پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی وزیراعظم نے اپنے ذاتی مفادات کو قربان کرتے ہوئے ملکی مفادات کو ترجیح دی

ہے اور ملک و قوم کی وسیع تر مفاد میں وزراء کے محکموں کو تبدیل کیا ہے، ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم عمران خان کوئی بھی اقدام اٹھانے کو تیار ہیں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

جمعہ اپریل 23:51

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی وزیراعظم نے اپنے ذاتی مفادات کو ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 اپریل2019ء) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی وزیراعظم نے اپنے ذاتی مفادات کو قربان کرتے ہوئے ملکی مفادات کو ترجیح دی ہے اور ملک و قوم کی وسیع تر مفاد میں وزراء کے محکموں کو تبدیل کیا ہے، ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم عمران خان کوئی بھی اقدام اٹھانے کو تیار ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پارٹی میں گروپ بندی کے حوالے سے افواہوں کو رد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت میں کسی قسم کی کوئی گروپ بندی نہیں ہے بلکہ ہماری جماعت میں مکمل جمہوریت ہے اور کابینہ کے اجلاسوں میں ہر کسی کی رائے کا مکمل احترام کیا جاتا ہے، رائے کا فرق ہر جگہ موجود ہوتا ہے جو جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔

(جاری ہے)

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تبدیلی تو ہمیشہ ہی اچھی ہوتی ہے اور پھر وہ تبدیلی جس کا مقصد ملک و قوم کا مفاد اور بہتری ہو وہاں تبدیلی ناگزیر ہے جس سے بالکل بھی ہچکچانا نہیں چاہیئے بلکہ ایسی تبدیلی ضرور ہونی چاہیئے، ویسے بھی یہ تبدیلیاں کوئی پہلی مرتبہ تو ہوئی نہیں بلکہ ہر حکومت یہ تبدیلیاں کرتی آئی ہے، کچھ وزیراعظم بھی چور دروازے سے تبدیل ہوئے کیونکہ ان کی قیادت انہیں بدلنا تو چاہتی تھی لیکن ان کی اتنی ہمت اور جرات نہیں تھی کہ وہ انہیں براہ راست تبدیل کریں اس لیے کسی نہ کسی چور دروازے کے ذریعے کچھ وزراء ا عظم بھی تبدیل کیے گئے لیکن موجودہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے ڈنکے کی چوٹ پہ جرات اور ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی قسم کے سیاسی سمجھوتے کے بغیر ملک و قوم کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے براہ راست مثبت اقدامات اٹھائے، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ملک کے وزیراعظم نے ملک و قوم کے مفادات پر اپنے شخصی و ذاتی تعلقات کو قربان کیا اور کارکردگی کی بنیاد پر تبدیلیاں کیں جس کے مثبت نتائج برآمد ہونگے، اس کے علاوہ یہ ان لوگوں پر بھی بہت بڑی اور اہم ذمہ داری ہے جن پر وزیراعظم عمران خان نے اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ میں وزیراعظم عمران خان کے مجھ پر اعتماد کرنے پر ان کی شکر گزار ہوں اور انہوں نے مجھ پر جو ذمہ داری سونپی ہے میں اسے نبھانے کی پوری پوری کوشش کروں گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میڈیا کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کیے جائیں گے اور وزرات اطلاعات کے ساتھ منسلک محکموں اور ذرائع ابلاغ کو ان کے حقوق دئیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ چوہدری فواد حسین نے مشکل حالات میں وزارت اطلاعات کو سنبھالا اور بھرپور کوشش بھی کی لیکن میڈیا مینجمنٹ بھی ایک بہت بڑا اپ ہل ٹاک ہے جو مصروفیت مانگتا ہے، اونرشپ مانگتا ہے، پارٹنرشپ مانگتا ہے، معلومات تک رسائی مانگتا ہے اور قیادت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ رابطے مانگتا ہے جو انشااللہ اب ملے گا اور سب سے اہم چیز یہ ہو گی کہ ہم میڈیا کے ساتھ پارٹنرشپ کے طور پر کام کریں گے اور میڈیا کے حقوق واضح ہیں جنہیں وزیراعظم پاکستان عمران خان مانتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں، جو خلا پیدا ہو چکا تھا اس کو پر کریں گے، ہم ایک ٹیم کے طور پر کام کریں گے کیونکہ کوئی بھی کام اکیلے نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی سولو فلائٹ کسی کے لیے سود مند ثابت ہو سکتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اسد عمر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ بہت محنتی اور قابل شخص ہیں جن کی جماعت کے لیے بہت اہم خدمات ہیں، جنہوں نے بطور وزیر خزانہ بہت اچھا کام کیا لیکن عالمی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ ضرورت بن گئی تھی کہ ایک ایسا ماہر وزیر خزانہ لایا جا ئے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ پارٹنرشپ قائم کرے اس لیے وزیراعظم عمران خان نے انہیں پورٹ فولیو تبدیل کرنے کے لیے آپشن بھی دئیے، سابق وزیر خزانہ پر استعفیٰ کے لیے کسی قسم کا کوئی دبائو نہیں تھا، اسد عمر پاکستان تحریک انصاف کے سرگرم رکن رہیں گے۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق ہر شخص کو کارکردگی دکھانی ہے جو کارکردگی دکھائے گا وہی عہدے پر رہے گا کیونکہ کوئی بھی شخص یا عہدہ عوامی مفاد سے بالاتر نہیں ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سمیت پرویز مشرف نے بھی معیشت کو فروغ دینے کے لیے ٹیکنوکریٹس کی خدمات حاصل کیں۔