بڑوں کی جنگ میں اسد عمر کو فارغ کر دیا گیا ، خورشید شاہ

شہریار آفریدی کو اعجاز شاہ کے کہنے پر ہٹایا گیا ، معیشت کی کمزوری حکومت کی ناکامی ہوتی ہے جو انارکی کا باعث بنتی ہے ،عوام کو براہ راست ناقابل تلافی کا نقصان ہوتا ہے ,تحریک انصاف سیاسی جماعت نہیں بلکہ مختلف جماعتوں کا مجموعہ ہے ، عبدالحفیظ کو کابینہ میں شامل کرنا پیپلزپارٹی کی مدد لینا ہے ، حکمرانوں کے حالات خراب کر دینے سے آئی ایم ایف کی شرائط سخت ہوں گی ،سابق اپوزیشن لیڈر کی صحافیوں سے گفتگو

جمعہ اپریل 19:40

بڑوں کی جنگ میں اسد عمر کو فارغ کر دیا گیا ، خورشید شاہ
سکھر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 19 اپریل2019ء) پیپلزپارٹی کے سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ 2 بڑوں کی جنگ میں اسد عمر کو ہٹا دیا گیا ہے اور اعجاز شاہ کے کہنے پر شہریار آفریدی کو ہٹایا گیا ۔ معیشت کی کمزوری حکومت کی ناکامی ہے اور معاشی ناکامی سے عوام کو ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے ۔ عمران خان خودکشی کے بیان سے حکومت دیر سے آئی ایم ایف کے پاس گئی ۔

عمران خان سے فضل الرحمان کے استعفے کا مطالبہ ٹھیک ہے ان ہاؤس تبدیلی ہو سکتی ہے ۔ وزیر اعظم نے عبدالحفیظ شیخ کو لے کر پیپلزپارٹی سے مدد لی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار خورشید شاہ نے سکھر میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اسد عمر کو معیشت کا کوئی تجربہ نہیں تھا اور وہ معیشت سمیت قرضوں کی صورت حال سے بخوبی آگاہ تھے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اسد عمر نے عوام کو پہلے تو سہانے خواب دکھائے لیکن اقتدار میں آتے ہی رونا شروع کر دیا ۔

لیکن حقیقت میں اسد عمر 2 بڑوں کی جنگ کا نشانہ بنے ہیں ۔ جس میں اسد عمر کو فارغ کر دیا گیا لیکن ہم حکومتی ناکامی پر سیاست نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ شہریار آفریدی کو بھی اعجاز شاہ کے کہنے پر ہٹایا گیا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ اسے لایا گیا ہے ۔ کیونکہ پی ٹی آئی میں تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان کو شامل کیا گیا ہے ۔

خورشید شاہ نے کہا کہ میں نواز شریف کو بھی کہتا تھا کہ پارلیمنٹ میں آؤ لیکن وہ نہیں آیا اور اب عمران خان کو بھی کہا کہ پارلیمنٹ میں آؤ لیکن وہ بھی نہیں آ رہا کیونکہ اس کے ذہن میں ابھی تک کنٹینر ہے اور ان کو یہ پتہ نہیں کہ جب سارے مسائل پارلیمنٹ آئیں گے تو ملک ترقی کرے گا ۔ نواز شریف نے بھی پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم نہیں کیا اور عمران خان کو بھی پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم نہیں کر رہے ۔

جس دن عمران خان پارلیمنٹ کی بالادستی کو قبول کر لیں گے اس دن تمام مسائل حل ہو جائیں گے ۔ایک سوال کے جواب میں خورشید شاہ نے کہا کہ معیشت کا کمزور ہونا حکومت کی ناکامی ہوتی ہے ۔ جس سے عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے حالانکہ حکومت کی ناکامیاں سب کو نظر آ رہی تھیں اور تبدیلی آنا ضروری تھی ۔ہم نے پہلے کہا تھا کہ معاشی حالات خراب ہیں مل کر حل کرنا ہوں گے ۔

تمام ملکی حالات میں حکومت کے ساتھ مل کر بات کی تھی ۔ لیکن بدقسمتی سے کان نہیں دھرے گئے ۔ جو حکومتیں معیشت کی وجہ سے ناکام ہوتی ہیں وہ انارکی کا خطرہ ہوتی ہیں ۔خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان کے خودکشی کے بیان سے حکومت دیر سے آئی ایم ایف کے پاس گئی ۔ اب حکمرانوں نے حالات خراب کر دیئے تو ایم آئی ایف کی شرائط سخت رکھے گا ۔ ہم نے اپنے دور میں مشکل حالات کے باوجود عوام کو ریلیف دیا ۔

ایک سوال کے جواب میں خورشید شاہ نے مزید کہا کہ عبدالحفیظ شیخ پیپلزپارٹی کے وزیر خزانہ رہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کو پیپلزپارٹی کی ضرورت پڑی ہے کیونکہ تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ اسے مختلف پارٹیوں کو جمع کر کے وجود میں لایا گیا ۔ اس حکومت میں حکمران محفوظ نہیں ہیں عمران خان سے فضل الرحمان کے استعفے کا مطالبہ بالکل ٹھیک ہے ان ہاؤس تبدیلی ہو سکتی ہے ۔ ۔