عملی طور پر پاکستان میں صدارتی نظام نافذ ہو چکا ہے

وزیراعظم کی جانب کابینہ میں کی گئی حالیہ تبدیلیوں میں غیر منتخب لوگوں کو حکومت کا حصہ بنایا گیا، اپنی مرضی کی غیر منتخب لوگوں کی ٹیم کا چناو صدارتی نظام میں ہوتا ہے، حالیہ اقدامات کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں عملی طور پر صدارتی نظام نافذ ہوگیا ہے: سینئر صحافی و تجزیہ کار کامران خان

muhammad ali محمد علی جمعہ اپریل 23:39

عملی طور پر پاکستان میں صدارتی نظام نافذ ہو چکا ہے
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2019ء) معروف و سینئر صحافی کامران خان کے مطابق عملی طور پر پاکستان میں صدارتی نظام نافذ ہو چکا ہے، وزیراعظم کی جانب کابینہ میں کی گئی حالیہ تبدیلیوں میں غیر منتخب لوگوں کو حکومت کا حصہ بنایا گیا، اپنی مرضی کی غیر منتخب لوگوں کی ٹیم کا چناو صدارتی نظام میں ہوتا ہے، حالیہ اقدامات کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں عملی طور پر صدارتی نظام نافذ ہوگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ایک روز کے دوران وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کل 9 وفاقی وزارتوں میں تبدیلیاں کی ہیں۔ سب سے بڑی تبدیلی وزارت خزانہ میں کی گئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اسد عمر کو برطرف کرکے ایک غیر منتخب شخصیت، سابق وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو مشیر خزانہ تعینات کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

وزیراعظم عمران خان نے حفیظ شیخ کے علاوہ دیگر کئی غیر منتخب افراد کو اپنی کابینہ میں شامل کر لیا ہے۔ اس حوالے سے سینئر صحافی و تجزیہ کار کامران خان کی جانب سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر دیکھا جائے گا تو ایک روز کے دوران کیے جانے والے فیصلوں کے بعد ملک میں عملی طور پر صدارتی نظام نافذ کر دیا گیا ہے۔ اپنی مرضی کی غیر منتخب لوگوں کی ٹیم کا چناو صدارتی نظام میں ہوتا ہے۔ وزیراعظم کی جانب کابینہ میں کی گئی حالیہ تبدیلیوں میں غیر منتخب لوگوں کو حکومت کا حصہ بنایا گیا ہے۔ حالیہ اقدامات کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں عملی طور پر صدارتی نظام نافذ ہوگیا ہے۔