وزیراعظم کا افغانستان میں کینسر ہسپتال بنانے کا اعلان

عمران خان سے افغانی مریضوں کی ملاقات، افغان شہریوں کا افغانستان میں کینسرہسپتال بنانے کی خواہش کا اظہار، افغانستان کے حالات بہتر ہوئے توافغانستان میں بھی کینسرہسپتال تعمیرکروں گا۔ وزیراعظم عمران خان کی گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ اپریل 21:04

وزیراعظم کا افغانستان میں کینسر ہسپتال بنانے کا اعلان
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔19 اپریل 2019ء) وزیراعظم عمران خان نے افغانستان میں کینسر ہسپتال بنانے کا اعلان کردیا۔ انہوں نے افغانی مریضوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے حالات بہتر ہوئے توافغانستان میں بھی کینسر ہسپتال تعمیر کروں گا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے آج پشاور کا دورہ کیا ، وزیراعظم نے شوکت خانم ہسپتال پشاور کا بھی دورہ کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے شوکت خانم پشاور میں آج نئے شعبے کا افتتاح کیا۔وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ شعبہ کلینیکل اینڈ ریڈی ایشن آنکالوجی جدید سہولیات سے لیس ہے۔ پاکستان میں جدید آلات کی اس اہم سہولت پر فخر ہے۔افغانستان سے مریض علاج کیلئے شوکت خانم آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شوکت خانم پشاور کا تیسرا فیز 2020ء میں سرجیکل سہولیات شروع ہو جائیں گی۔

(جاری ہے)

وزیراعظم عمران خان سے دورہ شوکت خانم کے موقع پر افغانی مریضوں نے بھی ملاقات کی۔جس میں افغان شہریوں نے افغانستان میں کینسرہسپتال بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ افغان شہریوں نے وزیراعظم عمران خان سے کہا کہ آپ سے ملاقات کو خوش قسمتی سمجھتے ہیں۔ اس موقع پروزیراعظم عمران خان نے افغانستان میں کینسر ہسپتال بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے حالات بہتر ہوئے توافغانستان میں بھی کینسر ہسپتال تعمیر کروں گا۔

واضح رہے آج وزیراعظم عمران خان نے اورکزئی ایجنسی کا بھی دورہ کیا اور وہاں عوامی جلسے سے خطاب بھی کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقے میں فوج بھیجنے کا اس حکمران کا قصور تھا جس نے امریکا کے کہنے پر پاکستانی فوج کواس علاقے میں بھیجا۔فوج بھیجنے سے ہمارے نوجوان بھی شہید ہوئے ، قبائلی علاقوں بارے بہت بعد میں پتا چلا، لوگوں کو پتا نہیں تھا کہ قہاں کیا ہورہا ہے، میں جانتا ہوں کہ قبائلی علاقے کے لوگوں کو کس طرح نقل مکانی کرنی پڑی، میں جانتا ہوں کہ جب قبائلی لوگ اپنی خواتین کو دوسری جگہوں پر لے کرجانا پڑا،ان کو کس طرح کی مشکلات کا سامنا تھا، انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقے کی جو مجھے سمجھ ہے وہ کسی وزیراعظم کو نہیں ہے اسی لیے کوئی وزیراعظم قبائلی علاقے میں اتنی جگہوں پر نہیں آیا جتنا میں آیا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان قبائلیوں کی قربانیوں کو نہیں بھولے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہماری ایک تنظیم پی ٹی ایم ہے ، وہ پٹھانوں کی بات کررہی ہے، وہ بات ٹھیک کرتے ہیں، لوگوں کو نقل مکانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جب جنگ ہوتی ہے توبے قصور لوگ بھی مارے جاتے ہیں۔ میں قبائلیوں سے کہتا ہو ں کہ پی ٹی ایم کے لوگ بات ٹھیک کرتے ہیں لیکن ان کا لہجہ ملک کیلئے ٹھیک نہیں ہے۔

اس وقت لوگوں کو فوج کے خلاف کرنا، نعرے لگانا ، اس سے پاکستان کو فائدہ نہیں ہوگا، لیکن آج ہم نے لوگوں کے حالات ٹھیک کر نے ہیں، بچوں کو تعلیم دینی ہیں، نوکریاں دینی ہے،انہوں نے کہا کہ لوگوں کے دکھ درد پر نمک چھڑک کربھڑکانا، پھرت حل پیش نہ کرنا، حل یہ ہے کہ لوگوں کی مدد کریں، پیسے دیں، مرہم پٹی کریں، پیسے دیں تاکہ اپنے گھر ٹھیک کریں، کاروبار چلائیں، خیبرپختونخواہ حکومت قبائلیوں کی مدد کرے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے اس علاقے کو کہ اللہ نے اورکزئی کو کتنی خوبصورت جگہ دی ہے۔ ہماری حکومت نے ٹورازم فروغ کا فیصلہ کیا ہے۔ سیاحت سے نوکریاں پیدا ہوتی ہیں، کاروبار چلتا ہے۔