے خزانے میں واپس ہو گا اسے لئے وہ حکومت گرانے کی بات کر رہے ہیں ، انھوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام خصوصاًنوجوان طبقہ اب انکی حقیقیت جان چکا ہے اور ان کرپٹ عناصر کو دوبارہ اقتدار میں نہیں آنے دے گا،وزیر اعظم نے کہاکہ اس وقت ملک تاریخ کے مشکل ترین معاشی مرحلے سے گزر رہاہے جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہمیں اوسطاً ہر دن کے حساب سے قرضوں پر صرف سود کی مد میں ساڑھے چھ ارب روپے ادا کرنے پڑرہے ہیں اور یہ صورتحال پی پی پی اور ن لیگ کے ادوارحکومت کی دین ہے جنہوں نے ملک کا قرضہ چھ ہزار ارب روپے 30 ہزار ارب روپے تک پہنچا دیا ۔

(جاری ہے)

عمران خان نے افغانستان کے حوالے سے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وہ افغان حکومت کو کوئی مشورہ تو نہیں دیتے کیونکہ وہ انکے مشورے کو اپنے معاملات میں مداخلت سمجھتے ہیں تاہم انکی دلی دعا ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو کیونکہ امن قائم ہونے سے افغان عوام کے حالات زندگی بہتر ہو سکتے ہیں، انھوں نے کہا کہ افغانستان میں امن قائم ہو جائے تو وہ وہاں کینسر ہسپتال کی تعمیر کا جائزہ لیں گے ، انہوں نے کہاکہ افغانستان کا امن نہ صرف پاکستان بلکہ اس پورے خطے کے امن سے جڑا ہے اور اگر افغانستان میں امن قائم ہوجاتا ہے تو پاکستان سے لے کر وسطی ایشیاء تک تجارت اور روز گار بے پناہ مواقع میسر آسکتے ہیں ، عمران خان نے اپنے خطاب میں قبائلی عوام کی قربانیوں کا خصوصی طور پر ذکر کیا اور کہا کہ قبائلی باشندوں نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی حفاظت کیلئے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا ہے ‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی باشندوں کو جن تکالیف اور دکھوں کا سامنا کرنا پڑا اور جن کرب ناک حالات سے گزرنا پڑا اس کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا لہذا ضروری ہے کہ قبائلی باشندوں کے ان دکھوں کو ازالہ کیا جائے اور انہیں ان کی قربانیوں کا صلہ دیا جائے ، انھوں نے اس موقعہ پر پی ٹی ایم کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پی ٹی ایم کے مطالبات جائز ہیں تاہم ان کا طریقہ کار غلط ہے ، انھوں نے کہا کہ قبائلی عوام کو فوج کے خلاف اکسا کر نہ پاکستان کی خدمت ہو سکتی ہے نہ قبائلی باشندوں کے مسائل حل ہو سکتے ہیں ،ہم نے آگے کی طرف دیکھنا ہے، قبائلی اضلاع کو اوپر اٹھانے کی حکمت عملی وضع کرنی ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پی ٹی ایم ہوش مندی سے کام لیتے ہوئے حکومت کے ساتھ ملکر قبائلی باشندوں کے زخموں پر مرہم رکھنے اور انکے مسائل و مشکلات حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے ۔

انہوں نے کہاکہ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ خیبر پختونخوا میں ضم شدہ قبائلی اضلاع کو تیز تر ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے ، ان علاقوں کے عوام کو پاکستان کے دیگر غریب اور پسماندہ لوگوں کے ساتھ اوپر اٹھایا جائے، انہوں نے کہاکہ حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرے گی ‘ بے روزگار نوجوانوں کو بلا سود قرضے فراہم کرے گی یہاں تعلیم اور صحت کی سہولتوں کو بہتر سے بہتر بنائے گی اور وہ ہر قدم اٹھائے گی جو قبائلی باشندوں کی فلا ح و بہبود ‘ بحالی اور ترقی کیلئے ضروری ہے ۔

انھوں نے کہا قبائلی اضلاع کے تما م خاندانوں کیلئے انصاف کارڈ کی فراہمی کو فیصلہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، انھوں نے کہا قبائلی اضلاع کی خواتین اگر کمپیوٹر کے جدید استعمال کی تربیت حاصل کر لیں تو گھروں میں بیٹھ کر اپنی روایات کو مقدم رکھتے ہوئے روزگار کے مواقع تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں،انھوں نے کہا کہ ضلع اورکزئی اور دیگر قبائلی اضلاع کو قدرت نے بے پناہ حسن دیا ہے انکی حکومت ان علاقوں میں سیاحت کو فروغ دیگی تاکہ یہاں کے باشندوں خصوصاًً نوجوانوں، انھوں نے کہا کہ دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے بھی انکے بچے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ بچے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ سائنس ، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں نام پیدا کریں اس لئے وہ ان مدارس کی تنظیموں کے ساتھ مشاورت سے ایسا لائحہ تیار کر رہے ہیں جو ان مدارس کے بچوں کے جدیدتعلیم و تربیت کے حصول کے قابل بنا سکے ، ان کیلئے روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو ۔

انہوں نے کہاکہ انہوں نے طور خم بارڈ کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کی ہدایت کی ہے تاکہ یہاں لوگوں کو کاروبار اور روزگار میں سہولت میسر آئے ۔عمران خان نے اس موقع پر جبہ ڈیم ‘ باڑہ ڈیم ‘ شلمان واٹر سپلائی سکیم اور باڑہ بائی پاس منصوبوں کے اجراء کا بھی اعلان کیا ۔ انہوں نے کہاکہ خیبر سے افغانستان تک اکنامک کوریڈور بنایا جائیگا تاکہ یہاں عوام کو روزگار اورتجارت کے مواقع مل سکیں ۔

انہوں نے کہاکہ وہ کوشش کرینگے کہ قبائلی اضلاع میں بجلی اور گیس کی سپلائی پوری طرح بحال ہو ۔ انہوں نے کہاکہ نوجوان آبادی کیلئے تعلیمی سہولیات میں اضافے کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے میدانوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جائیگا تاکہ یہاںموجود ٹیلنٹ کو ملکی کی سطح متعارف کیا جاسکے ۔ انہوں نے قبائلی عوام سے کہا کہ وہ قبائلی اضلاع خیبر پختونخوا میں انضمام کے راستے میں مشکلات کھڑی کرنے والے عناصر کی سازشوں سے ہوشیار رہیں اور ان کی سازشوں کو ناکام بنائیں ۔