چیئرمین اعلیٰ تعلیمی کمیشن ڈاکٹر طارق بنوری کی زیر صدارت اعلیٰ تعلیمی کمیشن کا خصوصی اجلاس

جمعہ اپریل 23:36

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 اپریل2019ء) اعلیٰ تعلیمی شعبے کو درپیش معاشی بحران کی پیچیدگیوںبالخصوص مالی سال 2019-20 کے بجٹ کے حوالے سے سامنے آنے والے اعداد کا جائزہ لینے کے لئے چیئرمین اعلیٰ تعلیمی کمیشن (ایچ ای سی)ڈاکٹر طارق بنوری کی زیر صدارت جمعہ کے روز اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے خصوصی اجلاس کا انعقاد کیا گیا ۔اجلاس میں شمس قاسم لاکھا، ڈاکٹر فیصل باری، پروفیسر نثار صدیقی، ڈاکٹر نوید ملک، انجینئر احمد فاروق بازئی ، ڈاکٹر جاوید اقبال، ڈاکٹر بھوانی شنکر چوہدری، وفاقی سیکرٹری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور صوبائی حکومتوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

کمیشن کو آگاہ کیا گیا کہ مالی سال 2019-20ء اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ریکرنگ بجٹ کا مطالبہ 103.550ارب روپے جبکہ ترقیاتی بجٹ کا مطالبہ 55ارب روپے تھا ، تاہم اس شعبے کو 50فیصد کٹوتی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔

(جاری ہے)

اگر یہ بات سچ ثابت ہوتی ہے تو اعلیٰ تعلیم کی فراہمی اور تحقیقی کام میں بے انتہا خرابی اور انتشار واقع ہو سکتا ہے۔ کمیشن نے اِن خدشات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور زور دیا کہ اعلیٰ تعلیمی شعبے کو مناسب وسائل کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

کمیشن نے چیئرمین کو ہدایت کی کہ شعبے کے بجٹ کے متبادل تناظر کی حساسیت کا تجزیہ کرائیں تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ ضروری پروگراموں خصوصاًً وہ پروگرام جو ملک میں انڈرگریجویٹ تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہیں میں بگاڑ نہ آسکے۔کمیشن نے وائس چانسلرز سے استدعا کی کہ وہ اعلیٰ استعداد کار اور شفافیت کے لئے کام کریں اور کفایت شعاری پر مبنی اقدامات کی نشاندہی کریں جس سے وسائل کے درست استعمال کو یقینی بنایا جاسکے۔

کمیشن نے فیصلہ کیا کہ ہائیر ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کو فعال بنانے کے کام تیز کیا جائے تاکہ شفافیت اور مستعدی کو یقینی بنایا جاسکے۔ کمیشن نے چیئرمین کو ہدایت کی کہ اعلٰی تعلیمی شعبے کے لئے فنڈاکٹھے کرنے کا پروگرام ترتیب دیا جائے جس میں فارغ التحصیل طلباء ، مخیر حضرات اور انڈسٹری کو متحرک کرنے کے ساتھ ساتھ غیر ملکی طلباء کو پاکستان میں حصول تعلیم کے لئے مائل کرنا شامل ہو۔

کمیشن نے چیئرمین سے درخواست کی کہ وزیر اعظم، وزیر خزانہ اور حکومت کے دیگر سینئر عہدہ داران کے ساتھ کمیشن کے اراکین کی ملاقاتوں کا انتظام کریں ۔ آخر میں کمیشن نے چیئرمین کو ہدایت کی کہ وہ صوبائی حکومتوں سے اعلیٰ تعلیمی شعبے کی معاونت کا درخواست کریں اور جامعات کے لئے اضافی وسائل کی فراہمی پر غور کیا جائے۔