پنجاب حکومت اور بیوروکریسی میں کوآرڈینیشن کا فقدان

ایک ہی تاریخ میں ایک ادارے کے دو سربراہ تعینات کر دئے گئے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ اپریل 11:20

پنجاب حکومت اور بیوروکریسی میں کوآرڈینیشن کا فقدان
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 20 اپریل 2019ء) : پنجاب حکومت اور بیوروکریسی میں کوآرڈینیشن کا فقدان سامنے آ گیا ۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب میں ایک ہی تاریخ میں ایک ہی ادارے کے دو سربراہ تعینات کر دئے گئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور چیف سیکرٹری نے اپنا اپنا چئیرمین ٹیوٹا لگا دیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے فرحت عباس جبکہ چیف سیکرٹری نے طاہر خورشید کوٹیوٹا کا نیا سربراہ لگا دیا۔

اس سے قبل چھ سے سات ماہ تک ٹیوٹا کا کوئی چئیرمین نہیں تھا لیکن گذشتہ روز ایک ہی دن میں دو افراد کو ٹیوٹا کا چئیرمین تعینات کر دیا گیا جو پنجاب حکومت اور بیوروکریسی میں رابطوں کے فقدان کا ثبوت ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بیوروکریسی اور پنجاب حکومت میں رابطوں کے فقدان کی کئی کہانیاں سامنے آتی رہیں ہیں۔

(جاری ہے)

کچھ اطلاعات کے مطابق پنجاب کی بیوروکریسی صوبائی حکومت سے ناخوش ہے اور بیوروکریسی کو پنجاب حکومت پر کئی تحفظات ہیں یہی وجہ ہے کہ پنجاب حکومت اور بیوروکریسی کی آپس میں باقاعدہ کوآرڈینیشن نہیں ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے وزرا اور ارکان اسمبلی نے پنجاب کی بیوروکریسی کے خلاف شکایات کے انبار بھی لگا رکھے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے وزراورارکان اسمبلی بیوروکریسی سے تنگ آگئے، صوبائی وزرانے کہا کہ اپنی وزارتو ں میں فائلیں مانگنے پر بھی نہیں دی جاتیں۔ صوبائی ارکان نے شکایت کی کہ چیف کمشنرزسمیت سرکاری افسران ہماری مخالفت کرتے ہیں، حلقے کے عوام مہنگائی سے متعلق سوال کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے بلدیاتی انتخابات کے مسودہ پرارکان کواعتماد میں لیا تھا۔ واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد سے ہی پنجاب کی حکومت مشکلات کا شکار رہی ہے۔